Posts

Showing posts with the label zabir

زندگی کی سب سے سے اہم حقیقت, زابر سعید بدر

Image
  زندگی کی خوبصورت حقیقتیں یہ تحریر ایک انگریزی ویڈیو سے متاثر ہو کر اردو میں ڈھالی گئی ہے۔ جب میں نے اسے صبح سنا تو دل چاہا کہ ان خوبصورت خیالات کو اپنی زبان میں سب دوستوں، طلبہ اور اردو کے چاہنے والوں تک پہنچاؤں۔ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر یاد رکھو، تم سے پہلے اربوں لوگ اس دنیا میں جی چکے ہیں۔ وہ ہنسے، وہ روئے، وہ محبت میں پڑے، انہوں نے نفرت کی، جنگیں لڑیں، اپنے خداؤں سے دعائیں کیں۔ انہوں نے سوچا کہ ان کی کہانی منفرد ہے، انہوں نے سمجھا کہ ان کی محبت انوکھی ہے، ان کا درد بے مثال ہے، ان کی فتوحات لازوال ہیں۔ اور اب وہ کہاں ہیں؟ سب جا چکے، کوئی نشان باقی نہیں۔ جیسے وہ کبھی موجود ہی نہ تھے۔ ان کے ڈرامے، خواہشات، دل ٹوٹنے کے لمحے سب مٹ گئے—بالکل پانی پر لکھی تحریر کی طرح۔ تم بھی اسی خواب کو دہرا رہے ہو۔ تمہیں محبت ہوتی ہے اور تم سوچتے ہو: اوہ! یہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ تم تکلیف سہتے ہو اور یقین کرتے ہو کہ تمہارا دکھ نرالا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے، یہ اربوں زندگیاں پہلے بھی جھیل چکی ہیں۔ اور وجود کو اس کی کوئی پرواہ ...

خلیل جبران کا فلسفہ محبت اور کتاب دی پرافٹ (مکالمہ 3)

Image
  یہ مکالمہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ محبت ایک پاکیزہ اور روحانی جذبہ ہے، اور اس کی قدر و قیمت کو سمجھنا چاہیے، جیسے خلیل جبران نے اپنی کتاب "The Prophet" میں بیان کیا۔ آج کل کے نوجوانوں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محبت محض جسمانی تعلق نہیں بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو خدا، خود، اور دوسروں کے قریب لاتی ہے تحریر و تدوین:  صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر پیشکش: حفصہ زابر سعید یونیورسٹی_کیفے ٹیریا میں ہلکی پھلکی موسیقی چل رہی ہے، موسم خوشگوار ہے۔ ایک جانب چند طالب علم (آمنہ، حفصہ، احمد اور علی) ایک میز کے گرد بیٹھے ہیں۔ استاد محترم ڈاکٹر انوار احمد اپنی گہری سوچوں میں بیٹھے ہیں، ان کے سامنے "#TheProphet" کتاب رکھی ہے۔ آج #حفصہ_کی_سالگرہ ہے، اور میز پر لیموں ٹارٹ کا کیک رکھا ہوا ہے جسے بعد میں کاٹا جائے گا۔ کیفے میں خوشی کا ماحول ہے، لیکن گفتگو کا آغاز ایک سنجیدہ موضوع سے ہوتا ہے۔ --- آمنہ: (استاد کی طرف دیکھتے ہوئے) سر، آج کا لیکچر بہت معلوماتی تھا۔ خاص طور پر جب آپ نے خلیل جبران کا ذکر کیا۔ ہم نے ان کا نام تو سن رکھا ہے، لیکن کیا آپ ہمیں ان کی کتاب "The P...

BIBI JAN | بی بی جان | Sahibzada #ZABIR_SAEED |

Image

برما کے مظلوم مسلمان اور وحشت,بربریت اور سفاکیت کا ننگا ناچ/صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر

Image
                  برما کے مظلوم مسلمان اور وحشت,بربریت اور  سفاکیت کا ننگا ناچ    صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’بانگ درا‘ میں اپنی نظم ”غلام قادر روہیلہ“ میں اقوام کے عروج و زوال کے اہم اسباب میں سے ایک اہم سبب پر روشنی ڈالی ہے اسی لئے انہیں ”دانائے راز“ کہا جاتا ہے: مگر یہ راز آخر کھل گیا سارے زمانے پر حمیت نام ہے جس کا گئی تیمور کے گھر سے غلام قادر روہیلہ برصغیر کی تاریخ میں ایک انتہائی سفاک اور سنگدل شخص گزرا ہے جس نے مغل شہنشاہ شاہ عالم کی آنکھیں نکلوا ڈالیں اور مغل شہنشاہیت کے جبروت اور سطوت کی نشانی لال قلعہ میں تیمور اور بابر کی بیٹیوں کو ناچنے کا حکم دے دیا۔ علامہ اقبالؒ نے برصغیر کی تاریخ کے اہم دردناک واقعے کی طرف اشارہ کردیا ہے‘ جب غلام قادر روہیلہ نے لال قلعہ کے دیوان خاص میں جہاں کبھی شہاب الدین محمد شاہجہاں اور اورنگزیب عالمگیر تخت طاؤس پر بیٹھ کر ہندوستان کی تقدیر کے فیصلے کرتے تھے‘ اسی دیوان خاص میں اس نے مغل شہزادیوں کو ناچنے کا ...