پاکستان ایک نیا پیراڈائم شفٹ, امن کا سفیر, زابر سعید بدر
پاکستان ایک نیا پیراڈائم شفٹ
صاحب زادہ
محمد زابر سعید بدر
ابھی وہ لمحہ گزرا ہے جس کا ہم حصہ بن گیے. ہم اس تاریخی لمحے کا حصہ تھے اس لیے محسوس نہ کر سکے کہ دنیا کیا سے کیا ہو گئی. پاکستان یک دم آسمان کی وسعتوں کو چھو آیا ہے
اس کے نام کے ساتھ 'امن' جڑ گیا ہے
کہاں وہ وقت تھا جب پاکستان کا نام عالمی بیانیے میں ایک ایسے ملک کے طور پر لیا جاتا تھا جس پر دہشت گردی کے الزامات کی گرد جمی ہوئی تھی؛ جہاں پاکستانی پاسپورٹ محض ایک سفری دستاویز نہیں بلکہ ایک بوجھ سمجھا جاتا تھا؛ جہاں بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا ذکر آتے ہی شکوک، فاصلے اور احتیاط کی فضا قائم ہو جاتی تھی اور کہاں آج کا لمحہ ہے کہ اسی پاکستان کے نام کے ساتھ “امن” کا استعارہ جوڑا جا رہا ہے، اور عالمی سطح پر اسے مصالحت، توازن اور ذمہ دار سفارت کاری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں، بلکہ ایک حقیقی پیراڈائم شفٹ ہے ایسی فکری، سفارتی اور تزویراتی تبدیلی جس نے نہ صرف عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا بلکہ جنوبی ایشیا کے طاقت کے توازن (Balance of Power) میں بھی ایک نیا زاویہ پیدا کیا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ریاستیں محض اپنی عسکری قوت سے نہیں، بلکہ اپنی سفارتی بصیرت، تحمل، اور بروقت فیصلہ سازی سے پہچانی جاتی ہیں اور پاکستان نے حالیہ پیش رفت میں یہی کردار ادا کیا ہے۔
تاریخ کے اوراق جب اس دور کو رقم کریں گے تو اسے محض ایک وقتی سفارتی کامیابی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک سٹرٹیجک ری الائنمنٹ کے طور پر یاد رکھا جائے گا—ایک ایسا موڑ جہاں پاکستان نے اپنے امیج کو دفاعی پوزیشن سے نکال کر ایک فعال، مثبت اور بااثر کردار میں تبدیل کیا۔ یہ تبدیلی برسوں کی خاموش محنت، پیچیدہ علاقائی سیاست کی سمجھ، اور عالمی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی مہارت کا نتیجہ ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ پیش رفت محض انسانی کوششوں کا حاصل نہیں بلکہ ایک بڑی نعمت ایک ایسی “Blessing”بھی ہے جسے اہلِ نظر ایک وسیع تر تناظر میں دیکھتے ہیں۔ کیونکہ قوموں کی تقدیر میں ایسے مواقع صدیوں میں کبھی کبھار آتے ہیں جب تاریخ انہیں خود کو ازسرِ نو متعارف کرانے کا موقع دیتی ہے۔
آج پاکستان کا یہ کردار نہ صرف اس کے ماضی کے بیانیے کی نفی کر رہا ہے بلکہ ایک نئی سمت متعین کر رہا ہے ایک ایسی سمت جہاں “سیکیورٹی اسٹیٹ” کا تصور دھیرے دھیرے “ریسپانسبل پیس ایکٹر” میں ڈھل رہا ہے۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو آنے والی دہائیوں میں بین الاقوامی تعلقات، سفارت کاری اور علاقائی سیاست کے طلبہ کو بطور کیس اسٹڈی پڑھائی جائے گی کہ کیسے ایک ریاست نے اپنے بیانیے کو بدلا، اپنی جگہ بنائی، اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ امن صرف ایک خواب نہیں، بلکہ ایک عملی حکمتِ عملی بھی ہو سکتا ہے۔

Comments