امریکہ اور چین: تصادم کے کنارے پر عالمی طاقتیں,زابر سعید بدر

 امریکہ اور چین: تصادم کے کنارے پر عالمی طاقتیں


صاحب زادہ  زابر سعید بدر



یہ کالم Foreign Affairs میگزین، مارچ/اپریل 2026 میں شائع ہونے والے مضمون "America and China at the Edge of Ruin" پر مبنی ہے، جس میں ڈیویڈ ایم۔ لیمپٹن اور وانگ جیسی نے امریکہ اور چین کے تعلقات کا انتہائی مفصل اور فکری جائزہ پیش کیا ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف موجودہ بین الاقوامی سیاست کو سمجھنے میں معاون ہے بلکہ عالمی سطح پر طویل المدتی اقتصادی، فوجی اور ثقافتی اثرات پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ مضمون میں اٹھائے گئے نکات ایک ایسے نقطہ نظر فراہم کرتے ہیں جو پالیسی سازوں، محققین اور عام قاری کے لیے غور و فکر کے مواقع پیدا کرتا ہے۔


مضمون کے مطابق، آج امریکہ اور چین کے درمیان خطرہ کسی جان بوجھ کر ہونے والی جنگ سے زیادہ، حادثاتی تصادم میں مضمر ہے۔ مثال کے طور پر اپریل 2001 میں چین کے فضائی جہاز اور امریکی EP-3 جاسوسی طیارے کا ہانائی جزیرے کے قریب تصادم، یا مئی 1999 میں بیلگرےڈ میں امریکی بمباری جسے امریکہ حادثاتی قرار دیتا ہے، یہ دکھاتے ہیں کہ معمولی غلط فہمی بھی بڑے تنازعات یا یہاں تک کہ ایٹمی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔


تاہم، یہ صورتحال ناقابل واپسی نہیں۔ آنے والے مہینے ایک نایاب موقع فراہم کر سکتے ہیں جس میں سیاسی حالات، اقتصادی ضروریات اور دونوں ممالک میں اسٹریٹجک تھکن ایسی بنیادیں فراہم کریں جو تعلقات کو مستحکم اور معمول پر لانے میں مددگار ہوں۔ مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں دشمنی کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ وہ صرف بیان بازی تک محدود نہیں، بلکہ فوجی منصوبہ بندی، اتحاد و شراکت داری، برآمدی کنٹرول اور عوامی پالیسی میں بھی شامل ہیں، جو مسلسل بے اعتمادی اور ردعمل کی حالت پیدا کرتے ہیں۔


فوجی محاذ پر، ایٹمی اور روایتی فوجی طاقتوں کی تیز رفتار جدید کاری، خلائی، سائبر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جنگی صلاحیتوں کی توسیع، دفاعی پیچیدگیوں کو بڑھا رہی ہے اور ہتھیاروں کی دوڑ میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ مغربی بحر الکاہل میں چینی اور امریکی بحری اور فضائی افواج کے درمیان کئی قریب قریب حادثات ہو چکے ہیں، اور کسی بھی غلط حساب یا حادثے کی صورت میں تصادم ممکن ہے، جو دونوں ایٹمی طاقتوں اور دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے لیے خطرہ ہے۔


اقتصادی لحاظ سے، امریکہ اور چین کے درمیان ایک وقت میں باہمی انحصار تعلقات کا مستحکم ستون سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ بنیادی طور پر کمزوری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ تجارتی پابندیاں، صنعتی پالیسی، اور سپلائی چین کی تبدیلی نے اقتصادی فوائد پر حاوی ہو کر تعلقات کی بنیاد کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں بھی انتشار اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، جیسے کہ نایاب دھاتوں اور ہائی کیپیسٹی چپس کی تجارت میں حالیہ رکاوٹیں۔


ثقافتی اور سفارتی لحاظ سے بھی عوامی اور تعلیمی رابطے کمزور ہو گئے ہیں۔ چین میں امریکی زائرین کی تعداد کم ہو گئی ہے، تعلیمی و تحقیقی تعاون محدود ہو گیا ہے، اور دونوں ممالک میں طلبہ، اساتذہ اور محققین محتاط ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ، ہر حکومت تعلقات کو جغرافیائی یا تہذیبی بنیادوں پر دیکھنے پر آمادہ ہو رہی ہے، جس سے پالیسی اختلافات معمولی نہیں رہتے بلکہ سیاسی ماحول میں شدید تناؤ پیدا ہوتا ہے۔


مضمون میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ ہماری موجودہ نسل نے امریکہ-چین دشمنی کو ایک حقیقی انسانی المیہ کے طور پر دیکھا ہے، نہ کہ محض جغرافیائی کھیل کے طور پر۔ امریکیوں نے کوریا اور ویتنام کی جنگوں میں انسانی نقصانات اور عدم استحکام کا سامنا کیا، جبکہ چینی نسل نے بھی کوریا اور ویتنام میں فوجی اور اقتصادی قربانیاں دیں۔ اس تجربے نے دونوں ممالک میں اسٹریٹجک دشمنی کو نہ صرف پالیسی بلکہ تعلیم، میڈیا اور عوامی زندگی میں بھی شامل کر دیا۔


تاہم، حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کے لیے دوبارہ پیش رفت کے آثار دکھائے ہیں۔ چین نے امریکہ کی سویابین خریداری دوبارہ شروع کرنے، نایاب دھاتوں کے برآمدی کنٹرول کو معطل کرنے اور غیر قانونی فینٹینائل کی روک تھام میں تعاون کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکہ نے بھی تجارتی اور تکنیکی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے نرم رویہ اختیار کیا ہے، جس میں امریکی کمپنی Nvidia کو چین کو اہم چپس کی فروخت کی اجازت شامل ہے۔


عوامی رائے کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے لوگ تصادم کے موجودہ راستے کو مہنگا اور غیر ضروری سمجھ رہے ہیں۔ شکاگو کونسل آن گلوبل افیئرز کے ایک سروے کے مطابق، 53 فیصد امریکی اب چین کے ساتھ دوستانہ تعاون اور تعلقات کی حمایت کرتے ہیں، جو 2024 میں 40 فیصد تھی۔ اسی طرح، چینی شہری بھی امریکہ کے حوالے سے نرم رویہ اختیار کر رہے ہیں، جیسا کہ تسنغوا یونیورسٹی کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے۔


تائیوان کے مسئلے پر بھی مضمون میں تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ چین کی 2005 کی اینٹی سیشن قانون کے مطابق، تائیوان کے ساتھ غیر پرامن اقدامات تب ہی جائز ہیں جب وہ علیحدگی کا اعلان کرے یا تمام پرامن امکانات ختم ہو جائیں۔ موجودہ حالات میں، بیجنگ نے فوجی قبضے کا کوئی عندیہ نہیں دیا اور پرامن اتحاد پر زور دیا ہے۔ امریکہ کو بھی یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ تائیوان کی علیحدگی کی حمایت نہیں کرتا۔


اس کے علاوہ، امریکہ اور چین کو تجارتی، ثقافتی اور تعلیمی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ قونصل خانے دوبارہ کھولنا، محصولات اور تجارتی رکاوٹوں میں کمی، اور علمی و تحقیقاتی تبادلے بحال کرنا ضروری ہیں۔ اس سے غلط فہمیوں اور معاشرتی فاصلے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ فوجی سطح پر بات چیت بھی ضروری ہے تاکہ حادثات اور غلط اندازوں کے امکانات کم ہوں اور ہتھیاروں کی دوڑ کے محرکات پر غور کیا جا سکے۔


مضمون کا اختتام اس بات پر زور دیتا ہے کہ دونوں ممالک کے پاس اب یہ نایاب موقع ہے کہ وہ تعلقات کو نئے سرے سے معمول پر لائیں۔ اگر یہ موقع ضائع ہو گیا، تو مستقبل میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کی حفاظت ناممکن ہو جائے گی۔ جیسا کہ ماؤ نے 1963 میں کہا، اور نکسن نے 1972 میں اپنے تاریخی دورے کے دوران اس کی اہمیت کو اجاگر کیا: "دس ہزار سال بہت طویل ہیں۔ دن کو قابو کریں، لمحے کو قابو کریں!"

یہ مضمون ہمیں نہ صرف امریکہ اور چین کے تعلقات کی پیچیدگی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ عالمی سیاست میں داخلی اور خارجی فیصلوں کی اہمیت کو بھی واضح کرتا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ تصادم کے کنارے پر دونوں ممالک کے لیے سمجھداری، صبر، اور محتاط اقدامات ضروری ہیں، تاکہ عالمی امن اور اقتصادی استحکام کو محفوظ رکھا جا سکے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا