Posts

Showing posts from 2024

جہانگیر کے دور میں ریاست کا مذہبی ڈھانچہ

 شہنشاہ جہانگیر کے دور میں مذہبی آزادی صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر محمد نور الدین جہانگیر، مغل سلطنت کے چوتھے شہنشاہ ، کا شمار ہندوستان کے ان حکمرانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی حکمرانی کے دوران مذہبی رواداری اور انصاف کے اصولوں کو فروغ دیا۔ ان کے دورِ حکومت (1605-1627) کو ایک ایسے وقت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جب مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو ریاستی سطح پر مساوی حقوق فراہم کیے گئے اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ جہانگیر کے خیالات اور پالیسیاں، جیسا کہ ان کی یادداشتوں تزک جہانگیری میں موجود ہیں، ایک ایسے حکمران کی عکاسی کرتی ہیں جو ذاتی طور پر ایک مخلص مسلمان تھا لیکن اپنی ریاستی پالیسیوں میں مذہبی عقائد کو بنیاد بنانے سے گریز کرتا تھا۔ انہوں نے اللہ کے شکر گزار رہتے ہوئے اپنی فتوحات کو "اسلام کی کامیابیاں" قرار دیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان کے فرامین اور اقدامات واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ انہوں نے دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ کسی بھی قسم کے امتیاز کی حوصلہ شکنی کی۔ جہانگیر کا مذہبی رویہ اور آزادی جہانگیر کی والدہ ایک ہندو راجپوت تھیں، اور اس پس منظر...

ENOUGH IS ENOUGH BY ZABIR SAEED BADAR

Image
  Enough is enough Zᵃᵇⁱʳ Sᵃᵉᵉᵈ Bᵃᵈᵃʳ Why is it so hard for you to understand why you allowed this group to stage this "drama" in the first place? You claim that they are supported by "Afghan elements." You say they possess modern weaponry. We all witnessed the tragic events of May 9. Yet, you have failed to take any concrete action regarding that horrific episode. For the past year and a half, this nation has been the stage of an international drama. You should have used your strength to stop them. Some people only understand the language of force. Some perceive the language of peace, love, and understanding as a sign of weakness. When an animal charges at you, you don’t pamper it—you neutralize it. You’ve spent the last two decades trying to coddle this situation, and even after the May 9 tragedy—a terrifying rebellion, as you have described—you continue to engage in fruitless appeasement. Rebellion is not to be pacified. You have delayed far too long. Regrettably,...

The Great Game Revisited: Is Pakistan Ready for the Next Round?

Image
  The Great Game Revisited: Is Pakistan Ready for the Next Round? Zabir Saeed Badar   " This morning, while browsing my social media, I came across a post by a senior bureaucrat discussing Pakistan's current political situation. I usually avoid engaging in political debates, but this time I felt compelled to respond, and here’s why." No one can deny that you, like many of us, are a concerned and dedicated Pakistani, but your words seem to drift towards idealism rather than practical realities. We all pray that God sends us leaders who will rescue the nation from its difficulties, but let’s face it—where will such leaders come from? The moon? Mars? The reality is that they will emerge from within our own country. Given the state of affairs we see unfolding, where do we think this new leadership will spring from, and what will it look like? We have already experimented with what many considered to be a fresh face—a former cricket hero turned prime minister. We hoped he woul...

استاد بادشاہ نہیں ہوتا مگر

Image
  استاد_بادشاہ_نہیں_ہوتا_مگر ... صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   کہتے ہیں وقت سب سے بڑا استاد ہے مگر جس ہستی نے مجھے یہ بات سب سے پہلے بتائی وہ میرے استاد تھے۔ استاد کے ساتھ  روح کا رشتہ ہوتا ہے۔استاد کا ادب ہر حال میں فرض ہے۔ میں آج بھی اپنے اساتذہ اکرام کے آگے چلنے کی گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کالج کے دنوں میں ایک وین میں سفر کے دوران میرے اسکول کے زمانے کے استاد ایک اسٹاپ سے بیٹھ گئے۔ وین مسافروں سے بھری ہوئی تھی میں نے استاد محترم کواپنی نشست پیش کی اور اپنا تعارف کروایا تو ان کی آنکھوں میں محبت کی ایک چمک سی آ گئی اور بڑے فخر سے انہوں نے ادھر ادھر دیکھا کہ استاد کا احترام آج بھی معاشرے میں موجود ہے۔ ان کی بوڑھی آنکھوں میں بے غرض محبت کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر موجزن تھا ان کا فخر دیکھ کر میری روح کی گہرائیوں میں جو سرشاری سی اتری اور جو طمانیت کا احساس ہوا اس کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میری دادی جان فرمایا کرتی تھیں کہ بے ادب بے مراد، باادب بامراد۔ اس سبق کو میں نے ہمیں یاد رکھا یہی وجہ ہے کہ مجھے میرے طالب علموں سے بہت عزت ملی ہےَ جس نوجوا...

یوم اساتذہ پر ایک پرمغز مکالمہ

Image
  یوم اساتذہ پر ایک پر مغز مکالمہ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر  __________________ ڈاکٹر رباز سعید: (مسکراتے ہوئے) "السلام علیکم سب کو، آج کا دن خاص ہے، ٹیچرز ڈے ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کو ایک کہانی سناؤں جس سے آپ سب کو زندگی کا ایک اہم سبق ملے۔ اس کہانی کا مقصد آپ کو یہ سکھانا ہے کہ آپ کس طرح بغیر کسی کو نقصان پہنچائے، بغیر کسی سے حسد کیے،  دوسروں سے آگے بڑھ سکتے ہیں۔ " (طلبا مکمل خاموشی سے ڈاکٹر سعید کی طرف دیکھ رہے ہیں، ڈاکٹر سعید بلیک بورڈ کی طرف بڑھتے ہیں۔) ڈاکٹر رباز سعید: "چند سال پہلے، میں ایک وزیٹنگ پروفیسر کی کلاس میں بیٹھا تھا، بالکل اسی طرح جیسے آپ سب آج بیٹھے ہیں۔ وہ کلاس میں آئے، ایک لفظ کہے بغیر انہوں نے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچی اور ہم سب سے پوچھا کہ اسے چھوئے بغیر کیسے چھوٹا کیا جائے؟" علی:(حیرانی سے) "چھوئے بغیر؟ یہ تو ناممکن ہے، سر!" ڈاکٹر رباز سعید:(مسکراتے ہوئے) "بالکل ایسا ہی ہم نے بھی سوچا تھا۔ لیکن پروفیسر انصاری نے بغیر لکیر کو چھوئے اس کے نیچے ایک بڑی لکیر کھینچ دی، اور یوں پہلی لکیر خود بخود چھوٹی ہو گئی۔" ...

Murphy's Law...Myth or reality

Image
 " مرفی لا: حقیقت یا وہم؟" صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   لاہور کی ایک معروف یونیورسٹی کا کلاس روم، جہاں پروفیسر رباز سعید  اپنی کلاس کو "مرفی لا" کے بارے میں سمجھا رہے ہیں۔ کلاس روم میں ہلکی ہلکی خنکی ہے اور باہر موسم بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔ پروجیکٹر پر مرفی لا کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت ہو رہی ہے۔ کمرے میں ڈسپلنڈ اور مودب ماحول ہے، طالب علم دھیان سے لیکچر سن رہے ہیں اور وقفے وقفے سے سوالات بھی کر رہے ہیں۔ --- پروفیسر  (مسکراتے ہوئے):   "آج کا موضوع بہت دلچسپ ہے، اور اکثر ہماری روزمرہ زندگی میں اسے یاد کیا جاتا ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں 'مرفی لا' اصل میں کیا ہے؟" حفصہ(پرجوش لہجے میں ):   "جی سر، جب بھی کوئی کام خراب ہوتا ہے یا کچھ غلط ہو جاتا ہے، ہم کہہ دیتے ہیں، 'یہ تو مرفی لا تھا!'" پروفیسر  (ہنستے ہوئے):   "بالکل، یہ ایک عام تاثر ہے۔ 'مرفی لا' بنیادی طور پر کہتا ہے: 'جو کچھ غلط ہو سکتا ہے، وہ غلط ہو گا۔' اور اس قانون کو پہلی بار ایڈورڈ اے مرفی نے 1949 میں بیان کیا، جو ایک ایرواسپیس انجینئر تھے۔ ان کا کام ب...

جب سچ اور جھوٹ کا فرق ختم ہوتا ہے /صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
جھوٹ کی نفسیات صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر ہنّاآرنٹ (1906-1975) ایک مشہور جرمن نژاد فلسفی تھیں  جنہوں نے سیاست، فکریات، اور کلچر کے بارے میں اہم تصورات پیش کیے۔ وہ نازی حکومت کے دوران جرمنی سے فرار ہو کر امریکہ آئیں اور یہاں انہوں نے فلسفہ اور سیاسی سائنس کی تعلیم دی۔ آرنٹ کی سب سے مشہور کتابوں میں"The Origins of Totalitarianism" (1951) اور The Human Condition" (1958) شامل ہیں، جنہوں  نے بیسویں صدی کی سیاست پر گہرا اثر ڈالا۔ جھوٹ اور سچائی کے بارے میں ان کے خیالات خاص طور پر ان کی کتاب "Crises of the Republic" (1972) میں نظر آتے ہیں، جہاں انہوں نے "Lying in Politic" نامی مضمون میں جھوٹ اور سیاسی طاقت کے درمیان تعلق کو واضح کیا۔ اس میں وہ اس بات پر روشنی ڈالتی ہیں کہ کس طرح مسلسل جھوٹ بول کر عوام کو الجھن میں ڈال دیا جاتا ہے، تاکہ آخر کار کوئی بھی کسی بات پر یقین نہ کرے۔ اسی طرح، ان کی دوسری مشہور تصانیف میں "The Life of the Mind" (1978) اور "On Revolution" (1963) بھی شامل ہیں، جن میں انہوں نے انسانی فطرت اور سیاسی اصولوں کا عمیق ت...

اسپیشل بچوں پر ایک پر مغز مکالمہ

Image
مکالمہ : اسپیشل بچوں  پر گفتگو     تحقیق و تدوین صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر معاونت حفصہ زابر سعید یونیورسٹی کیفے کی ایک نکڑ پر ڈاکٹر انوار احمد اور طلباء ایک گول میز کے گرد بیٹھے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب چائے کا کپ اٹھاتے ہیں اور سامنے پلیٹ میں رکھے بسکٹوں میں سے ایک اٹھاتے ہیں۔ حفصہ، امنہ، احمد اور علی بھی چائے کے کپ تھامے ہیں، کیفے میں کچھ اور لوگ بھی موجود ہیں لیکن اس میز پر گہری بات چیت جاری ہے۔ --- ڈاکٹر انوار احمد: (چائے کا ایک گھونٹ لیتے ہوئے)   "تو، آج ہم ایک بہت اہم موضوع پر بات کریں گے۔ اسپیشل چلڈرن، جنہیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن یہ وہ بچے ہیں جنہیں ہماری زیادہ توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔" (مسکرا کر) "حفصہ، تمہاری کیا رائے ہے؟ کیا تم نے کبھی اسپیشل چلڈرن کے بارے میں کچھ پڑھا ہے؟" حفصہ: (گہرائی سے سوچتے ہوئے)   "جی سر، تھوڑا بہت پڑھا ہے۔ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ انہیں 'اسپیشل' کیوں کہا جاتا ہے؟" ڈاکٹر انوار احمد:  "اچھا سوال ہے۔ اسپیشل چلڈرن وہ بچے ہوتے ہیں جو جسمانی، ذہنی، یا جذباتی لحاظ سے دیگر بچوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ...

مطالعہ کی اہمیت پر مکالمہ

Image
یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کا لان۔ ستمبر کا آخر ہے، موسم میں ابھی تک حبس موجود ہے لیکن ہلکی سی خنکی بھی محسوس ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر انوار احمد چند طلباء کے ساتھ ایک نشست میں مصروف ہیں۔ ان کے ارد گرد چند طلباء موجود ہیں: اقبال، سعید، رابعہ اور اسماء۔ گفتگو کا آغاز مطالعے کی اہمیت پر ہو چکا ہے، اور آہستہ آہستہ مزید طلباء بھی اس مکالمے کا حصہ بننے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔ مطالعہ کی اہمیت پر مکالمہ ڈاکٹر انوار احمد: (مسکراتے ہوئے) "اقبال، سعید، رابعہ، اسماء، مجھے خوشی ہوئی کہ آج آپ لوگ مطالعے پر بات کرنا چاہتے ہیں۔ ویسے میں آپ کو بتاؤں، صاحبزادہ زابر سعید بدر صاحب نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں روزنامہ جنگ میں مطالعے کے بارے میں جو کچھ لکھا، وہ انتہائی متاثر کن تھا۔" اقبال: "سر، وہ مضمون میں نے بھی پڑھا! انھوں نے لکھا تھا کہ مطالعہ محض معلومات جمع کرنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ انسان کی شخصیت اور سوچ کی تشکیل کرتا ہے۔" رابعہ: "بالکل! اور سر، جیو نیوز پر بھی ان کے بارے میں ایک رپورٹ دیکھی تھی جس میں مطالعے کے اصول اور دنیا کے مشہور فلسفیوں کی رائے شامل تھی، چاہے وہ مشرق کے ہوں یا...

کیا ایک پرخلوص شخص بے وقوف ہوتا ہے دوستو فسکی کی دی پرنس کے کردار مشکن پر مکالمہ

Image
  یونیورسٹی کیفے، میز پر خلیفہ کی مشہور نان خطائی رکھی ہے اور چائے کے مگ بھاپ دے رہے ہیں۔ کیفے کا ماحول مودب اور خاموش ہے کیونکہ ڈاکٹر انور احمد کا مکالمہ شروع ہو چکا ہے۔ --- ڈاکٹر انور احمد:  (چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے)   "دوستوفسکی کا ناول 'دی ایڈیٹ' انسانی فطرت کی پیچیدگیوں اور اخلاقی نظام پر ایک بے حد خوبصورت طنز ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار  پرنس_مشکن ایک مخلص، سادہ دل اور معصوم شخص ہے۔ لیکن، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں، اس معاشرتی نظام میں اس کی معصومیت کو ناسمجھی اور بیوقوفی سمجھا جاتا ہے۔" حفصہ:  (کچھ الجھن میں)   "سر، کیا واقعی پرنس مشکن جیسا خلوص رکھنے والا شخص بیوقوف ہوتا ہے؟ یعنی جو دوسروں کا خیال رکھتا ہو، اور بدلے میں کچھ نہ مانگے، اسے واقعی بیوقوف کہا جا سکتا ہے؟" ڈاکٹر انور احمد:   (مسکراتے ہوئے)   "یہی تو دوستوفسکی کا نکتہ ہے، حفصہ۔ ہمارے معاشرے میں، جہاں لوگ دھوکہ دہی اور خود غرضی کو ہوشیاری سمجھتے ہیں، وہاں ایک سچے اور خلوص دل انسان کو اکثر بیوقوف کہا جاتا ہے۔ پرنس مشکن کا کردار اس بات کا مظہر ہے کہ سچائی اور معصومیت ک...

صحافت سے ابلاغیات تک استاد اور شاگردوں میں مکالمہ

Image
یونیورسٹی_کیفے_ٹیریا میں پروفیسر ڈاکٹر محمد انوارسعید اپنے چند سٹوڈنٹس کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ گرما گرم چائے کے کپ سامنے رکھے ہیں اور موضوع گفتگو ملک کے نامور صحافی، محقق اور استاد، صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر کی  شخصیت اور کارنامے ہیں۔ ڈاکٹر انوار سعید: "بھئی، آج ہم ایک ایسی شخصیت پر بات کریں گے جو صحافت، ابلاغیات، اور تحقیق میں اپنی خاص پہچان رکھتی ہے۔ جناب زابر سعید بدر صاحب کے کام کو اگر ایک لفظ میں بیان کرنا ہو، تو میں کہوں گا 'انسائیکلوپیڈک'۔ ان کا ذہن واقعی ایک علمی خزانہ ہے!" احمد (پر جوش انداز میں): "سر! آپ ان کے کن کاموں کی بات کر رہے ہیں؟ زابر سعید صاحب کے بارے میں تو بہت کچھ سنا ہے، خاص طور پر ان کی کتابوں کے حوالے سے۔" ڈاکٹرانوار سعید:  "بالکل، احمد! ان کی کتابیں صرف معلومات کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی اور صحافتی شعور کا عکس ہیں۔ تم نے 'صحافت سے ابلاغیات تک' پڑھی ہے؟ یہ وہ کتاب ہے جس پر ڈاکٹر انور سدید نے بھی تبصرہ کیا تھا اور کہا تھا کہ زابر سعید کا ذہن انسائیکلوپیڈیا جیسا ہے۔" حفصہ (مسکراتے ہوئے):   "ہاں، سر! آ...

خلیل جبران کا فلسفہ محبت اور کتاب دی پرافٹ (مکالمہ 3)

Image
  یہ مکالمہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ محبت ایک پاکیزہ اور روحانی جذبہ ہے، اور اس کی قدر و قیمت کو سمجھنا چاہیے، جیسے خلیل جبران نے اپنی کتاب "The Prophet" میں بیان کیا۔ آج کل کے نوجوانوں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محبت محض جسمانی تعلق نہیں بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو خدا، خود، اور دوسروں کے قریب لاتی ہے تحریر و تدوین:  صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر پیشکش: حفصہ زابر سعید یونیورسٹی_کیفے ٹیریا میں ہلکی پھلکی موسیقی چل رہی ہے، موسم خوشگوار ہے۔ ایک جانب چند طالب علم (آمنہ، حفصہ، احمد اور علی) ایک میز کے گرد بیٹھے ہیں۔ استاد محترم ڈاکٹر انوار احمد اپنی گہری سوچوں میں بیٹھے ہیں، ان کے سامنے "#TheProphet" کتاب رکھی ہے۔ آج #حفصہ_کی_سالگرہ ہے، اور میز پر لیموں ٹارٹ کا کیک رکھا ہوا ہے جسے بعد میں کاٹا جائے گا۔ کیفے میں خوشی کا ماحول ہے، لیکن گفتگو کا آغاز ایک سنجیدہ موضوع سے ہوتا ہے۔ --- آمنہ: (استاد کی طرف دیکھتے ہوئے) سر، آج کا لیکچر بہت معلوماتی تھا۔ خاص طور پر جب آپ نے خلیل جبران کا ذکر کیا۔ ہم نے ان کا نام تو سن رکھا ہے، لیکن کیا آپ ہمیں ان کی کتاب "The P...