Posts

Showing posts from 2026

پروپیگنڈہ جنگ میں ایران کی امریکہ پر برتری, زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز

Image
  پروپیگنڈا وارفیئر میں ایران کی سبقت [مصنوعی ذہانت کو ہتھیار بنا کر سپر پاور کے بیانیے کو چیلنج ] حالیہ شمارے میں عالمی شہرت یافتہ جریدے The Economist نے ایک غیر معمولی دعویٰ کیا ہے: ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی پروپیگنڈا وارفیئر میں ایران، امریکہ پر سبقت لے گیا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک گہرا میڈیا تجزیہ ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک نسبتاً محدود وسائل رکھنے والی ریاست نے جدید ٹیکنالوجی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے عالمی بیانیے کی جنگ میں اثر پیدا کیا۔ 📗ZIMS زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی  اسٹڈیز کی پیشکش میڈیا اسٹوڈنٹس کے لیے رہنمائی زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کی جانب سے یہ تجزیہ میڈیا کے طلبہ کے لیے پیش کیا جا رہا ہے تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ دنیا کا ایک معتبر جریدہ کس طرح امریکی اے آئی ماہرین اور پالیسی سازوں پر تنقید کر رہا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ: کیسے ایران جیسے ملک نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں پروپیگنڈا وارفیئر کے ذریعے ایک بڑی طاقت کے بیانیے کو چیلنج کر دیا؟ 📗ZIMS یہ مطالعہ اس لیے اہم ہے کہ آج کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں ن...

ڈوپامائن دماغ کو فریب کیسے دیتا ہے صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  دور کے ڈھول سہانے کیوں لگتے ہیں؟ [ دماغ ہمیں فریب کیسے دیتا ہے زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز ] 📗ZIMS یہ صرف کہاوت نہیں، انسانی دماغ کا ایک گہرا فریب ہے۔ انسان کو ہمیشہ وہ چیز بہتر لگتی ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی۔ یہ احساس حقیقت نہیں بلکہ ذہنی دھوکہ ہوتا ہے۔  📗ZIMS دماغ میں ایک کیمیائی نظام کام کرتا ہے جسے خوشی کا پیغام رساں کہا جا سکتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے سائنس دان وولفرم شلٹز نے اپنے تجربات میں بتایا کہ یہ کیمیکل اصل خوشی پر نہیں بلکہ “امید” پر زیادہ خارج ہوتا ہے۔ یعنی نئی چیز دیکھ کر دماغ پہلے ہی خوشی کا سگنل دے دیتا ہے، چاہے وہ چیز بعد میں اتنی اچھی نہ نکلے۔  📗ZIMS ایک اور اہم نظریہ برک مین اور کیمبل کا ہے، جسے “عادت کا پہیہ” کہا جاتا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق انسان کسی بھی اچھی چیز کا جلد عادی ہو جاتا ہے۔ گھر کی دال روز ملتی ہے، اس لیے عام لگتی ہے۔ باہر کی مرغی کبھی کبھار ملتی ہے، اس لیے خاص محسوس ہوتی ہے—حالانکہ حقیقت میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔  📗ZIMS سماجی موازنہ بھی ایک بڑا سبب ہے۔ ماہرِ نفسیات لیون فسٹنگر نے اپنے تجربات میں ثابت کیا ...

مغلوں نے آخر ہمارے لیے کیا کیا اکانومسٹ کی رپورٹ, زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز

Image
    مغلوں نے ہمارے لیے آخر کیا کیا؟ مغل سلطنت کے قیام کی سال گرہ کو 500 برس مکمل ہونے  پر  اکانومسٹ کی ہے زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز کی پیشکش   انڈیا کی عظیم ترین مسلم سلطنت نے اس کے طاقتور ترین ہندو سیاسی دھڑے کو کیسے تشکیل دیا تقریروں میں چاہے وہ اپنے حامیوں سے ہوں، پارلیمان میں ہوں یا پوری قوم سے نریندر مودی بارہا بھارت کی صدیوں پر محیط غلامی کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔ ۲۰۱۴ میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ “بارہ سو برس کی غلامی کی ذہنیت آج بھی ہمیں جکڑے ہوئے ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذرا سی بھی بلند حیثیت رکھنے والے شخص سے گفتگو کرتے وقت ہمارے لیے سر اٹھا کر بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔” اس شکوے کا اصل ہدف وہ مسلم سلطنتیں ہیں جو برطانوی نوآبادیاتی دور سے پہلے یہاں قائم رہیں۔ ZIMS📗 ان میں مغل سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والی سلطنت تھی۔ ۲۱ اپریل کو پانی پت کی پہلی جنگ کو ٹھیک پانچ سو برس مکمل ہوئے، جب بابر—جو تیمور اور چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھنے والا ایک وسطی ایشیائی فاتح تھا (اسی نسبت سے “مغل”، جو “منگول” سے ما...

وقت کی بازگشت: آئن سٹائن کا خط, صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 وقت کی بازگشت: آئن سٹائن کا خط صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر  اپریل 1948 کی ایک شام تھی۔ دنیا ابھی دوسری جنگِ عظیم کے زخم سہلا رہی تھی، اور انسانیت اپنی ہی بنائی ہوئی تباہی کے ملبے سے راستہ تلاش کر رہی تھی۔ ایسے میں ایک شخص، جو کائنات کے راز کھولنے میں مصروف رہتا تھا، اچانک زمین کے ایک ٹکڑے کی طرف متوجہ ہوا۔ یہ شخص تھا ڈاکٹر البرٹ آئن سٹائن ۔ اس نے ایک خط لکھا الفاظ کم تھے، مگر وزن بہت تھا۔ یہ خط محض سیاست نہیں تھا، یہ ایک ضمیر کی آواز تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، اور اس بنیاد کے نیچے کچھ ایسے واقعات بھی دفن ہو رہے تھے جن کی بازگشت دور تک سنائی دینی تھی۔ کچھ  واقعات نے حساس ذہنوں کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ ائن سٹائن نے لکھا   “اگر اس نئی ریاست کی بنیاد دہشت اور خوف پر رکھی گئی، اگر اس کے رہنما ایسے عناصر ہوں جو فاشسٹ ذہن رکھتے ہیں، تو یہ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک خطرناک مثال بن جائے گی۔” یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، یہ ایک پیش گوئی تھی یا شاید ایک انتباہ۔ آج، جب ہم کئی دہائیوں بعد اسی خطے کی طرف دیکھتے ہیں، تو سوال خود بخو...

کیا واقعی امریکہ جنگ ہار رہا ہے, زابر سعید بدر

Image
 “جنگ کا شور یا حکمت کا سکوت؟ امریکہ,ایران کشیدگی کا اصل  چہرہ” صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر  امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک عجیب مرحلے میں داخل ہو چکی ہے نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی طاقت،ڈونلڈ ٹرمپ    کی قیادت میں امریکہ ہے، اور دوسری طرف ایران، جو اپنی مزاحمت کو فتح کا نام دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایک “ہاتھی” اور “چیونٹی” کا مقابلہ ہو رہا ہے؟ اور اگر ہو رہا ہے تو پھر یہ مقابلہ ابھی تک فیصلہ کن کیوں نہیں ہوا؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ سیز فائر میں توسیع کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران ایک متحدہ تجویز پیش نہیں کرتا، حملے روکے جائیں گے، مگر بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔ یہ فیصلہ بظاہر نرمی لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک سوچا سمجھا صبر ہے ایک ایسا صبر جس کے پیچھے طاقت بھی ہے اور حساب بھی۔ اس عمل میں پاکستان نے بھی اہم کردار ادا کیا، جہاں وزیر اعظم شہباز شریف اور سپہ سالار سید عاصم منیر نے سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں فریقوں کو وقتی طور پر روکنے میں مدد دی۔ ای ران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیب...

وادی جنوں, عقیدت سے محبت تک, صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  عقیدت سے محبت تک صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر  لڑکپن میں حضرت علامہ کا میری زندگی پر بہت گہرا اثر تھا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ ایک تو والدِ گرامی، جناب سعید بدر صاحب، علامہ اقبال کی رسولِ کریم ﷺ سے محبت کا اکثر تذکرہ فرمایا کرتے تھے۔ دادا ابو، جناب سائیں حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی، بھی حضرت علامہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔ دادی جان بھی حضرت علامہ کے اشعار گنگناتی رہتی تھیں۔ لہٰذا گھر کے ماحول میں علامہ اقبال سے محبت کا ایک گہرا رنگ موجود تھا۔ مجھے حضرت علامہ کے بہت سے اشعار زبانی یاد تھے، جو میں اکثر تقاریر میں بھی سنایا کرتا تھا۔ میرے خطوط اور گفتگو میں بھی اکثر حضرت علامہ کے اشعار کا ذکر ہوتا۔ اس زمانے میں یہ ایک عمومی رویہ بھی تھا، اور ہمارے اساتذہ بھی حضرت علامہ کا ذکر بڑے ادب و احترام سے کرتے تھے۔ ان میں جناب محبت صدیق صاحب، جناب صابر راجپوری صاحب، اور جناب ابو محمد عبداللہ ناصح  صاحب شامل ہیں۔ یہ ہمارے اردو کے اساتذہ کرام تھے۔ علامہ اقبال پر میں مضامین بھی لکھتا تھا جو اس زمانے میں مختلف اخبارات میں شائع ہوئے۔ "امروز" میں میرا علامہ صاحب پر مضمون اس وقت شائع ہوا...

کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ مفاہمت میں ہے / تاریخ کا سبق, زابر سعید بدر

Image
جاپان: ایک قوم جس نے شکست کو استاد بنا لیا صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر تاریخ کا ایک اصول ہے: قومیں اپنی کامیابیوں سے نہیں، اپنی غلطیوں سے بنتی ہیں۔ جو قوم اپنی شکست کو سمجھ لیتی ہے، وہی آگے بڑھتی ہے۔ جاپان اس کی ایک روشن مثال ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جاپان ایک ابھرتی ہوئی طاقت تھا۔ اس نے اپنے گرد و پیش میں تیزی سے اثر قائم کیا۔ چین کے علاقے منچوریا سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک اس کی فوجیں پہنچ چکی تھیں۔ ایک وقت ایسا آیا کہ جاپان کو اپنی طاقت پر یقین نہیں، بلکہ ایک طرح کا غرور ہونے لگا۔ جب طاقت کے ساتھ غرور شامل ہو جائے تو فیصلے حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں۔ اسی دور میں جاپان کی قیادت، جس میں ہیدی کی توجو جیسے لوگ شامل تھے، ایک بڑے فیصلے کی طرف بڑھی۔ امریکہ نے اس پر معاشی پابندیاں لگائی تھیں، خاص طور پر تیل کی فراہمی روک دی گئی تھی۔ جاپان کے سامنے انتخاب تھا: صبر اور حکمت، یا جلد بازی اور ٹکراؤ۔ اس نے دوسرا راستہ چنا۔ 7 دسمبر 1941 کو پرل ہاربر حملہ ہوا۔ جاپان نے امریکہ پر اچانک حملہ کیا۔ یہ ایک وقتی کامیابی تھی، مگر درحقیقت یہ ایک بڑے طوفان کو دعوت دینا تھا۔ امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی...

گودی میڈیا کی خاموشی اور پاکستان کی گونجتی سفارت کاری, زابر سعید بدر

Image
 گودی میڈیا کی خاموشی اور پاکستان کی گونجتی سفارت کاری صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر یہ معاملہ صرف ایک خبر کا نہیں، بلکہ بیانیے کی جنگ کا ہے۔ ایک طرف بھارت کا وہ میڈیا ہے جسے عام زبان میں “گودی میڈیا” کہا جاتا ہے جہاں سچ کو سننے اور ماننے کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان کے کردار کا نہ صرف اعتراف نہیں کیا جا رہا بلکہ دانستہ طور پر اسے پس منظر میں دھکیل دیا گیا ہے۔ میں خود دیکھ رہا ہوں کہ بھارت کے کئی نمایاں ٹی وی چینلز اور اخبارات اس پوری سفارتی پیش رفت میں پاکستان کا ذکر تک نہیں کر رہے۔ خبریں اس انداز میں ترتیب دی جا رہی ہیں جیسے ایران نے خود فیصلہ کیا، امریکہ نے خود اعلان کر دیا، اور آبنائے ہرمز خود بخود کھل گئی گویا اس پورے عمل میں پاکستان کہیں موجود ہی نہیں تھا۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے، اور وہ زیادہ حقیقت پسندانہ ہے۔ بھارت ہی کے ایک معتبر اخبار The Telegraph India میں سابق سفارت کار T.C.A. Raghavan نے ایک ایسا کالم لکھا ہے جو اس پورے بیانیے کو چیلنج کرتا ہے۔ وہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک، خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے اپنی...

پاکستان ایک نیا پیراڈائم شفٹ, امن کا سفیر, زابر سعید بدر

Image
  پاکستان ایک نیا پیراڈائم شفٹ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   ابھی وہ لمحہ گزرا ہے جس کا ہم حصہ بن گیے. ہم اس تاریخی لمحے کا حصہ تھے اس لیے محسوس نہ کر سکے کہ دنیا کیا سے کیا ہو گئی. پاکستان یک دم آسمان کی وسعتوں کو چھو آیا ہے اس کے نام کے ساتھ 'امن' جڑ گیا ہے  کہاں وہ وقت تھا جب پاکستان کا نام عالمی بیانیے میں ایک ایسے ملک کے طور پر لیا جاتا تھا جس پر دہشت گردی کے الزامات کی گرد جمی ہوئی تھی؛ جہاں پاکستانی پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ایک بوجھ سمجھا جاتا تھا؛ جہاں بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا ذکر آتے ہی شکوک، فاصلے اور احتیاط کی فضا قائم ہو جاتی تھی اور کہاں آج کا لمحہ ہے کہ اسی پاکستان کے نام کے ساتھ “امن” کا استعارہ جوڑا جا رہا ہے، اور عالمی سطح پر اسے مصالحت، توازن اور ذمہ دار سفارت کاری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک حقیقی پیراڈائم شفٹ ہے ایسی فکری، سفارتی اور تزویراتی تبدیلی جس نے نہ صرف عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا بلکہ جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن (Balance of Power) میں بھی ایک نیا زاویہ پیدا کیا ہے۔ یہ وہ مق...

ابو جی! آپ ٹھیک کہتے تھے کہ پاکستان پر کرم ہے, زابر سعید بدر

Image
 ابوجی! آپ ٹھیک کہتے تھے، پاکستان پر اللہ کا خاص کرم ہے صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر بچپن ہی سے میرے اندر ایک عقلی اور تجزیاتی سوچ موجود تھی۔ والدِ گرامی جناب #سعیدبدر صاحب ایک واقعہ  اکثر سنایا کرتے کہ زابر کو ساگ کھانا سخت ناپسند تھا۔ میں ان دنوں شاد باغ کے سینٹ جوزف سکول میں زیرِ تعلیم تھا۔ اگرچہ اس عمر میں سائنسی مضامین کی باقاعدہ تفریق نہیں ہوتی، تاہم فطری طور پر طبیعت مائل بہ عقلیت پسندی تھی۔ ان دنوں میرے پاس ایک لڈو تھی جس کی گوٹس پر مقناطیس تھا.جو لوہے کے بورڈ سے چپک جاتیں اس لیے مجھے یہ معلوم تھا کہ میگنٹ لوہے کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ یہ ایک سادہ سا مشاہدہ میرے ذہن میں ثبت تھا۔   ایک دن جب ہم سب ڈائینگ ٹیبل پر ڈنر کر رہے تھے والد صاحب, والدہ صاحبہ دادی جان (بی بی جان) چھوٹی بہن شمائلہ موجود تھے اور میں نے ساگ کھانے سے انکار کر رہا تھا جو مجھے سخت ناپسند تھا تو والدِ محترم نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ ساگ میں آئرن پایا جاتا ہے، اور آئرن انسان کے جسم کو مضبوط بناتا ہے، ہڈیوں کو طاقت بخشتا ہے۔ میرے ننھے مگر متجسس ذہن نے اس بات کو قبول کر لیا اور میں نے ساگ ...