Skip to main content

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ایک امریکی نے اپنی شادی کو کیسے محفوظ بنایا


ترجمہ و ادارت: صاحب زادہ زابر سعید بدر 

ریڈرز ڈائجسٹ کے حالیہ شمارے (اکتوبر۔نومبر 2025) میں ایک نہایت دلچسپ اور سبق آموز کہانی شائع ہوئی ہے۔ یہ کہانی صرف فوجی زندگی اور قربانیوں کی جھلک ہی نہیں دکھاتی بلکہ ازدواجی رشتے کو مضبوط بنانے کے ایسے اصول بھی سامنے لاتی ہے جو ہم سب کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
یہ ترجمہ اور پیشکش زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کے پلیٹ فارم سے طلبہ اور عام قارئین کے فائدے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔


: "فرینڈلی فائر سے بچنے کی ٹریننگ، جو گھر پر بھی کام آئی"

 جیسن ریڈمین (امریکی نیوی سیل)

1998 کی بات ہے۔ میں ایک نوجوان، غیر شادی شدہ نیوی سیل تھا۔ سیل (SEAL) دراصل امریکہ کی بحریہ کا ایک خصوصی دستہ ہے۔ ان کا کام دنیا کے مشکل ترین اور خطرناک ترین فوجی مشنز پر جانا ہوتا ہے—کبھی سمندر میں، کبھی ہوا میں اور کبھی دشمن کی سرزمین پر۔ سیل اکثر مہینوں اپنے گھروں سے دور رہتے ہیں، اسی لیے ان کی ذاتی زندگی بہت کٹھن گزرتی ہے۔

اس وقت میری زندگی میں رومان اور مہم جوئی دونوں تھے۔ جہازوں سے چھلانگ لگانا، جدید اسلحے سے مشقیں کرنا اور دنیا گھومنا ایک عام دن کا حصہ تھا۔ ایک دن میں نے اپنے ساتھیوں کو باربی کیو پر بلایا۔ ایک دوست سے پوچھا: ’’تمہاری بیوی بھی آئے گی؟‘‘ اس نے نظریں جھکا لیں اور بولا: ’’نہیں، حالات اچھے نہیں۔‘‘ چند ماہ بعد ان کی طلاق ہوگئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ ہماری برادری میں شادیاں زیادہ دیر تک نہیں چل پاتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نیوی سیلز میں طلاق کی شرح 90 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

اگلے سال میری ملاقات ایریکا سے ہوئی۔ شروع میں میں نے اسے اپنی اصل شناخت نہیں بتائی، کیونکہ سیلز اکثر اپنا پیشہ چھپاتے ہیں۔ وجہ یہ کہ اگر کوئی لڑکی سن لے کہ بندہ سال کے 280 دن گھر سے باہر رہتا ہے تو اکثر رشتہ آگے نہیں بڑھتا۔ لیکن ایک ماہ بعد میں نے ایریکا کو سب کچھ سچ سچ بتا دیا۔ میں نے کہا:
"میں نیوی سیل ہوں۔ میرا ارادہ کم از کم 20 سال اس کام میں رہنے کا ہے۔ یہ خطرناک ہے، مشکل ہے، اور تمہیں زیادہ تر وقت اکیلے ہی بچوں، گھر اور زندگی کو سنبھالنا ہوگا۔"
ایریکا نے مسکرا کر کہا: "مجھے پرواہ نہیں۔ ہم دونوں یہ سفر ساتھ کریں گے۔"

ڈیڑھ سال بعد ہم نے شادی کی۔ ہم دونوں ٹوٹے ہوئے گھروں سے آئے تھے، اس لیے ایک اصول بنایا: طلاق کا لفظ کبھی زبان پر نہیں لائیں گے۔ یہ اصول آگے چل کر ہماری شادی کی اصل بنیاد بن گیا۔

2007 میں عراق کے صحرا میں ہم پر گھات لگا کر حملہ ہوا۔ مجھے سات گولیاں لگیں، اور ایک نے میرے چہرے کو بری طرح زخمی کر دیا۔ میں زمین پر گرا اور خدا سے صرف ایک دعا مانگی: "مجھے اپنی بیوی کے ساتھ ایک دن اور دے دے۔" کئی دن بعد جب میں اسپتال کے بستر پر آنکھ کھولتا ہوں، میرا چہرہ پٹیوں میں لپٹا ہے۔ دل میں ڈر تھا کہ کیا ایریکا مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹ جائے گی؟ لیکن وہ کمرے میں داخل ہوئی، میرا ہاتھ تھاما اور کہا: "ہم یہ سب ساتھ جھیلیں گے۔"

یہ سب سے بڑا امتحان تھا، مگر واحد نہیں۔ ہم نے بیماریوں، مالی مشکلات، فوج سے عام زندگی میں واپسی، دوستوں کی شہادت اور میرے PTSD سب کا سامنا کیا۔ کبھی کبھی میں شراب میں ڈوب گیا، سب کو خود سے دور کیا، لیکن ایریکا نے ہمت نہیں ہاری۔

ہم نے اپنی شادی کو ایک "مشن" بنایا، بالکل ایسے جیسے سیل ٹیمیں اپنے آپریشنز کو چلاتی ہیں۔ اصول یہ تھے:

  • کوئی الٹی میٹم نہیں دینا۔
  • طلاق یا دھمکی والے الفاظ زبان پر نہیں لانے۔
  • ذاتی حملے، گالیاں یا ہتک آمیز رویہ نہیں اپنانا۔
  • ہمیشہ ایک دوسرے کو سننا اور سمجھنا۔

جیسے جنگی میدان میں سب سے بڑا خطرہ "فرینڈلی فائر" ہوتا ہے—یعنی اپنے ہی ساتھی پر غلطی سے حملہ کر دینا—ویسے ہی شادی میں اصل شکست تب ہوتی ہے جب آپ اپنے شریکِ حیات کو دشمن سمجھ بیٹھیں۔

ایریکا اور میں نے وہی اصول اپنائے جو میں نے میدانِ جنگ میں سیکھے تھے۔ اور یہی اصول ہماری شادی کو 24 سال بعد بھی قائم و دائم رکھتے ہیں۔


✨ یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ رشتوں کو کامیاب بنانے کے لیے محبت کے ساتھ ساتھ اصول بھی ضروری ہیں۔ مشکلات آئیں گی، لیکن اگر آپ اپنے ساتھی کو دشمن نہیں بلکہ ساتھی سمجھیں، تو ہر جنگ جیتی جا سکتی ہے۔



تعارف — صاحبزادہ محمد صابر سعید بدر

صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر

زارب سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کی طرف سے شائع

خصوصی اشاعت
ریڈرز ڈائجسٹ — شمارہ اکتوبر/نومبر 2025 سے
یہ ترجمہ اور مختصر پیشکش زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کی جانب سے طلبہ اور عام قارئین کے مفاد عامہ کے لیے تیار کی گئی ہے۔ نیچے پیش کی گئی انٹرو ریڈرز ڈائجسٹ کے مذکورہ شمارہ سے لی گئی ہے؛ اصل کہانی اور دیگر مواد ریڈرز ڈائجسٹ کے حقوقِ ملکیت کے تابع ہیں۔ اس صفحے پر مکمل کہانی شامل نہیں کی گئی — صرف تمہیدی تذکرہ، حوالہ اور کاپی رائٹ معلومات پیش کی جا رہی ہیں۔
حوالہ: ریڈرز ڈائجسٹ (اکتوبر–نومبر 2025)
کاپی رائٹ: © زابر سعید بدر 2025

Comments

Popular posts from this blog

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا