نیا ریئلزم: انصاف نہیں، طاقت کی حکمرانی / صاحب زادہ زابر سعید بدر


 نیا ریئلزم: انصاف نہیں، طاقت کی حکمرانی


____________

صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر



پانچویں صدی قبل مسیح میں ایک یونانی مورخ اور مفکر Thucydides نے ایک جملہ لکھا جو آج بھی عالمی سیاست کی دیوار پر کندہ دکھائی دیتا ہے۔ اپنی کتاب History of the Peloponnesian War میں، جسے اس نے تقریباً 431 سے 404 قبل مسیح کے درمیان ہونے والی جنگ کے تناظر میں تحریر کیا، وہ “Melian Dialogue” میں لکھتا ہے:


 “The strong do what they can and the weak suffer what they must.”


یہ جملہ اس زمانے میں کہا گیا جب دنیا کی آبادی آج کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ نہ ایٹم بم تھا، نہ ہائیڈروجن بم، نہ میزائل سسٹم، نہ مصنوعی ذہانت۔ جنگیں تلواروں اور کشتیوں سے لڑی جاتی تھیں۔ مگر ذہنیت وہی تھی: طاقتور وہی کرے گا جو وہ کر سکتا ہے، کمزور وہی سہے گا جو اس کے حصے میں آئے گا۔


ہزاروں برس گزر گئے۔ انسان نے پہیہ بنایا، صنعت بنائی، سائنس پیدا کی، چاند پر قدم رکھا، اور اب مصنوعی ذہانت کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے: کیا انسان کی جبلت بدلی؟


پہلی عالمی جنگ (World War I) میں اندازاً 1 کروڑ 60 لاکھ سے 2 کروڑ افراد مارے گئے۔ دوسری عالمی جنگ (World War II) میں ہلاکتوں کی تعداد 7 سے 8 کروڑ کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ یہ اعداد صرف گنتی نہیں، یہ انسانیت کی چیخیں ہیں۔


ان خونچکاں تجربات کے بعد انسان نے سوچا کہ اب اسے خود کو بچانا ہے۔ اسی سوچ کا نتیجہ 1945 میں United Nations کی صورت میں سامنے آیا۔ مقصد واضح تھا: آئندہ نسلوں کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانا۔


لیکن سوال آج بھی وہی ہے: کیا طاقت کا قانون ختم ہوا؟


دانشور John Avery نے اپنی کتاب Ethics and Evolution (2017) میں لکھا کہ انسان حیاتیاتی ارتقاء کے اعتبار سے تو ترقی کر گیا ہے، مگر اخلاقی ارتقاء ابھی ادھورا ہے۔ اس کے اندر قبائلی ذہنیت، طاقت کا زعم، اور غلبے کی خواہش ابھی بھی زندہ ہے۔ جدید ہتھیاروں کے ساتھ قدیم جبلت کا ملاپ ایک خطرناک امتزاج بن چکا ہے۔


آج 2026 میں کھڑے ہو کر ہم دیکھ رہے ہیں کہ طاقتور اقوام کمزوروں کو اسی طرح نگل رہی ہیں جیسے بھیڑیا میمنے کو۔ دلیل کوئی بھی ہو، الزام کوئی بھی ہو، منطق ہمیشہ طاقت کی طرف جھک جاتی ہے۔ پانی کس نے جھوٹا کیا؟ طاقت ہمیشہ یہی کہے گی کہ میمنے نے کیا، چاہے اس نے پانی کو چھوا بھی نہ ہو۔


یہی وہ “نیو نارمل” ہے جو آہستہ آہستہ عالمی نظام بنتا جا رہا ہے۔ اسے بعض ماہرین “نیو ریئلزم” کہتے ہیں، جہاں اخلاقیات کی جگہ مفاد اور طاقت نے لے لی ہے۔ اقوام متحدہ موجود ہے، قراردادیں موجود ہیں، عالمی قوانین موجود ہیں، مگر جب فیصلہ کن لمحہ آتا ہے تو وہی قدیم جملہ گونجتا ہے: The strong do what they can…


یہ سوال ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا: کیا ہزاروں سال کا ارتقاء انسان کے اندر کے درندے کو قابو نہ کر سکا؟ کیا سائنس نے ہمیں طاقت دی، مگر حکمت نہیں دی؟ کیا ہم نے ایٹم کو توڑ دیا، مگر اپنے غرور کو نہ توڑ سکے؟


انسانیت نے جنگوں کی راکھ سے امن کا خواب ضرور نکالا، مگر وہ خواب ابھی نازک ہے۔ اگر طاقت ہی قانون رہی تو عالمی نظام ایک جنگل کا قانون بن جائے گا، جہاں ہر نئی صبح کسی نئے میمنے کے لیے خطرہ ہوگی۔


شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ارتقاء کو صرف ٹیکنالوجی کے پیمانے سے نہ ناپیں، بلکہ اخلاق کے پیمانے سے بھی ناپیں۔ ورنہ پانچویں صدی قبل مسیح کا جملہ اکیسویں صدی کی پیش گوئی بن کر رہے گا۔

#ZSB

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا