Posts

Showing posts from March, 2026

سوشل میڈیائی تباہ کاریاں, دنیا جاگ چکی ہم کب جاگیں گے, زابر سعید بدر

Image
سوشل میڈیائی تباہ کاریاں ___________ دنیا جاگ رہی ہے… کیا ہم ابھی سو رہے ہیں؟ صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک ایک اہم نتیجے پر پہنچ چکے ہیں: سوشل میڈیا بچوں اور کم عمر لڑکے لڑکیوں پر گہرے اور بعض اوقات خطرناک اثرات ڈال رہا ہے۔ اسی لیے گزشتہ دو برسوں میں متعدد ممالک نے یا تو پابندیاں لگا دی ہیں، یا اس کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ آسٹریا نے 14 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کی سمت قدم بڑھا دیا ہے۔ آسٹریلیا  نے سب سے آگے بڑھتے ہوئے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر عملی پابندی نافذ کر دی ہے۔ فرانس، ڈنمارک، یونان اور ناروے 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سخت قوانین یا پابندیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسپین اور ملائشیا نے 16 سال کی حد مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انڈونیشیا  اور بھارت میں بھی کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس محدود کرنے یا بند کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں.   پولینڈ  اور سلووینا بھی اسی سمت قانون سازی کر رہے ہیں۔ جبکہ برطانیہ میں بھی ایسے قوانین پر سنجیدہ غور جاری ہے۔ یہ ایک واضح عالمی پیغام ہے: بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے بے لگام اثرات سے ...

اقبال کا بین الاقوامی تشخص اور روس,صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  اقبال کا بین الاقوامی تشخص اور روس صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر  پاکستان میں چند نام نہاد دانشور قومی میڈیا پر شاعر مشرق علامہ اقبال پر مختلف حوالوں سے حملے کرنے میں مصروف ہیں جس میں ایک معروف نام نہاد دانشور ان پر ایک مقامی اوسط درجے کا شاعر ہونے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں یہ نام نہاد دانشور 22 سال تک جس پارٹی کے لئے عوام کو ووٹ ڈالنے کے لئے کہتے رہے اب برملا اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کے تمام تر انداز غلط تھے چلیے اگر یہ حضرت صرف سیاست تک رہتے تو کوئی بات نہ تھی لیکن انہوں نے تو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی عظیم ذات گرامی پر ھی حملے شروع کردیئے وہ اس حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں کہ  اقبال ایک بین الاقوامی شاعر ہیں اور اس حقیقت کا اعتراف دنیا بھر کے دانشور کئی دہائیوں سے کر رہے ہیں ہمارا آج کا موضوع ہے کہ  روس میں اقبال شناسی کے حوالے سے اب تک کیا کام ہوا ہے روسی عوام پہلی بار گذشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں کلام اقبال سے روشناس ہوئے جب ان کی شاعری کے ترجمے مختلف روسی جرائد اور اخبارات میں شائع ہوئے انیس سو اٹھاون میں اقبال کی اڑتالیس بہترین نظموں پر مبنی ایک م...

اسلام آباد عالمی سیاست کا مرکز بننے جا رہا ہے, ایک تجزیہ صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 موجودہ عالمی تنازعات کے حل میں پاکستان کا کردار صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر بچپن میں ایک روسی صدر کے حوالے سے ایک لطیفہ سنا کرتے تھے کہ پاکستان جیسے حالات کو دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ واقعی کوئی خدا ہے جو اس ملک کو چلا رہا ہے۔ یہ محض ایک لطیفہ تھا، لیکن موجودہ تناظر میں، کہ پاکستان حالیہ جنگ میں سپر پاور اور ہمسایہ ملک کے درمیان صلح کا ضامن بن سکتا ہے اسلام آباد اس کا مرکز ہو گا اور  گزشتہ سال مئی کے بعد پاکستان کی اسٹریٹیجک اہمیت کو دیکھتے ہوئے، کبھی کبھی واقعی یہ احساس ہوتا ہے کہ اس وطن پر کوئی خاص مہربانی ہے۔ یہ ملک جس طرح چل رہا ہے، وہ اپنی جگہ ایک ناقابلِ فہم حقیقت ہے ایک ایسا تسلسل جو عام عقل سے بالاتر محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اس پر خوش ہو جانا بھی کافی نہیں، کیونکہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ اگر مزاکرات ہو بھی جائیں  تو ضروری نہیں کہ مذاکرات کامیاب ہوں، اور اگر کامیاب ہو جائیں تو یہ بھی یقینی نہیں کہ ان پر طویل عرصے تک عمل درآمد ہو۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی سیاست میں فیصلے اکثر وہاں ہوتے ہیں جہاں کسی کی نظر نہیں جاتی۔ جسے عمومی طور پر “ڈیپ اسٹیٹ” کہا جاتا ...

حَضْرَت اُمّ ِ عُمَارَہؓ بِنْتِ کَعْب (نَسِیْبَہ بِنْتِ کَعْبؓ) صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
حَضْرَت اُمّ ِ عُمَارَہؓ بِنْتِ کَعْب (نَسِیْبَہ بِنْتِ کَعْبؓ): جُرأت وَ بَہادُری کا اِسْتِعَارَہ   میدانِ اُحُد کی بے مِثَال شُجَاعَت __________ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر غزوۂ اُحُد میں جب اچانک جنگ کا پانسہ پلٹا اور مسلمانوں میں اِنتشار پھیلا، تو ایک ایسی نازک گھڑی آئی جب رسولِ خدا ﷺ کے گرد گنتی کے چند جاں نثار رہ گئے۔ ایسے میں حضرت اُمّ ِ عُمارہؓ نے اپنی مَشْک پھینکی اور تلوار سونت کر حضور ﷺ کے گرد حِصَار بن گئیں۔ آپؓ دشمن کے تیروں اور تلواروں کے سامنے سینہ سپر ہو گئیں، یہاں تک کہ جسم پر 12 گہرے زخم آئے۔ نبی کریم ﷺ نے آپؓ کی بے مثال شجاعت دیکھ کر فرمایا: > "مَیں نے اُحُد کے دن جِدھر بھی دیکھا (دائیں یا بائیں)، نَسِیْبَہ کو اپنے دِفاع میں لڑتے ہوئے پایا۔" اسی میدانِ کارزار میں آپؓ نے حضور ﷺ سے جنّت میں رفاقت کی دُعا کی درخواست کی، جو قبول ہوئی۔ آپؓ کا یہ کردار ثابت کرتا ہے کہ اسلام میں عورت صرف گھر کی چہار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ بوقتِ ضرورت وہ قوم اور نظریے کی حفاظت کے لیے میدانِ جنگ میں مردوں سے بڑھ کر جوہر دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جذبۂ عشقِ رسول ﷺ اور استقا...

جمہوریت طاقت اور انسانیت بدلتا تناظر ,صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 جمہوریت، طاقت اور انسانیت: ایک جامع تجزیہ صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر ہم نے دیکھا کہ جمہوریت ایک بہت خوبصورت تصور ہے، جس کا بنیادی مقصد عام انسان یعنی عوام کو اظہارِ رائے اور آزادی دینا ہے۔ لیکن یہ آزادی ہمیشہ ایک حد کے ساتھ ہے۔ حالیہ عالمی حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طاقتور ممالک، خاص طور پر وہ سپر پاورز، اپنی پالیسیوں کے خلاف سوالات کرنے والے صحافیوں یا افراد کو دبانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ پریس کانفرنسز میں ایسی آوازیں جو ان کے مفادات کے خلاف ہوں، یا تو تذلیل کے ذریعے خاموش کر دی جاتی ہیں یا وہاں سے نکال دیا جاتا ہے۔ یہی رویہ ہمیں دنیا کے مختلف خطوں، بشمول ترقی پذیر ممالک، میں بھی نظر آتا ہے۔ وہی ممالک جو آزادی اظہارِ رائے اور انسانی حقوق کے نام پر ترقی پذیر ملکوں کو لیکچرز دیتے ہیں، اپنی داخلی پالیسیوں میں شفافیت نہیں رکھتے۔ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے دعوے کرتے ہیں، مگر حقیقت میں اپنے عوام کی آواز کو دبانے میں پیش پیش ہیں۔ سلطنتوں کے خاتمے کے بعد جمہوریت ایک امید کی روشنی کی طرح آئی تھی۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جمہوریت اپنے آخری مراحل میں ہے؟ کیا یہ ختم ہو ر...

امریکہ-اسرائیل ایران جنگ کے پاکستان پر اثرات: محمد زابر سعید بدر

Image
امریکہ-اسرائیل ایران جنگ کے پاکستان پر اثرات: ایک مکمل جائزہ  زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز   28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فضائی کارروائیوں سے ایران پر جنگ شروع ہوئی، جس میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت بھی شامل ہے۔ اس جنگ نے پاکستان کو شدید معاشی، سیکورٹی، سفارتی اور سماجی چیلنجز میں ڈال دیا ہے۔ زابر سعید میڈیا نیوز نیٹ ورک نے دنیا کے معتبر اخبارات کی رپورٹس کی بنیاد پر یہ جامع جائزہ تیار کیا ہے۔   میڈیا اسٹڈیز کے اسٹوڈنٹس کے لیے احتجاج اور تشدد:   ======= نیویارک ٹائمز کے مطابق، پاکستان میں خامنہ ای کی شہادت کے خلاف شدید احتجاج ہوئے۔ کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کی کوشش کی گئی جس سے متعدد افراد ہلاک ہوئے۔   ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، یہ احتجاج "ڈبل وامی" کا حصہ ہیں کیونکہ پاکستان کو ایران اور افغانستان دونوں کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے۔   دی گارڈین کے مطابق، پشاور اور دیگر شہروں میں مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے، جبکہ حکومت نے بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی۔   ...

ہاتھی، چیونٹی اور بدلتی دنیا,صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
  ہاتھی، چیونٹی اور بدلتی  دنیا صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر   دنیا کی سیاست کو اگر ایک جنگل کی کہانی کے انداز میں دیکھا جائے تو منظر کچھ یوں بنتا ہے کہ جنگل میں ایک بہت بڑا ہاتھی ہے۔ طاقتور، مضبوط اور سب سے بڑا۔ اس کی طاقت ایسی ہے کہ برسوں تک جنگل کے اکثر جانور اس کے سائے سے بھی خوف کھاتے رہے۔ اس ہاتھی کا اصل ہتھیار صرف اس کی طاقت نہیں بلکہ اس کا خوف بھی تھا۔ بعض اوقات طاقت سے زیادہ خوف حکومت کرتا ہے، اور یہی خوف ایک عرصے تک اس ہاتھی کی اصل قوت رہا۔ مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کبھی ایک جیسی نہیں رہتی۔ طاقت کے توازن بدلتے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی سلطنت ابھرتی ہے، کبھی کوئی نئی قوت سامنے آتی ہے اور کبھی پرانی طاقتیں نئے انداز میں واپس آتی ہیں۔ آج کے عالمی منظرنامے میں بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ایک طرف وہ موجودہ سپر پاور ہے جسے دنیا برسوں سے سب سے بڑی قوت سمجھتی رہی۔ دوسری طرف ایک سابق سپر پاور ہے جو ماضی میں عالمی سیاست کے میدان میں برابر کی طاقت سمجھی جاتی تھی۔ اور تیسری طرف ایک ابھرتی ہوئی سپر پاور ہے جو خاموشی سے معاشی، عسکری اور تکنیکی میدانوں میں اپنی جگہ بنا رہ...

پٹرول کی قیمت یا معاشی مغالطہ / محمد زابر سعید بدر

Image
   پٹرول کی قیمت یا معاشی مغالطہ ؟ محمد زابر سعید بدر پاکستان میں جب بھی پٹرول کی قیمتوں پر بحث ہوتی ہے تو ایک خاص دلیل فوراً سامنے آ جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر پٹرول کی قیمت کو ڈالر میں تبدیل کر کے دیکھا جائے تو پاکستان میں پٹرول اتنا مہنگا نہیں جتنا سمجھا جا رہا ہے۔ بعض لوگ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر یہ کہتے ہیں کہ بھارت میں پٹرول تقریباً 105 بھارتی روپے فی لیٹر ہے اور اگر اسے پاکستانی روپوں میں تبدیل کیا جائے تو وہ بھی تقریباً پاکستان کی قیمت کے برابر ہی بنتا ہے۔ گویا اس دلیل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتیں غیر معمولی نہیں ہیں۔ بظاہر یہ دلیل بڑی سادہ اور منطقی معلوم ہوتی ہے، مگر معاشیات کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ موازنہ نہایت سطحی اور گمراہ کن ہے۔ کسی بھی ملک میں کسی چیز کی قیمت کا درست اندازہ صرف کرنسی کو تبدیل کر کے نہیں لگایا جا سکتا۔ معاشیات میں اصل معیار یہ ہوتا ہے کہ اس ملک کے شہری کی آمدنی کتنی ہے اور اس آمدنی کے مقابلے میں کسی چیز کی قیمت کتنی پڑتی ہے۔ اگر ہم جنوبی ایشیا کے چند ممالک کو دیکھیں تو تصویر با...

سپر پاور، ریجیم چینج اور انسانی اقدار: ایک فکری جائزہ,صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 سپر پاور، ریجیم چینج اور انسانی اقدار: ایک فکری جائزہ ________ صاحبزادہ محمدزابرسعیدبدر   سپر پاور نے ایک بار پھر وہی ماڈل اختیار کیا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد اس کے لیے آسان راستہ رہا ہے۔ سابق صدر George H. W. Bush نے عراق میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی اور ایک مکمل ملک کو کھنڈر بنا دیا، یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ ایک سپر پاور ہے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ تمام ممالک جو کسی نہ کسی طرح وسائل، خاص طور پر تیل سے، جڑے ہوئے تھے، ایک خاص حکمت عملی کے تحت تباہی اور انتشار کا شکار ہوئے۔ افغانستان میں بھی سپر پاور کے اقدامات کے کوئی مثبت نتائج نظر نہیں آتے، اور جنوبی ایشیا میں امن کی فضا شدید متاثر ہوئی ہے۔ چاہے یہ دور دو طاقتی نظام کا ہو یا آج ایک سول سپر پاور کا، طاقت کے نشے میں مست رہنا سب کچھ دھندلا دیتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے مختلف پالیسی جریدوں میں بھی سپر پاور کے اقدامات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ کوئی گہری ڈیپ پلاننگ نہیں ہے۔ ریجیم چینج ہو بھی جائے، تو کیا ایران کے اندر مستحکم حکومت قائم ہو سکے گی؟ جمہوریت کسی دن میں نہیں آتی، ب...

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
ڈیورنڈ لائن، تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات ---------------------------- ایک تجزیاتی جائزہ                     صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر       پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے جو تاثر قائم کیا گیا ہے وہ اکثر تاریخی حقائق سے مختلف ہے۔ یہ دور پرسیپشن مینجمنٹ کا ہے؛ جو بیانیہ غالب آ جائے وہی سچ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایک تاثر یہ بنایا گیا کہ افغانستان کے مسائل کا ذمہ دار پاکستان ہے، حتیٰ کہ یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان کو تباہ کیا۔ نائن الیون کے بعد اس تاثر سازی پر خاص طور پر کام کیا گیا۔ تاہم تاریخی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کا پس منظر 1893  میں برٹش انڈیا گورنمنٹ اور افغانستان کے امیر عبد الرحمن خان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے دیباچے میں واضح طور پر لکھا گیا کہ سرحدی تنازعات کو باہمی رضامندی سے حل کیا جائے گا۔ سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا گیا۔ معاہدے کی اہم شقیں یہ تھیں:...

اقراء سے دوری: امت کا اصل زوال, صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
اقراء سے دوری: امت کا اصل زوال صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   ہم اکثر اپنی کمزوریوں کا سبب دوسروں کی طاقت کو قرار دیتے ہیں، مگر تاریخ کا سب سے تلخ سبق یہ ہے کہ قومیں باہر سے کم اور اندر سے زیادہ شکست کھاتی ہیں۔ آج اگر مسلمان دنیا کے نقشے پر موجود تو ہیں مگر علمی قیادت سے محروم ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ مسئلہ تعداد کا نہیں، وسائل کا نہیں، فوج کا نہیں — مسئلہ علم سے دوری کا ہے۔ قرآن کا پہلا حکم “اقرأ” ہے۔ یہ محض ایک روحانی پیغام نہیں تھا، یہ تہذیبی سمت کا اعلان تھا۔ یہی وہ حکم تھا جس نے ایک صحرائی معاشرے کو چند صدیوں میں علم کا مرکز بنا دیا۔ بغداد، قرطبہ اور سمرقند صرف شہر نہیں تھے، وہ فکر کے چراغ تھے۔ طب، ریاضی، فلکیات اور فلسفہ میں مسلمانوں نے بنیادیں رکھیں۔ یونانی علوم کے تراجم ہوئے، نئی تحقیقات ہوئیں، الجبرا وجود میں آیا، سائنسی طریقِ کار کو فروغ ملا۔ یہ وہ دور تھا جب علم عبادت سمجھا جاتا تھا۔ مگر پھر تاریخ کا پہیہ رکا نہیں، ہم رک گئے۔ 1258 میں بغداد کی تباہی ایک سانحہ تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے بعد ہم نے کیا کیا؟ یورپ نے بھی طاعون دیکھا، جنگیں ...

اٹھو وگرنہ حشر نہ ہو گا پھر کبھی /صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
  اٹھو وگرنہ حشر نہ ہو گا پھر کبھی صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر   صورتحال بدل رہی ہے۔ یہ وہی صورتحال ہے جس کا کئی برسوں سے ماہرین تذکرہ کرتے آئے ہیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ آخر وہی ہو رہا ہے جس کا سوچا جا رہا تھا یا جس کے بارے میں اندازے لگائے جا رہے تھے۔ وہ لوگ جو اپنی قوم کے لیے گریٹر ملک بنانا چاہتے ہیں، انہوں نے سیاست، تعلیم اور ہنر کے میدان میں دنیا بھر میں آکٹوپس کی طرح ایک جال بنا دیا، اور سب آہستہ آہستہ اس میں پھنستے چلے گئے۔ حتیٰ کہ دنیا کی عظیم طاقتیں، جہاں سے دنیا کے معاملات، مسائل اور سیاست کو کنٹرول کیا جاتا ہے، وہ بھی اس عظیم آکٹوپس کے جال کے شکنجے میں جکڑی نظر آتی ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے اپنا ذہن استعمال کیا۔ خدا نے ہزاروں برس پہلے انہیں جہاں سے نکالا تھا، اب وہ وہیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ اپنا پھیلاؤ بھی کرتے جا رہے ہیں۔ گریٹ گیم تیزی سے اپنا دائرۂ اثر وسیع کر رہی ہے۔ لیکن آپ دیکھ لیں نام نہاد مسلم اُمہ کو، جو نسیم حجازی کے ناولوں نے ہم پاکستانیوں کے ذہن میں انڈیل رکھی تھی۔ آج ہم ایک ہی مذہب کے ماننے والے، ایک ہی رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لیوا...

نیا ریئلزم: انصاف نہیں، طاقت کی حکمرانی / صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  نیا ریئلزم: انصاف نہیں، طاقت کی حکمرانی ____________ صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر پانچویں صدی قبل مسیح میں ایک یونانی مورخ اور مفکر Thucydides نے ایک جملہ لکھا جو آج بھی عالمی سیاست کی دیوار پر کندہ دکھائی دیتا ہے۔ اپنی کتاب History of the Peloponnesian War میں، جسے اس نے تقریباً 431 سے 404 قبل مسیح کے درمیان ہونے والی جنگ کے تناظر میں تحریر کیا، وہ “Melian Dialogue” میں لکھتا ہے:  “The strong do what they can and the weak suffer what they must.” یہ جملہ اس زمانے میں کہا گیا جب دنیا کی آبادی آج کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ نہ ایٹم بم تھا، نہ ہائیڈروجن بم، نہ میزائل سسٹم، نہ مصنوعی ذہانت۔ جنگیں تلواروں اور کشتیوں سے لڑی جاتی تھیں۔ مگر ذہنیت وہی تھی: طاقتور وہی کرے گا جو وہ کر سکتا ہے، کمزور وہی سہے گا جو اس کے حصے میں آئے گا۔ ہزاروں برس گزر گئے۔ انسان نے پہیہ بنایا، صنعت بنائی، سائنس پیدا کی، چاند پر قدم رکھا، اور اب مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے: کیا انسان کی جبلت بدلی؟ پہلی عالمی جنگ (World War I) میں اندازاً 1 کروڑ 60 لاکھ سے 2 کروڑ افر...