Posts

Showing posts from November, 2025

ابراہم لنکن کا اپنے بیٹے کے استاد کے نام خط, صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
 “ابراہم لنکن سے منسوب ایک مشہور خط —  (نوٹ: مورخین کے مطابق اس خط کی اصل موجود نہیں، مگر اس کے الفاظ حکمت اور تربیت سے بھرپور ہیں، اسی لیے اسے تعلیمی و اخلاقی پیغام کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔) ________ استادِ محترم! میرا بیٹا آج آپ کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ یہ ایک نیا سفر ہے—ایک ایسا سفر جو دنیا کی کروڑوں حقیقتوں سے اسے روشناس کرائے گا۔ میں جانتا ہوں کہ اسے یہ سیکھنا پڑے گا کہ ہر انسان عادل نہیں ہوتا، ہر شخص سچّا نہیں ہوتا۔ لیکن، مہربانی فرما کر اسے یہ بھی سکھائیے گا کہ ہر بدطینت آدمی کے مقابلے میں ایک نیک دل انسان موجود ہوتا ہے، ہر خود غرض سیاستدان کے سامنے ایک سچّا اور مخلص رہنما بھی کھڑا ہوتا ہے، اور ہر دشمن کے مقابل کسی نہ کسی گوشے میں ایک دوست بھی مل جاتا ہے۔ اسے سکھائیے کہ ہار مان لینا آسان ہے، مگر جینے کا اصل سلیقہ اُن لوگوں کے پاس ہوتا ہے جو مشکلات سے لڑنا جانتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانے کہ دنیا دھوکے بھی دیتی ہے، مگر اسی دنیا میں وہ لوگ بھی ہیں جو دوسروں کے لیے دیوارِ سایہ بن کر کھڑے رہتے ہیں۔ اسے کتابوں کی دنیا سے محبت پیدا کرنا سکھائیے، لیکن ساتھ یہ بھی ضرور سکھائیے کہ قدرت ...

دھرمندر, — بچپن کی یادوں کی فریمنگ کا اہم کردار,زابر سعید بدر

Image
 دھرمندر — بچپن کی یادوں کی فریمنگ کا اہم کردار صاحب زادہ زابرسعیدبدر   ہندی سینما کے آسمان پر کبھی ایک ایسا ستارہ چمکا تھا جس کی چمک میں معصومیت بھی تھی، وقار بھی، ہیرو ازم بھی تھا اور انسان دوستی کی خوشبو بھی۔ یہ ستارہ دھرمندر تھا— وہ شخص جسے عوام نے صرف پردے کا ہیرو نہیں کہا، بلکہ اپنا کہا، اپنوں کا کہا۔ پنجاب کے ایک چھوٹے سے قصبے میں استاد کے گھر پیدا ہونے والا یہ لڑکا بڑی آنکھوں میں ایک سادہ سا مگر مضبوط خواب لے کر چلا تھا— فلمی پردے پر وہی کر دکھانے کا جو ایک دور میں دلیپ کمار، دیو آنند اور راج کپور کیا کرتے تھے۔ دنیا نے دیکھا کہ یہ خواب صرف پورا نہیں ہوا، بلکہ ایک ایسی رنگین حقیقت میں ڈھلا کہ دھرمندر نصف صدی تک اسی بڑے پردے کی دھڑکن بنے رہے۔ اس کی آنکھوں میں وہ بھولا پن تھا جو کردار نہیں، شخصیت کی پہچان ہوتا ہے۔ اُن کی مسکراہٹ میں وہ مٹھاس تھی جو کسی آرٹسٹ کی ریہرسل سے نہیں آتی— وہ تو فطرت بطور تحفہ دیتی ہے۔ اور ان کی عاجزی… وہ تو گویا ان کی ذات کا زیور تھی۔ عزت، شہرت، طاقت… سب کچھ مل جانے کے بعد بھی وہ دھرمندر کبھی دھرمندر صاحب نہ بنے— ہمیشہ دھرم پا جی ہی رہے۔ فول اور ...

حالیہ ضمنی انتخابات ایک جائزہ صاحبزادہ زابر سعید بدر

Image
 "حقیقت کی دھند میں مدہم ہوتا سچ    پاکستانی ووٹر کا شعوری المیہ" ـــــــــــــــــ صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر  پاکستان کے حالیہ ضمنی انتخابات نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال زندہ کر دیا ہے کہ سچ کیا ہے، اور سچ کا معیار کون طے کرے؟‎‏‎ سیاست کے منظرنامے پر کھڑی دونوں بڑی جماعتیں—مسلم لیگ (ن) اور تحریکِ انصاف—ہر ایک اپنی اپنی کہانی کو اصل حقیقت قرار دے رہی ہیں، اور عوام دو متوازی بیانیوں کے بیچ معلق ہیں۔‎‏‎ جب واقعات ایک ہوں مگر تعبیرات دو، تو سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ سچ کہاں ہے اور کیا واقعی سچ بھی اضافی (relative) ہو سکتا ہے؟ مسلم لیگ (ن) اپنی جیت کو عوامی اعتماد اور کارکردگی کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔‎‏‎ وہ سمجھتے ہیں کہ ترقیاتی کام، انتظامی گرفت اور سیاسی بیانیہ انہیں کامیابی کی طرف لے گئے۔ ان کے نزدیک یہ نتائج حقیقت کی سیدھی، واضح اور ناقابلِ انکار تصویر ہیں۔‎‏‎ دوسری طرف تحریکِ انصاف ایک ایسی جماعت ہے جو برسوں سے اس یقین میں ڈوبی ہے کہ اسے کبھی عوام نہیں ہراتے، اسے صرف “ہرایا جاتا ہے”۔ چنانچہ ان کی نظر میں یہ انتخابات بھی اسی “منصوبہ بند” ظلم و جبر ...

"لیڈر" کے کردار کی اہمیت, ایک جائزہ, صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
تجزیہ ______ لیڈر کا باکردار ہونا کیا اس کا ذاتی معاملہ ہے؟ صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر   لیڈر کا کردار ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ معاشرے میں جب کوئی شخص غیر معمولی مقناطیسیت رکھتا ہو، خوبصورت ہو، نڈر ہو یا اس کے الفاظ میں ایسا طلسم ہو جو عام آدمی کے دل میں سیدھا اتر جائے، تو لوگ اس کی زندگی کے کچھ پہلوؤں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ کوئی آج کی بات نہیں؛ انسانی ذہن صدیوں سے اسی کمزوری کا شکار رہا ہے۔ دنیا کے بڑے سماجی مفکر Max Weber نے جسے “Charismatic Authority” کہا، وہی حقیقت آج بھی ہمارے سامنے پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔ جب کوئی شخصیت کرزما سے لبریز ہو تو لوگ اس کے اردگرد ایک تقدس کی فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ پھر اس کے الفاظ دلیل مان لیے جاتے ہیں اور اس کے اعمال جواز بن جاتے ہیں۔ شخصیت کا کرزما کردار کے نقائص پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان کا دماغ اپنے پسندیدہ رہنما کی غلطیوں کو آسانی سے قبول نہیں کر سکتا۔ جب کسی لیڈر کے بارے میں اخلاقی تنازعات یا ذاتی کمزوریاں سامنے آئیں تو دماغ میں ایک ٹکراو پیدا ہوتا ہے—جسے ماہرین نفسیات “Cognitive Dissonance” کہتے ...

جمال الدین افغانی یا سر سید احمد خان, فیصلہ اب ہو جائے, زابر سعید بدر

Image
جمال الدین افغانی یا سر سید احمد خان فیصلہ اب ہو جائے صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   style="text-align: center;"> جب کوئی بھی فرد یا ادارہ اپنی معین حدود سے تجاوز کرتا ہے جیسا ہمارے یہاں ہوا...  میڈیا کو آزادی ملی لیکن شتر بے مہار ہو گیا..  عدلیہ کے لیے جسٹس افتخار کے لیے سارے قوم نے آمر سے ٹکر لی  لیکن ہوا کیا... جوڈیشل ایکٹوزم نامی اصطلاح متعارف ہو گئی...  پارلیمنٹ کا بھرم ٹوٹنے لگا جس ادارے سے سارے ادارےوجود میں آئے اسی کے فیصلے ایک شخص/فرد واحد چیلنج کرنے لگا...  یعنی جمہوریت کا تاج ہے پارلیمنٹ اس کا متفقہ فیصلہ بے توقیر ہونے لگا...  گڈ ٹو سی یو.... نے اپنا مزاق خود ہی بنا دیا...  جمہوری معاشرہ ہمارے یہاں موجود نہیں ہے. اس کے لیے نسلوں کی وراثت اور برسوں کا تدبر درکار ہوتا ہے.  بدقسمتی سے  1958  ,1969 ,1977 ,1999 یہ ادوار جمہوریت کی شہادت کے ہیں...  پاکستان کے لیے اب امریکہ یا یورپین جہموری ماڈل جیسا ہے کی بنیاد پر ممکن نہیں.  آئیڈیل اپروچ سے باہر آنا ہو گا.. ریڈی میڈ نہیں بل کہ اپنا ناپ دینا ہو گا تاکہ درست فٹنگ ہو....

بدتہذیبی: ایک نفسیاتی اور سماجی بحران، زابر سعید بدر

Image
  بدتہذیبی: ایک نفسیاتی اور سماجی بحران صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   بدتہذیبی انسانی ارتقا کے ان اوائل دور کی یادگار ہے جب انسان ابھی شعور کے منازل طے کر رہا تھا؛ جب انسان خوراک کے ایک ٹکڑے کے لیے شاید لڑ پڑتا تھا، قتل کر ڈالتا تھا۔ اس کے بعد قبائل کا سلسلہ شروع ہوا — تو ابھی بھی جو کلٹ سسٹم ہے وہ اس دور کی یادگار کہا جا سکتا ہے۔ یعنی جو لوگ بھی کسی شخصیت پرستی کا شکار ہوتے ہیں، کلٹ کا شکار ہوتے ہیں یا بدتہذیبی کرتے ہیں، ان کا ذہنی ارتقا — بھلے انہوں نے دنیاوی ڈگریوں کا تاج پہنا ہو — لیکن شعوری سطح پر کسی نفسیاتی بیماری کی وجہ سے سماج کے ابتدائی ارتقا کے دور میں موجود ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کو معاشرتی بیمار کہا جا سکتا ہے؛ یہ ایک سوشل ڈیزیز بھی ہے۔ ان کا باقاعدہ کسی نفسیاتی ہسپتال میں علاج بہت ضروری ہے۔ یہ بظاہر ہمارے اردگرد مختلف صورتوں اور حالتوں میں نظر آتے ہیں: یہ ماں باپ بھی ہو سکتے ہیں، یہ بہن بھائی بھی ہو سکتے ہیں، یہ دوست احباب بھی ہیں یا اساتذہ بھی ہیں، یہ سٹوڈنٹس بھی ہیں، یہ خاوند بیوی بھی ہیں، یہ سیاستدان بھی ہو سکتے ہیں، وکیل بھی ہو سکتے ہیں، ڈاکٹر بھی ہو سکتے ہیں...

زہران ممدانی کی جیت ایک کھلے سماج کی جیت ہے، زابر سعید بدر

Image
  شاباش امریکہ صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر صدر ٹرمپ اور ایلون مسک کی جانب سے مخالفت کے باوجود مسلم امیدوار ظہران ممدانی نیویارک شہر کے میئر منتخب ہوگئے۔ یہ خبر آج دنیا کے سارے میڈیا میں نمایاں ہے، لیکن سماجی علوم کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں اس فتح کو امریکی سماج کے نام کرتا ہوں کہ انہوں نے اپنے اندر اتنی وسعت پیدا کی کہ ایک مسلمان کو کھلے دل کے ساتھ نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے منتخب کیا، جبکہ امریکی صدر اور ایک طاقتور شخص ایلون مسک اس کے خلاف تھے۔ ظہران کی کامیابی ہمیں کھلے معاشروں کے فوائد کا بھی دیدار کرواتی ہے کہ کہاں ہمارے بند معاشرے، کہ ہم کن بحثوں میں پڑے ہیں، سانس کسی کو دینے کے لیے بھی گویا احسان کرتے ہیں۔ امریکی معاشرہ ہمیں ایک ایسا معاشرہ نظر آتا ہے جو خدا کی پلاننگ کے مطابق ہے کہ سب کو جینے کا حق دو، سوچنے کا حق دو، کہنے کا حق دو۔ کبھی آپ تصور کیجیے کہ ہمارے پاکستان، انڈیا اور ایسے ہی ممالک میں اس قسم کی کامیابی کا کوئی تصور بھی کیا جا سکتا ہے؟ اس لیے میں کہہ رہا ہوں کہ یہ ظہران ممدانی کی کامیابی نہیں بلکہ امریکی معاشرے کی کامیابی ہے، ان کی لبرٹی کی کامیابی ہے۔...