ابو جی! آپ ٹھیک کہتے تھے کہ پاکستان پر کرم ہے, زابر سعید بدر


 ابوجی! آپ ٹھیک کہتے تھے، پاکستان پر اللہ کا خاص کرم ہے

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر



بچپن ہی سے میرے اندر ایک عقلی اور تجزیاتی سوچ موجود تھی۔ والدِ گرامی جناب #سعیدبدر صاحب ایک واقعہ  اکثر سنایا کرتے کہ زابر کو ساگ کھانا سخت ناپسند تھا۔ میں ان دنوں شاد باغ کے سینٹ جوزف سکول میں زیرِ تعلیم تھا۔ اگرچہ اس عمر میں سائنسی مضامین کی باقاعدہ تفریق نہیں ہوتی، تاہم فطری طور پر طبیعت مائل بہ عقلیت پسندی تھی۔




ان دنوں میرے پاس ایک لڈو تھی جس کی گوٹس پر مقناطیس تھا.جو لوہے کے بورڈ سے چپک جاتیں اس لیے مجھے یہ معلوم تھا کہ میگنٹ لوہے کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔ یہ ایک سادہ سا مشاہدہ میرے ذہن میں ثبت تھا۔ 


 ایک دن جب ہم سب ڈائینگ ٹیبل پر ڈنر کر رہے تھے والد صاحب, والدہ صاحبہ دادی جان (بی بی جان) چھوٹی بہن شمائلہ موجود تھے اور میں نے ساگ کھانے سے انکار کر رہا تھا جو مجھے سخت ناپسند تھا تو والدِ محترم نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ ساگ میں آئرن پایا جاتا ہے، اور آئرن انسان کے جسم کو مضبوط بناتا ہے، ہڈیوں کو طاقت بخشتا ہے۔ میرے ننھے مگر متجسس ذہن نے اس بات کو قبول کر لیا اور میں نے ساگ کھا لیا۔



کھانے کے بعد ، اسی تجسس کے تحت میں نے لڈو کے میگنٹ سے ساگ پر ایک چھوٹا سا تجربہ کیا، مگر ظاہر ہے کہ وہ اس سے چپک نہ سکا۔ اس کے باوجود میرے دل میں یہ یقین کامل تھا کہ والدِ گرامی کی بات غلط نہیں ہو سکتی۔ جب میں نے والدہ محترمہ سے استفسار کیا تو انہوں نے نہایت سادہ انداز میں سمجھایا کہ ساگ میں واقعی آئرن ہوتا ہے، لیکن اس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، جس کی تفصیل مجھے بہت پڑھنے سے معلوم ہوگی۔ اس لیے بہت زیادہ پڑھنا چاہیے گھر کا ماحول ویسے ہی پڑھائی لکھائی کا تھا.. دادا ابو صاحب دیوان شاعر اور کتابیں ہی کتابیں, والد گرامی کے پاس تو ہزاروں کتابیں تھیں.فیروز سنز جانا ہمارا معمول تھا انکل سعید لخت سے ملنا اور ڈھیروں کتابیں خریدنا مجھے یاد ہے انہی دنوں میں نے فیروز سنز کا اردو انسائیکلو پیڈیا لیا.جس کا وزن میرے جتنا ہی تھا. 






انگریزی اردو اخبارات کا پورا لشکر بچوں کے تمام رسالوں کے ساتھ گھر آیا کرتا جن کو میں چاٹ جایا کرتا.  


بعد میں جب میں نے سائنس کا باقاعدہ مطالعہ کیا تو آرگینک اور اِن آرگینک آئرن کے فرق نے اس معصوم تجسس کو ایک سائنسی فہم میں بدل دیا۔



یہ واقعہ دراصل اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ بچپن ہی سے میری سوچ میں سائنسی انداز اور تجزیاتی پہلو نمایاں تھا۔ اگر ہم فرائڈ کے نظریات کی روشنی میں دیکھیں تو بچپن کے تاثرات اور افکار انسان کی شخصیت پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کرتے ہیں۔


چند برس قبل، چھ مئی 2022 کو والدِ گرامی اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے جانے سے قبل وطن عزیز کے حالات بتدریج پیچیدہ ہوتے جا رہے تھے۔ اگرچہ میں نے کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑا، مگر حالات کی سنگینی بعض اوقات دل میں اضطراب ضرور پیدا کر دیتی تھی کہ کہیں بین الاقوامی قوتیں پاکستان کو کمزور کرنے کے درپے نہ ہوں۔









ایسے مواقع پر، میں نہایت ادب کے ساتھ والدِ محترم سے مکالمہ کرتا اور تاریخ کے حوالے دیتا کہ عظیم سلطنتیں مٹ گئیں، طاقتور حکمران گمنامی میں کھو گئے، تو پاکستان بھی آخر ایک ریاست ہے، جسے ایسے ہی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ مگر والدِ گرامی، جو خود تاریخ کے عمیق طالب علم تھے، ہمیشہ ایک پُرسکون یقین کے ساتھ فرماتے کہ یہ سب اپنی جگہ، لیکن پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے۔


آج جب میں حالیہ برسوں کے واقعات پر نگاہ ڈالتا ہوں، خصوصاً مئی 2025 کے بعد کی صورتحال پر، تو دل بے اختیار یہی چاہتا ہے کہ کاش وہ آج موجود ہوتے۔ وہ یقیناً مسکرا کر کہتے: "دیکھا، میں نے کہا تھا نا۔"لیکن مجھے یقین ہے کہ اللہ کی رحمت کے سائے میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی محبت کی امان میں وہ جنت میں بہت خوش ہیں اور میں یہ خوشی ان کے چہرے پر محسوس کر سکتا ہوں.. ابو مسکراتے ہوئے بہت اچھے لگتے انکل منظر بشیر ان کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر ہمیشہ کہتے.. سعید مسکراتے رہا ہو آپ پر مسکراہٹ بہت سوٹ کرتی ہے... انکل منظر کی مسکراہٹ بھی بے حد خوبصورت تھی وضع داری کی اپنی مثال آپ تھے ان کے نقوش میں جسٹس شاہ دین, میاں شفیع, بیگم گیتی آرا اور میاں بشیر احمد مسکراتے نظر آتے... 



معجزانہ طور پر، ایک ہی برس کے اندر پاکستان نے عالمی منظرنامے پر ایک منفرد اور باوقار مقام حاصل کیا ہے۔ ایک جانب معاشی دباؤ اپنی جگہ موجود ہے، مگر دوسری جانب عالمی سطح پر عزت، وقار اور اہمیت میں اضافہ ایک حقیقت بن چکا ہے۔ سپر پاور کا صدر پاکستان کا بار بار نام لے کر تعریف کرتا ہے.دوسری سپر پاور چین بین الاقوامی ڈپلومیسی میں ہمارے ساتھ ہے سابق سپر پاور جس کو توڑنے میں ہمارا اہم کردار ہے روس وہ بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہے.  بڑی طاقتوں کے رہنما پاکستان کے کردار کا اعتراف کر رہے ہیں، ہماری سفارتی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، اور پاکستان عالمی امن کے قیام میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔


آج میں اپنے والدِ گرامی کو جنت میں مسکراتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ ان کا وہ پُریقین لہجہ آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے کہ واقعی، پاکستان پر اللہ تعالیٰ کا ایک خاص سایۂ رحمت ہے۔





پاکستان ہمیشہ زندہ باد

آٹھ اپریل 2026

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا