سپر پاور، ریجیم چینج اور انسانی اقدار: ایک فکری جائزہ,صاحب زادہ زابر سعید بدر
سپر پاور، ریجیم چینج اور انسانی اقدار: ایک فکری جائزہ
________
صاحبزادہ محمدزابرسعیدبدر
سپر پاور نے ایک بار پھر وہی ماڈل اختیار کیا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد اس کے لیے آسان راستہ رہا ہے۔ سابق صدر George H. W. Bush نے عراق میں حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی اور ایک مکمل ملک کو کھنڈر بنا دیا، یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ ایک سپر پاور ہے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ تمام ممالک جو کسی نہ کسی طرح وسائل، خاص طور پر تیل سے، جڑے ہوئے تھے، ایک خاص حکمت عملی کے تحت تباہی اور انتشار کا شکار ہوئے۔ افغانستان میں بھی سپر پاور کے اقدامات کے کوئی مثبت نتائج نظر نہیں آتے، اور جنوبی ایشیا میں امن کی فضا شدید متاثر ہوئی ہے۔
چاہے یہ دور دو طاقتی نظام کا ہو یا آج ایک سول سپر پاور کا، طاقت کے نشے میں مست رہنا سب کچھ دھندلا دیتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے مختلف پالیسی جریدوں میں بھی سپر پاور کے اقدامات پر سخت تنقید کی جا رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ کوئی گہری ڈیپ پلاننگ نہیں ہے۔ ریجیم چینج ہو بھی جائے، تو کیا ایران کے اندر مستحکم حکومت قائم ہو سکے گی؟ جمہوریت کسی دن میں نہیں آتی، بلکہ ایک پروسیس کے ذریعے آہستہ آہستہ ایک خوبصورت نظام تشکیل پاتا ہے۔
تاریخی مثالیں اس بات کو واضح کرتی ہیں۔ فروری 1991 میں، George H. W. Bush نے عراق کے عوام سے اپیل کی کہ وہ صدام حسین کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کریں۔ جب عراق کے مظلوم شیعہ اور کرد عوام نے اس اپیل پر عمل کیا، تو باقی بچی ہوئی فورسز نے انہیں کچل دیا، اور ہزاروں افراد مار دیے گئے، جبکہ سپر پاور خاموش تماشائی بنی رہی۔ اس واقعے نے یہ سکھایا کہ طاقت کے مظاہر سے حکومت بدلنا انسانی نقصان اور انتشار کے سوا کچھ نہیں دیتا۔
ایران پر حملے اور صدر Donald Trump کی ویڈیو اپیل اس تاریخی رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام سے کہا کہ “جب ہم اپنا کام ختم کر لیں، تو اپنی حکومت سنبھالیں۔ یہ آپ کا حق ہوگا۔” تاہم کوئی واضح منصوبہ، حکمت عملی یا سماجی پروسیس شامل نہیں تھا۔ ایک ملک میں مستحکم حکومت اور حقیقی جمہوریت صرف داخلی کوشش، صبر، تعلیم، اور تدبر سے پروان چڑھتی ہے، نہ کہ چند دنوں یا ہفتوں میں طاقت کے مظاہر سے۔
عراق کی مثال اور ایران کی موجودہ صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ حکومتیں اور جمہوریتیں مصنوعی طور پر نصب نہیں کی جا سکتیں۔ عراق میں 2003 کے منصوبے کے مطابق حکومت کی تبدیلی جلاوطنوں کے ایک گروہ کو منتقل کی جانی تھی، لیکن امریکی فوج کی کمی اور سیکیورٹی کی عدم فراہمی نے افراتفری اور لوٹ مار کو فروغ دیا۔ ایران میں بھی، IRGC اور پولیس نے گزشتہ برس مظاہرین کو قتل اور ظلم کے ذریعے دبایا، اور عوام میں خوف اور نفرت پائی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں، “مکمل معافی” یا فوری جمہوری شعور کے وعدے حقیقت پسندانہ نہیں ہیں۔
سپر پاور کی طاقت اور جنگ کی حکمت عملی کی تباہ کاریوں کے باوجود، انسانی اقدار، اخلاقیات اور صبر ہی حقیقی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ حکومتیں تباہ کر کے یا عوام پر زبردستی آزادی تھوپ کر کروڑوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا حقیقی آزادی یا امن نہیں لاتا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے پورا باغ اجاڑ کر کہا جائے کہ ہم ایک پودا لگائیں گے۔ حقیقی تبدیلی اندر سے، وقت کے ساتھ، اور انسانی ہمدردی، اخلاقیات اور احترام پر مبنی ہوتی ہے۔
کتاب Ethics and Evolution کے مصنف جان ایوری نے بھی ایک خواب دیکھا کہ دنیا میں جھگڑا نہ ہو، لڑائی نہ ہو، انسان بھوکا نہ ہو اور سب سکون سے رہیں۔ تقریباً ایک صدی پہلے، خاتون راہ نما جہاں آرا شاہنواز، اپنی کتاب Father and Daughter میں بتاتی ہیں کہ وہ بھی ایک ایسی دنیا کا خواب دیکھ رہی تھیں جہاں لوگ نسل، رنگ، مذہب یا قومیت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے نہ لڑیں، بلکہ ایک دوسرے کو انسان کے طور پر دیکھیں۔
یہ تصور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی انسانیت اور اخلاقی ترقی میں سب سے اہم عنصر رسپیکٹ اور ہمدردی ہے۔ اگر ہم سب ایک دوسرے کو صرف انسان کے طور پر دیکھیں، تو رشتے مضبوط ہوں گے، محبت اور ہمدردی بڑھے گی، اور انسانی تکالیف میں کمی آئے گی۔ یہی خدا کا مطمع نظر ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی تکالیف کو سمجھیں اور مدد کریں، چاہے وہ کسی بھی رنگ، نسل، مذہب یا ذات سے تعلق رکھتے ہوں۔
دو عظیم جنگوں کے بعد بھی، کروڑوں انسانی جانوں کے ضیاع، غربت، بھوک، افلاس، اور انتشار کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا۔ طاقت، جب اربوں انسانوں کی تکالیف اور لاشوں پر کھڑی ہو، تو وہ کسی کام کی نہیں۔ حقیقی طاقت وہ ہے جو انسانی تکلیف کو کم کرے، امن قائم کرے، اور اخلاقی ترقی کو فروغ دے۔
سپر پاور کے ہر اقدام، چاہے وہ صدر Donald Trump کی موجودہ حکمت عملی ہو، بش کے دور کی یاد دہانی کراتا ہے: حکومتیں بدلنا، جمہوریت تھوپنا، اور طاقت کے مظاہر کو بڑھانا۔ مگر حقیقی تبدیلی داخلی، تدبیر اور انسانی احترام سے آتی ہے، نہ کہ ہتھیاروں، فضائی بمباری، یا عارضی ریجیم چینج سے۔ ایران کی موجودہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ اگر حقیقی منصوبہ بندی اور انسانی احترام شامل نہ ہو، تو ریجیم چینج تباہی اور خانہ جنگی کا سبب بن سکتا ہے۔
#ZSB


Comments