جہانگیر کے دور میں ریاست کا مذہبی ڈھانچہ
شہنشاہ جہانگیر کے دور میں مذہبی آزادی صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر محمد نور الدین جہانگیر، مغل سلطنت کے چوتھے شہنشاہ ، کا شمار ہندوستان کے ان حکمرانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی حکمرانی کے دوران مذہبی رواداری اور انصاف کے اصولوں کو فروغ دیا۔ ان کے دورِ حکومت (1605-1627) کو ایک ایسے وقت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ریاستی سطح پر مساوی حقوق فراہم کیے گئے اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ جہانگیر کے خیالات اور پالیسیاں، جیسا کہ ان کی یادداشتوں تزک جہانگیری میں موجود ہیں، ایک ایسے حکمران کی عکاسی کرتی ہیں جو ذاتی طور پر ایک مخلص مسلمان تھا لیکن اپنی ریاستی پالیسیوں میں مذہبی عقائد کو بنیاد بنانے سے گریز کرتا تھا۔ انہوں نے اللہ کے شکر گزار رہتے ہوئے اپنی فتوحات کو "اسلام کی کامیابیاں" قرار دیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے فرامین اور اقدامات واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ کسی بھی قسم کے امتیاز کی حوصلہ شکنی کی۔ جہانگیر کا مذہبی رویہ اور آزادی جہانگیر کی والدہ ایک ہندو راجپوت تھیں، اور اس پس منظر...