ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر
ایک امریکی نے اپنی شادی کو کیسے محفوظ بنایا
ترجمہ و ادارت: صاحب زادہ زابر سعید بدر
: "فرینڈلی فائر سے بچنے کی ٹریننگ، جو گھر پر بھی کام آئی"
جیسن ریڈمین (امریکی نیوی سیل)
1998 کی بات ہے۔ میں ایک نوجوان، غیر شادی شدہ نیوی سیل تھا۔ سیل (SEAL) دراصل امریکہ کی بحریہ کا ایک خصوصی دستہ ہے۔ ان کا کام دنیا کے مشکل ترین اور خطرناک ترین فوجی مشنز پر جانا ہوتا ہے—کبھی سمندر میں، کبھی ہوا میں اور کبھی دشمن کی سرزمین پر۔ سیل اکثر مہینوں اپنے گھروں سے دور رہتے ہیں، اسی لیے ان کی ذاتی زندگی بہت کٹھن گزرتی ہے۔
اس وقت میری زندگی میں رومان اور مہم جوئی دونوں تھے۔ جہازوں سے چھلانگ لگانا، جدید اسلحے سے مشقیں کرنا اور دنیا گھومنا ایک عام دن کا حصہ تھا۔ ایک دن میں نے اپنے ساتھیوں کو باربی کیو پر بلایا۔ ایک دوست سے پوچھا: ’’تمہاری بیوی بھی آئے گی؟‘‘ اس نے نظریں جھکا لیں اور بولا: ’’نہیں، حالات اچھے نہیں۔‘‘ چند ماہ بعد ان کی طلاق ہوگئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب مجھے احساس ہوا کہ ہماری برادری میں شادیاں زیادہ دیر تک نہیں چل پاتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نیوی سیلز میں طلاق کی شرح 90 فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
ڈیڑھ سال بعد ہم نے شادی کی۔ ہم دونوں ٹوٹے ہوئے گھروں سے آئے تھے، اس لیے ایک اصول بنایا: طلاق کا لفظ کبھی زبان پر نہیں لائیں گے۔ یہ اصول آگے چل کر ہماری شادی کی اصل بنیاد بن گیا۔
2007 میں عراق کے صحرا میں ہم پر گھات لگا کر حملہ ہوا۔ مجھے سات گولیاں لگیں، اور ایک نے میرے چہرے کو بری طرح زخمی کر دیا۔ میں زمین پر گرا اور خدا سے صرف ایک دعا مانگی: "مجھے اپنی بیوی کے ساتھ ایک دن اور دے دے۔" کئی دن بعد جب میں اسپتال کے بستر پر آنکھ کھولتا ہوں، میرا چہرہ پٹیوں میں لپٹا ہے۔ دل میں ڈر تھا کہ کیا ایریکا مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹ جائے گی؟ لیکن وہ کمرے میں داخل ہوئی، میرا ہاتھ تھاما اور کہا: "ہم یہ سب ساتھ جھیلیں گے۔"
یہ سب سے بڑا امتحان تھا، مگر واحد نہیں۔ ہم نے بیماریوں، مالی مشکلات، فوج سے عام زندگی میں واپسی، دوستوں کی شہادت اور میرے PTSD سب کا سامنا کیا۔ کبھی کبھی میں شراب میں ڈوب گیا، سب کو خود سے دور کیا، لیکن ایریکا نے ہمت نہیں ہاری۔
ہم نے اپنی شادی کو ایک "مشن" بنایا، بالکل ایسے جیسے سیل ٹیمیں اپنے آپریشنز کو چلاتی ہیں۔ اصول یہ تھے:
- کوئی الٹی میٹم نہیں دینا۔
- طلاق یا دھمکی والے الفاظ زبان پر نہیں لانے۔
- ذاتی حملے، گالیاں یا ہتک آمیز رویہ نہیں اپنانا۔
- ہمیشہ ایک دوسرے کو سننا اور سمجھنا۔
جیسے جنگی میدان میں سب سے بڑا خطرہ "فرینڈلی فائر" ہوتا ہے—یعنی اپنے ہی ساتھی پر غلطی سے حملہ کر دینا—ویسے ہی شادی میں اصل شکست تب ہوتی ہے جب آپ اپنے شریکِ حیات کو دشمن سمجھ بیٹھیں۔
ایریکا اور میں نے وہی اصول اپنائے جو میں نے میدانِ جنگ میں سیکھے تھے۔ اور یہی اصول ہماری شادی کو 24 سال بعد بھی قائم و دائم رکھتے ہیں۔
✨ یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ رشتوں کو کامیاب بنانے کے لیے محبت کے ساتھ ساتھ اصول بھی ضروری ہیں۔ مشکلات آئیں گی، لیکن اگر آپ اپنے ساتھی کو دشمن نہیں بلکہ ساتھی سمجھیں، تو ہر جنگ جیتی جا سکتی ہے۔

Comments