Posts

Showing posts from July, 2025

لارڈ میکالے کا تعلیمی منٹ ایک تجزیاتی جائزہ زابر صاحب زادہ

Image
  لارڈمیکالے کا تعلیمی منٹ اور برصغیر میں ساختی تبدیلی کا آغاز: ایک تجزیاتی مطالعہ زابر صاحبـــــــــزادہ برصغیر کی تعلیمی اور فکری تاریخ میں 2 فروری 1835ء کو لارڈ میکالے کی پیش کردہ “منٹ آن ایجوکیشن” ایک انقلابی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔  اس مقالے پر اس لیے تنقید کی جاتی ہے کہ انہوں نے یہ بات کہی جو ان دنوں یورپ کی یونیورسٹیوں میں کہی جاتی تھی اپنے مقالے میں انہوں نے یہی کہا کہ اکثر میں نے سنا ہے کہ مشرق کے ادب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہمارے یہاں کتابوں کی ایک الماری عرب اور ہندوستان کے کے پورے علمی سرمائے پر بھاری ہے میکالے نے اس وقت کے تعلیمی نظام، جس میں عربی اور سنسکرت زبانوں کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی، پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ: “A single shelf of a good European library was worth the whole native literature of India and Arabia.” وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ انگریزی زبان میں نہ صرف سائنس، تاریخ اور فلسفے کا ذخیرہ وسیع ہے بلکہ یہ زبان دنیا کے جدید علم کا دروازہ کھولتی ہے۔ ایک اہم نکتہ جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ عربی زبان ایک دور میں سائنسی ترقی کا ذریعہ...

جناح سے جناح تک زابر صاحبزادہ

Image
زابر صاحبـــــــــزادہ   جناح  سے جناح  تک مشہور امریکی مورخ اسٹنلے والپرٹ نے قائد اعظم کی سوانح حیات ’جناح آف پاکستان‘ لکھی جو 1982 میں شائع ہوئی.  اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قائد اعظم کے بارے میں مستند ترین کتب میں سے ایک ہے۔ اپنی کتاب میں سٹینلے نے قائد اعظم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے لکھا  کہ  ’’چند ہی لوگ تاریخ کے دھارے کو تبدیل کر پاتے ہیں، ان میں سے بھی کچھ ہی ہوتے ہیں جو دنیا کے جغرافیے کو تبدیل کرتے ہیں۔ اور ان میں سے کوئی ایک آدھ ہی ایک قومی ریاست تشکیل دے پاتا ہے۔ محمد علی جناح نے یہ تینوں کام انجام دیے ہیں‘‘ وولپرٹ کئی تاریخی واقعات کے راقم تھے۔ انڈیا کے آخری وائس رائے اور پہلے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ بانی پاکستان محمد علی جناح کی پہلی ملاقات چار اپریل 1947 کو ہوئی تھی۔ بات چیت شروع ہونے سے پہلے ایک ہلکا پھلکا لمحہ اس وقت آیا جب ایک فوٹو گرافر نے لیڈی ماؤنٹ بیٹن (ایڈوینا) اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ ایک تصویر لینے کی خواہش ظاہر کی۔ جناح نے پہلے ہی سے اپنا بیان تیار کر لیا تھا۔ انہیں امید تھی کہ ان کے اور ماؤنٹ بٹن کے درمیان ...

سیاسی اختلاف کو کفر کہنا ایک تاریخی فکری اور جزباتی مطالعہ

 " سیاسی اختلاف کو کفر کہنا: ایک تاریخی، فکری اور جذباتی مطالعہ" Zabir Saeed Badar صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر تعارف ہم آج کے دور میں ایک خطرناک رجحان کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں مذہبی یا سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو نہ صرف "غدار" کہا جاتا ہے، بلکہ "کافر" بھی قرار دیا جاتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ روش نئی نہیں بلکہ اس کی جڑیں قیامِ پاکستان سے بھی پہلے کی سیاست، خاص طور پر آل انڈیا مسلم لیگ کی داخلی فضا میں موجود تھیں۔ یہ تحقیق اسی پس منظر پر روشنی ڈالتی ہے کہ کس طرح جذباتیت، مذہب اور سیاسی مفاد کو آپس میں گڈمڈ کر کے ایسی فضا پیدا کی گئی جس نے مخالفین کو مذہبی دائرے سے ہی خارج کر دیا، اور یہ سلسلہ آج بھی ہماری سیاسی گفتگو میں جاری ہے۔ تحقیقی سوالات: 1. کیا قیامِ پاکستان سے قبل مسلم لیگ میں ایسے رجحانات موجود تھے کہ مخالفین کو مذہبی بنیاد پر مسترد کیا جائے؟ 2. کیا قائدینِ مسلم لیگ ان جذباتی اور انتہاپسندانہ رویوں سے متفق تھے؟ 3. بیگم جہاں آرا شاہنواز جیسے محب وطن رہنما، جن کے والد مسلم لیگ کے بانی تھے، ان کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ کن نظریاتی تضادات کو ظاہر ک...

Labeling Political Dissent as ‘Kafir’ (Infidel): A Historical, Emotional, and Intellectual Investigation" by Zabir Saeed Badar

Image
Research    Title " Labeling Political Dissent as ‘Kafir’ (Infidel): A Historical, Emotional, and Intellectual Investigation"             ZABIR SAEED BADAR Abstract This paper examines the growing tendency in South Asia to brand political opposition as "kafir" (infidel) or "ghaddār" (traitor), tracing its roots in pre-Partition Muslim League rhetoric and its enduring psycho-political impact. Drawing on early leaders’ cautions (including Mian Muhammad Shahdin and Sir Mian Shafiʿ’s daughter Begum Jahan Ara Shahnawaz) and postcolonial theoretical frameworks, this study argues that unchecked emotional politics still harm contemporary public discourse. The goal is to open a refined academic conversation about why political disagreements are conflated with religious betrayal and to encourage deeper research in this neglected area. Research Questions 1. What historical precedents in pre-1947 Muslim League discourse show political differences framed as re...

New Two Nation Theory By Zabir Saeed Badar

Image
  نیا دو قومی نظریہ امیر اور غریب تنخواہ دار بمقابلہ مراعات یافتہ  صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر زابر صاحب زادہ "آج صبح جب میں نے ملک کے ایک موقر انگریزی اخبار کی خبر پڑھی تو دل دہل گیا۔ اعداد و شمار چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ اس ملک میں انصاف مراعات یافتہ لوگوں کی دہلیز پر دم توڑ چکا ہے۔" یہ ملک تنخواہ دار چلا رہے ہیں — لیکن قیمت؟ پاکستان کا سفید پوش طبقہ — وہ لوگ جو مہینے کے آغاز میں تنخواہ لیتے ہیں اور مہینے کے اختتام تک حساب کتاب کرتے رہتے ہیں — اس ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ لیکن نئے مالی سال (جون 30، 2025 کو ختم ہونے والا) میں ایف بی آر کے جاری کردہ اعداد و شمار نے ثابت کر دیا کہ یہ طبقہ صرف ملک چلا نہیں رہا — بلکہ قربانی بھی صرف یہی دے رہا ہے۔ تنخواہ دار طبقے نے مالی سال 2024-25 میں تاریخی 545 ارب روپے انکم ٹیکس کی مد میں ادا کیے — یعنی برآمد کنندگان (ایکسپورٹرز) اور تاجروں (ریٹیلرز) کی مشترکہ ٹیکس ادائیگی سے دو گنا زیادہ۔ اعداد و شمار جو جھنجھوڑ دیتے ہیں ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق: تنخواہ دار طبقہ: 545 ارب روپے برآمد کنندگان: 180 ارب روپے ریٹیلرز (تاجر): 62 ارب رو...

Cognitive Dissonance and Suppressed Desire in Female Viewership of Wrestling and Popular Cinema: A Socio-Psychoanalytic Study

Image
  Research Paper Cognitive Dissonance and Suppressed Desire in Female Viewership of Wrestling and Popular Cinema: A Socio-Psychoanalytic Study Author: Sahibzada Zabir Saeed Badar Abstract: This paper investigates cognitive dissonance in female audiences regarding wrestling and popular cinema, particularly in culturally conservative societies like Pakistan. It examines how deep-rooted societal expectations suppress emotional and sexual responses in women, leading to contradictions between expressed attitudes and observed behavior. Building on observations by the author and global cinema trends—from Hollywood to Bollywood—it links unconscious desire, cinematic masculinity, and social conditioning using Freudian psychoanalysis and gender theory. It also explores how cultural shifts in the depiction of male bodies have contributed to psychological and social consequences across generations. Research Questions: 1. Do women experience cognitive dissonance when engaging with hyper-physica...