جمہوریت طاقت اور انسانیت بدلتا تناظر ,صاحب زادہ زابر سعید بدر
جمہوریت، طاقت اور انسانیت: ایک جامع تجزیہ
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
ہم نے دیکھا کہ جمہوریت ایک بہت خوبصورت تصور ہے، جس کا بنیادی مقصد عام انسان یعنی عوام کو اظہارِ رائے اور آزادی دینا ہے۔ لیکن یہ آزادی ہمیشہ ایک حد کے ساتھ ہے۔ حالیہ عالمی حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ طاقتور ممالک، خاص طور پر وہ سپر پاورز، اپنی پالیسیوں کے خلاف سوالات کرنے والے صحافیوں یا افراد کو دبانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ پریس کانفرنسز میں ایسی آوازیں جو ان کے مفادات کے خلاف ہوں، یا تو تذلیل کے ذریعے خاموش کر دی جاتی ہیں یا وہاں سے نکال دیا جاتا ہے۔
یہی رویہ ہمیں دنیا کے مختلف خطوں، بشمول ترقی پذیر ممالک، میں بھی نظر آتا ہے۔ وہی ممالک جو آزادی اظہارِ رائے اور انسانی حقوق کے نام پر ترقی پذیر ملکوں کو لیکچرز دیتے ہیں، اپنی داخلی پالیسیوں میں شفافیت نہیں رکھتے۔ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے دعوے کرتے ہیں، مگر حقیقت میں اپنے عوام کی آواز کو دبانے میں پیش پیش ہیں۔
سلطنتوں کے خاتمے کے بعد جمہوریت ایک امید کی روشنی کی طرح آئی تھی۔ لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جمہوریت اپنے آخری مراحل میں ہے؟ کیا یہ ختم ہو رہی ہے؟ دنیا میں جاری مذہبی، نسلی اور سیاسی جنگیں، بے گھر ہونے والے لاکھوں افراد، معصوم بچوں اور بزرگوں کا قتل، اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ جمہوریت کا تصور کمزور پڑ رہا ہے۔
بیشتر طاقتور ممالک میں منتخب شدہ نظام کے تحت فیصلے کرنے والے حکمران بھی اکثر اپنی عوام کی بات سننے سے قاصر ہیں۔ اگر کوئی ان کے فیصلوں پر اعتراض کرے یا تنقید کرے تو اسے دبایا یا تذلیل کیا جاتا ہے۔ یہ ایک واضح ڈائلیما ہے: ایک طرف جمہوریت کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے، اور دوسری طرف حقیقی انسانی آزادیوں کو محدود کیا جاتا ہے۔
[دنیا کا موجودہ ڈھانچہ: ڈبل اسٹینڈرڈ اور فاشزم کی جانب رجحان]
یہ تضاد یا ڈبل اسٹینڈرڈ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا دنیا دوبارہ فاشسٹ رویوں کی طرف بڑھ رہی ہے؟ ایسے رجحانات جہاں صرف طاقتور اور منتخب شدہ نظام کی رائے کو ترجیح دی جاتی ہے، انسانی اقدار اور جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ جنگیں، قبضہ، طاقت کا ناجائز استعمال اور انسانی جانوں کی بے حرمتی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا امن سے زیادہ تصادم کی طرف جا رہی ہے۔
[علمی، سماجی، نفسیاتی اور اقتصادی پہلو]
1. سائنسی و نفسیاتی زاویہ:
انسانی دماغ میں طاقت اور خوف کے عوامل پر قابو پانے کے رجحانات، جمہوریت کی کمزوری اور جنگ پسندی کو فروغ دیتے ہیں۔ نفسیاتی مطالعے بتاتے ہیں کہ انسان جب مسلسل خوف اور دباؤ میں ہوتا ہے، تو وہ آسانی سے حکومتی اور طاقتور بیانیے کو قبول کر لیتا ہے، چاہے وہ اس کے ذاتی مفاد کے خلاف کیوں نہ ہو۔
2. سماجی زاویہ:
معاشرتی عدم مساوات اور وسائل کی تقسیم میں بے انصافی بھی جمہوریت کی کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ لوگ جذباتی اور مذہبی پہلوؤں میں بٹ جاتے ہیں، جس سے طاقتور نظام آسانی سے اپنی مرضی نافذ کر لیتا ہے۔
3. سیاسی اور اقتصادی زاویہ:
عالمی طاقتیں اپنے اقتصادی مفادات کے تحت دیگر ممالک میں جمہوری اصولوں کو شکل دیتی ہیں، مگر اپنے ملک میں ان اصولوں پر سختی سے قابو پاتی ہیں۔ اس سے نہ صرف دوہرے معیار کو فروغ ملتا ہے بلکہ عالمی سطح پر فاشزم کے رجحانات بھی بڑھتے ہیں۔
دنیا کے موجودہ حالات یہ واضح کرتے ہیں کہ جمہوریت صرف ایک نعرہ یا تصور نہیں رہی بلکہ ایک چلتی پھرتی جنگ کے میدان کی مانند ہو گئی ہے، جہاں انسانی آزادی، انصاف اور مساوات کو کمزور کر کے طاقتوروں کی خواہشات کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر ہم حقیقی انسانی ترقی اور عالمی امن چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ جمہوریت کی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے، طاقتور ممالک کی دوہری پالیسیوں کی نشاندہی کی جائے اور عالمی سطح پر انسانیت کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
#صاحبزادہ_زابرسعیدبدر
14 مارچ 2026


Comments