A Comparative Lens: Mughal India vs. Contemporary Europe, Zabir Saeed Badar


A Comparative Lens: Mughal India vs. Contemporary Europe

𝗔 𝗰𝗼𝗺𝗽𝗮𝗿𝗮𝘁𝗶𝘃𝗲 𝗹𝗲𝗻𝘀: 𝘄𝗼𝗺𝗲𝗻’𝘀 𝘀𝘂𝗯𝗷𝘂𝗴𝗮𝘁𝗶𝗼𝗻 𝗶𝗻 𝗠𝘂𝗴𝗵𝗮𝗹 𝗜𝗻𝗱𝗶𝗮 𝗮𝗻𝗱 𝗰𝗼𝗻𝘁𝗲𝗺𝗽𝗼𝗿𝗮𝗿𝘆 𝗘𝘂𝗿𝗼𝗽𝗲.

— A historical counter-analysis of oppression beyond borders
Zabir Saeed Badar

ابھی حال ہی میں میں نے ایک تحریر دیکھی جس میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ مغلیہ دور کے سماج میں عورتوں سے متعلق کچھ ایسی رسومات موجود تھیں جنہیں آج کے نقطۂ نظر سے افسوسناک کہا جا سکتا ہے۔ اس دعوے پر غور کرتے ہوئے مجھے سب سے پہلے ابوالفضل کا آئینِ اکبری یاد آیا۔ ابوالفضل نے اس کتاب میں لکھا ہے:

"ہندوستان کے معاشرے میں بعض رسوم ایسی ہیں جو عقلِ سلیم کے خلاف ہیں اور جن پر غور کرنے والا ہر شخص افسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔"

اسی سلسلے میں خود مغل شہنشاہ ہند جہانگیر نے اپنی خودنوشت تزکِ جہانگیری میں معاشرتی بگاڑ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے لکھا:

"بعض ایسی عادتیں رعایا میں جاری ہیں جو سلطنت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ میں نے بارہا چاہا کہ انہیں ختم کر دوں مگر یہ رسمیں ایسی جمی ہوئی ہیں کہ ان کے ازالے کے لیے طویل وقت درکار ہے۔"
<
/>

مزید برآں سترہویں صدی کا مشہور فرانسیسی سیاح François Bernier اپنی کتاب Travels in the Mughal Empire (1670) میں لکھتا ہے:

"The condition of women in the Mughal court appeared to me strange and contradictory; while some were honored with influence, many others were bound by customs which deprived them of freedom."

یہاں ہمیں یہ نکتہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ برنیر نے مغل معاشرے کی کمزوریوں کا ذکر تو کیا، لیکن اس نے یورپ میں عورتوں کی حالت پر بات کرنا مناسب نہ سمجھا، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یورپ کا حال اس وقت اور بھی زیادہ ابتر تھا۔

مثال کے طور پر انگلینڈ میں عورت کو جائیداد رکھنے کے بنیادی حق سے بھی محروم رکھا گیا تھا۔ Merry Wiesner-Hanks اپنی کتاب Women and Gender in Early Modern Europe میں لکھتی ہیں:

"In early modern England, a married woman had no independent legal identity; she was covered by her husband’s authority, with little control over property or education."

فرانس میں سترہویں صدی کے دوران سینکڑوں عورتوں کو جادوگری کے الزام میں زندہ جلایا گیا۔ تاریخ دان Brian Levack اپنی کتاب The Witch-Hunt in Early Modern Europe میں لکھتے ہیں کہ صرف فرانس ہی نہیں بلکہ یورپ کے مختلف حصوں میں عورتوں کو "چڑیل" قرار دے کر ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔

اسی طرح جرمنی میں 16ویں اور 17ویں صدی کے دوران ہزاروں عورتیں "witch trials" کا شکار ہوئیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف Würzburg اور Bamberg جیسے علاقوں میں درجنوں عورتوں کو خوفناک طریقوں سے سزائیں دی گئیں۔ یہ وہی دور تھا جب ہندوستان میں جہانگیر جیسا بادشاہ کم از کم اپنی خود نوشت میں یہ اعتراف کر رہا تھا کہ بعض رسومات بری ہیں اور انہیں ختم ہونا چاہیے۔

گویا تاریخ کا یہ تقابلی مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ صرف مغلیہ دور کو تنقید کا نشانہ بنا دینا اور یورپ کو تہذیب و تمدن کی علامت سمجھنا درست نہیں۔ ہندوستان میں ابو الفضل اور جہانگیر جیسے لوگ خرابیوں کا شعور رکھتے تھے اور ان پر اظہارِ افسوس کرتے تھے، جبکہ یورپ خود عورت کے معاملے میں پسماندگی کا شکار تھا۔

یہ تحریر زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کے اس مقصد کے تحت پیش کی گئی ہے کہ طلبہ کے تاریخی شعور اور سماجی پرسیپشن کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ تاریخ کو ہمیشہ تقابلی نظر سے پڑھنا چاہیے تاکہ ہم حقیقت کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھ سکیں اور یک طرفہ آراء کا شکار نہ ہوں۔

#صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا