کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ مفاہمت میں ہے / تاریخ کا سبق, زابر سعید بدر


جاپان: ایک قوم جس نے شکست کو استاد بنا لیا

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر



تاریخ کا ایک اصول ہے: قومیں اپنی کامیابیوں سے نہیں، اپنی غلطیوں سے بنتی ہیں۔ جو قوم اپنی شکست کو سمجھ لیتی ہے، وہی آگے بڑھتی ہے۔ جاپان اس کی ایک روشن مثال ہے۔


بیسویں صدی کے آغاز میں جاپان ایک ابھرتی ہوئی طاقت تھا۔ اس نے اپنے گرد و پیش میں تیزی سے اثر قائم کیا۔ چین کے علاقے منچوریا سے لے کر جنوب مشرقی ایشیا تک اس کی فوجیں پہنچ چکی تھیں۔ ایک وقت ایسا آیا کہ جاپان کو اپنی طاقت پر یقین نہیں، بلکہ ایک طرح کا غرور ہونے لگا۔


جب طاقت کے ساتھ غرور شامل ہو جائے تو فیصلے حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں۔


اسی دور میں جاپان کی قیادت، جس میں ہیدی کی توجو جیسے لوگ شامل تھے، ایک بڑے فیصلے کی طرف بڑھی۔ امریکہ نے اس پر معاشی پابندیاں لگائی تھیں، خاص طور پر تیل کی فراہمی روک دی گئی تھی۔ جاپان کے سامنے انتخاب تھا: صبر اور حکمت، یا جلد بازی اور ٹکراؤ۔


اس نے دوسرا راستہ چنا۔


7 دسمبر 1941 کو پرل ہاربر حملہ ہوا۔ جاپان نے امریکہ پر اچانک حملہ کیا۔ یہ ایک وقتی کامیابی تھی، مگر درحقیقت یہ ایک بڑے طوفان کو دعوت دینا تھا۔


امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے فوراً جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اب جاپان ایک ایسی طاقت کے سامنے کھڑا تھا جس کے پاس بے پناہ وسائل اور صنعتی قوت تھی۔


ابتدا میں جاپان نے کئی کامیابیاں حاصل کیں، مگر وقت کے ساتھ حالات بدلنے لگے۔ جنگ لمبی ہوتی گئی، وسائل کم ہوتے گئے، اور تباہی قریب آنے لگی۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان آخری وقت تک حقیقت کو ماننے سے انکار کرتا ہے۔


1945 میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے گئے۔ یہ صرف شہر نہیں تھے جو تباہ ہوئے، بلکہ ایک سوچ بھی ٹوٹ گئی۔


اس موقع پر جاپان کے بادشاہ شہنشاہ ہیروہیتو نے وہ فیصلہ کیا جو تاریخ میں کم ہی لیڈر کرتے ہیں۔ انہوں نے جنگ جاری رکھنے کے بجائے قوم کو بچانے کو ترجیح دی۔ انہوں نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا۔


یہ بظاہر ایک شکست تھی، مگر درحقیقت یہی جاپان کی اصل فتح کی ابتدا تھی۔


 اگر اس واقعے کو منطق کے تناظر میں سمجھا جائے تو اصل سبق یہ ہے کہ زندگی میں سب سے بڑی حکمت یہ ہے کہ آدمی حقیقت کو پہچان لے۔ جو شخص حقیقت کو مان لیتا ہے، وہی آگے بڑھتا ہے۔ اور جو اپنی انا میں گرفتار ہو جائے، وہ اپنے لیے راستے بند کر لیتا ہے۔


جاپان نے اپنی شکست کو انا کا مسئلہ نہیں بنایا، بلکہ اسے ایک سبق بنا لیا۔


جنگ کے بعد جاپان نے ہتھیار نہیں، تعلیم اٹھائی۔ اس نے ٹکراؤ نہیں، تعمیر کا راستہ اختیار کیا۔ اس نے دنیا سے لڑنے کے بجائے دنیا کے ساتھ چلنا سیکھا۔


چند دہائیوں میں وہی جاپان، جو جنگ میں تباہ ہو چکا تھا، ٹیکنالوجی، صنعت اور معیشت میں دنیا کی صفِ اول کی قوم بن گیا۔


یہ تبدیلی کسی معجزے کا نتیجہ نہیں تھی۔ یہ چند سادہ اصولوں کا نتیجہ تھی:


حقیقت کو مان لینا


غلطی سے سیکھنا


صبر اختیار کرنا


مسلسل محنت کرنا


جاپانی قوم نے نظم و ضبط کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ صفائی، وقت کی پابندی، اور اجتماعی سوچ کو اپنایا۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اصل طاقت ہتھیار نہیں، کردار ہوتا ہے۔


آج جاپان دنیا میں امن پسند قوم کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کا پاسپورٹ مضبوط ہے، اس کی معیشت مستحکم ہے، اور اس کی ٹیکنالوجی دنیا کے لیے مثال ہے۔


یہ سب اس لیے ممکن ہوا کہ انہوں نے ایک موقع پر رکنے کا فیصلہ کیا۔


 کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ  موافقت (ایڈجسٹمنٹ ) میں ہے۔ جاپان نے یہی کیا۔ اس نے حالات سے لڑنے کے بجائے خود کو حالات کے مطابق ڈھال لیا۔


اور یہی ہر قوم، بلکہ ہر فرد کے لیے سبق ہے:


کبھی کبھی پیچھے ہٹ جانا ہی اصل آگے بڑھنا ہوتا ہے۔


زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا