وقت کی بازگشت: آئن سٹائن کا خط, صاحب زادہ زابر سعید بدر
وقت کی بازگشت: آئن سٹائن کا خط
صاحب زادہ
محمد زابر سعید بدر
اپریل 1948 کی ایک شام تھی۔ دنیا ابھی دوسری جنگِ عظیم کے زخم سہلا رہی تھی، اور انسانیت اپنی ہی بنائی ہوئی تباہی کے ملبے سے راستہ تلاش کر رہی تھی۔ ایسے میں ایک شخص، جو کائنات کے راز کھولنے میں مصروف رہتا تھا، اچانک زمین کے ایک ٹکڑے کی طرف متوجہ ہوا۔ یہ شخص تھا ڈاکٹر البرٹ آئن سٹائن ۔
اس نے ایک خط لکھا الفاظ کم تھے، مگر وزن بہت تھا۔ یہ خط محض سیاست نہیں تھا، یہ ایک ضمیر کی آواز تھی۔
یہ وہ وقت تھا جب ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، اور اس بنیاد کے نیچے کچھ ایسے واقعات بھی دفن ہو رہے تھے جن کی بازگشت دور تک سنائی دینی تھی۔ کچھ واقعات نے حساس ذہنوں کو جھنجھوڑ دیا تھا۔
ائن سٹائن نے لکھا
“اگر اس نئی ریاست کی بنیاد دہشت اور خوف پر رکھی گئی، اگر اس کے رہنما ایسے عناصر ہوں جو فاشسٹ ذہن رکھتے ہیں، تو یہ نہ صرف اس خطے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک خطرناک مثال بن جائے گی۔”
یہ محض ایک جملہ نہیں تھا، یہ ایک پیش گوئی تھی یا شاید ایک انتباہ۔
آج، جب ہم کئی دہائیوں بعد اسی خطے کی طرف دیکھتے ہیں، تو سوال خود بخود جنم لیتا ہے:
کیا وہ خدشہ، جو ایک سائنس دان نے محسوس کیا تھا، وقت کے ساتھ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے؟
یہ سوال آسان نہیں۔ اس کا جواب بھی سادہ “ہاں” یا “نہیں” میں نہیں دیا جا سکتا۔ مگر اتنا ضرور ہے کہ طاقت اور انصاف کے درمیان جو کشمکش اُس وقت تھی، وہ آج بھی برقرار ہے شاید پہلے سے زیادہ پیچیدہ شکل میں۔
ایک طرف سکیورٹی کا بیانیہ ہے، دوسری طرف انسانی حقوق کی دہائی۔ ایک طرف تاریخ کے زخم ہیں، دوسری طرف حال کے آنسو۔ اور ان دونوں کے درمیان ایک عام انسان کھڑا ہے وہی انسان جس کے لیے ائن سٹائن نے سوچا تھا، جس کے لیے وہ خوفزدہ تھا۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ائن سٹائن خود اسی قوم سے تعلق رکھتے تھے، جس کے لیے یہ ریاست بن رہی تھی۔ مگر اس کے باوجود، انہوں نے اندھی حمایت کے بجائے اصولی موقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انصاف کو قربان کر دیا جائے، تو کوئی بھی ریاست دیرپا امن حاصل نہیں کر سکتی۔
یہاں اصل سوال ریاست کا نام نہیں، اس کا کردار ہے۔
یہاں بحث جغرافیہ کی نہیں، اخلاقیات کی ہے۔
وقت گزر چکا ہے، نقشے بدل چکے ہیں، مگر وہ خط آج بھی زندہ ہے۔
ہر بار جب کسی بستی سے دھواں اٹھتا ہے، ہر بار جب کوئی بے گھر ہوتا ہے، وہ الفاظ کہیں نہ کہیں سنائی دیتے ہیں۔
شاید اسی لیے تاریخ ہمیں بار بار یاد دلاتی ہے:
ریاستیں طاقت سے بنتی ہیں، مگر قائم انصاف سے رہتی ہیں۔
#ZSB

Comments