Posts

Showing posts from October, 2024

The Great Game Revisited: Is Pakistan Ready for the Next Round?

Image
  The Great Game Revisited: Is Pakistan Ready for the Next Round? Zabir Saeed Badar   " This morning, while browsing my social media, I came across a post by a senior bureaucrat discussing Pakistan's current political situation. I usually avoid engaging in political debates, but this time I felt compelled to respond, and here’s why." No one can deny that you, like many of us, are a concerned and dedicated Pakistani, but your words seem to drift towards idealism rather than practical realities. We all pray that God sends us leaders who will rescue the nation from its difficulties, but let’s face it—where will such leaders come from? The moon? Mars? The reality is that they will emerge from within our own country. Given the state of affairs we see unfolding, where do we think this new leadership will spring from, and what will it look like? We have already experimented with what many considered to be a fresh face—a former cricket hero turned prime minister. We hoped he woul...

استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر

Image
  استاد_بادشاہ_نہیں_ہوتا_مگر ... صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   کہتے ہیں وقت سب سے بڑا استاد ہے مگر جس ہستی نے مجھے یہ بات سب سے پہلے بتائی وہ میرے استاد تھے۔ استاد کے ساتھ  روح کا رشتہ ہوتا ہے۔استاد کا ادب ہر حال میں فرض ہے۔ میں آج بھی اپنے اساتذہ اکرام کے آگے چلنے کی گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کالج کے دنوں میں ایک وین میں سفر کے دوران میرے اسکول کے زمانے کے استاد ایک اسٹاپ سے بیٹھ گئے۔ وین مسافروں سے بھری ہوئی تھی میں نے استاد محترم کواپنی نشست پیش کی اور اپنا تعارف کروایا تو ان کی آنکھوں میں محبت کی ایک چمک سی آ گئی اور بڑے فخر سے انہوں نے ادھر ادھر دیکھا کہ استاد کا احترام آج بھی معاشرے میں موجود ہے۔ ان کی بوڑھی آنکھوں میں بے غرض محبت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن تھا ان کا فخر دیکھ کر میری روح کی گہرائیوں میں جو سرشاری سی اتری اور جو طمانیت کا احساس ہوا اس کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میری دادی جان فرمایا کرتی تھیں کہ بے ادب بے مراد، باادب بامراد۔ اس سبق کو میں نے ہمیں یاد رکھا یہی وجہ ہے کہ مجھے میرے طالب علموں سے بہت عزت ملی ہےَ جس نوجوا...

یوم اساتذہ پر ایک پرمغز مکالمہ

Image
  یوم اساتذہ پر ایک پر مغز مکالمہ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر  __________________ ڈاکٹر رباز سعید: (مسکراتے ہوئے) "السلام علیکم سب کو، آج کا دن خاص ہے، ٹیچرز ڈے ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کو ایک کہانی سناؤں جس سے آپ سب کو زندگی کا ایک اہم سبق ملے۔ اس کہانی کا مقصد آپ کو یہ سکھانا ہے کہ آپ کس طرح بغیر کسی کو نقصان پہنچائے، بغیر کسی سے حسد کیے،  دوسروں سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ " (طلبا مکمل خاموشی سے ڈاکٹر سعید کی طرف دیکھ رہے ہیں، ڈاکٹر سعید بلیک بورڈ کی طرف بڑھتے ہیں۔) ڈاکٹر رباز سعید: "چند سال پہلے، میں ایک وزیٹنگ پروفیسر کی کلاس میں بیٹھا تھا، بالکل اسی طرح جیسے آپ سب آج بیٹھے ہیں۔ وہ کلاس میں آئے، ایک لفظ کہے بغیر انہوں نے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچی اور ہم سب سے پوچھا کہ اسے چھوئے بغیر کیسے چھوٹا کیا جائے؟" علی:(حیرانی سے) "چھوئے بغیر؟ یہ تو ناممکن ہے، سر!" ڈاکٹر رباز سعید:(مسکراتے ہوئے) "بالکل ایسا ہی ہم نے بھی سوچا تھا۔ لیکن پروفیسر انصاری نے بغیر لکیر کو چھوئے اس کے نیچے ایک بڑی لکیر کھینچ دی، اور یوں پہلی لکیر خود بخود چھوٹی ہو گئی۔" ...

Murphy's Law...Myth or reality

Image
 " مرفی لا: حقیقت یا وہم؟" صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   لاہور کی ایک معروف یونیورسٹی کا کلاس روم، جہاں پروفیسر رباز سعید  اپنی کلاس کو "مرفی لا" کے بارے میں سمجھا رہے ہیں۔ کلاس روم میں ہلکی ہلکی خنکی ہے اور باہر موسم بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔ پروجیکٹر پر مرفی لا کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت ہو رہی ہے۔ کمرے میں ڈسپلنڈ اور مودب ماحول ہے، طالب علم دھیان سے لیکچر سن رہے ہیں اور وقفے وقفے سے سوالات بھی کر رہے ہیں۔ --- پروفیسر  (مسکراتے ہوئے):   "آج کا موضوع بہت دلچسپ ہے، اور اکثر ہماری روزمرہ زندگی میں اسے یاد کیا جاتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں 'مرفی لا' اصل میں کیا ہے؟" حفصہ(پرجوش لہجے میں ):   "جی سر، جب بھی کوئی کام خراب ہوتا ہے یا کچھ غلط ہو جاتا ہے، ہم کہہ دیتے ہیں، 'یہ تو مرفی لا تھا!'" پروفیسر  (ہنستے ہوئے):   "بالکل، یہ ایک عام تاثر ہے۔ 'مرفی لا' بنیادی طور پر کہتا ہے: 'جو کچھ غلط ہو سکتا ہے، وہ غلط ہو گا۔' اور اس قانون کو پہلی بار ایڈورڈ اے مرفی نے 1949 میں بیان کیا، جو ایک ایرواسپیس انجینئر تھے۔ ان کا کام ب...