Pakistan’s Strategic Significance Between U.S. and China”,Zabir Saeed Badar
ا لجزیرہ کے تجزیہ نگار ایرک شاہزار کی رپورٹ — حقیقت سے زیادہ مغالطہ صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر حال ہی میں بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ پر ایک مضمون شائع ہوا جس کے مصنف محترم ایرک شاہزار صاحب ہیں، جو خود کو یونیورسٹی آف ہرٹفورڈ شائر سے وابستہ ایک اکیڈمک بتاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے مضمون میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ حالیہ سفارتی سرگرمیاں کسی "حقیقی تبدیلی" کا مظہر نہیں بلکہ دباؤ کے تحت ایک وقتی "پیوٹ" ہیں۔ میں نے ان کا مضمون بغور پڑھا، اور صاف محسوس کیا کہ یہ تجزیہ زمینی حقائق سے یکسر نابلد اور مغربی نقطۂ نظر سے مرعوب ہے۔ بلکہ کہنا مناسب ہوگا کہ ایرک شاہزار صاحب نے حقائق کو جزوی انداز میں دیکھ کر پوری تصویر بگاڑ دی ہے۔ 🇵🇰 پہلی بات: پاکستان کی جغرافیائی و اسٹریٹجک اہمیت کا اعتراف خود مصنف یہ بات تسلیم کر رہے ہیں کہ پاکستان کی اہمیت امریکہ کے لیے ازسرِنو تسلیم کی جا رہی ہے — خواہ وہ افغانستان کے تناظر میں ہو، یا خطے میں طاقت کے توازن کے حوالے سے۔ لیکن پھر وہ اسی حقیقت کو “وقتی” قرار دے کر اس کی اہمیت کم کرنے کی کوشش کرتے ہ...