عزت بے حسی اور تربیت, ایک ذاتی تجربہ || صاحب زادہ زابر سعید بدر
عزت، بے حسی اور تربیت
کچھ دن پہلے میں نے پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب کا ایک لیکچر سنا۔ موضوع تھا عزت اور بے عزتی۔ وہ ایک واقعہ سناتے ہیں کہ ایک تقریب میں مدعو تھے، مگر گیٹ پر موجود گارڈ نے نہ صرف روکا بلکہ سخت لہجے میں بات کی۔ ایک لمحے کے لیے دل کو ٹھیس پہنچی، لیکن پھر انہوں نے خود کو روکا اور سوچا کہ جو مجھے جانتا ہی نہیں، اس کے رویے کو اپنی بے عزتی کیوں سمجھوں۔ وہ خاموشی سے پیچھے ہٹ گئے۔ یہ ایک چھوٹا واقعہ نہیں بلکہ زندگی کا بڑا اصول ہے۔
یہ لیکچر سن کر میں کافی دیر اپنے بچپن کے ایک دوست کا رویہ یاد کرتا رہا۔ ہم نے ایک دوسرے کو بھائی سمجھا، مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیا، لیکن ایک خلا ہمیشہ رہا۔ میں اسے فون کرتا تھا، وہ بہت کم ہی کرتا تھا۔ میں حال پوچھتا، وہ اکثر غائب رہتا۔ میں نے کئی بار خود کو آزمایا چند دن نہیں بلکہ کئی دنوں تک فون نہ کیا، مگر اس نے پلٹ کر کبھی نہیں پوچھا کہ تم خیریت سے ہو یا نہیں۔ یہ خاموشی اور یہ بے حسی انسان کو اندر سے توڑ دیتی ہے۔
پہلے مجھے لگتا تھا کہ یہ میرے خلوص کی توہین ہے ۔ لیکن Ahmad Rafique Akhtar صاحب کے اس واقعے نے میری سوچ بدل دی۔ شاید اسے مجھ سے مسلہ نہیں ، بلکہ اس کی تربیت میں ہے۔
زندگی کا ایک سادہ اصول ہے کہ لوگ آپ کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو انہوں نے سیکھا ہوتا ہے۔ جس نے عزت سیکھی ہو وہ عزت دیتا ہے، جس نے احساس سیکھا ہو وہ خیال رکھتا ہے، اور جس نے خود غرضی سیکھی ہو وہ صرف مطلب پر آتا ہے۔ ایسے لوگ تب کال کرتے ہیں جب انہیں کام ہو، تب یاد کرتے ہیں جب انہیں فائدہ ہو، ورنہ خاموش رہتے ہیں جیسے آپ موجود ہی نہ ہوں۔ یہ حسد بھی ہو سکتا ہے اور تربیت کی کمی بھی، اور اکثر دونوں چیزیں ساتھ ہوتی ہیں۔
یہ سمجھ لینا سب سے بڑی نعمت ہے کہ ان کا رویہ آپ کی قدر نہیں بلکہ ان کی سطح بتاتا ہے۔ جیسے گارڈ نے پروفیسر صاحب کو نہیں پہچانا، ویسے ہی کچھ لوگ رشتوں کی قدر نہیں پہچانتے۔ آپ جتنے بھی مخلص ہوں، ہر کوئی اس مخلصی کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ دکھ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ہم دل سے جڑتے ہیں، رشتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں اور وفاداری کو اہم سمجھتے ہیں۔ جب سامنے والا ویسا نہ ہو تو تکلیف ہوتی ہے، لیکن یہ تکلیف آپ کی کمزوری نہیں بلکہ آپ کی انسانیت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر دوست بھائی نہیں ہوتا اور ہر رشتہ برابر نہیں ہوتا۔ توقعات جتنی کم ہوں گی، اتنا ہی انسان سکون میں رہے گا۔ اپنی عزت خود محفوظ رکھنی پڑتی ہے، بار بار خود کو کسی پر مسلط کرنا دراصل اپنی قدر کم کرنا ہے۔ ایسے لوگوں کو ان کی اصل سطح پر ہی رکھنا بہتر ہوتا ہے، دل کے مقام پر صرف وہی لوگ ہونے چاہئیں جو اس کے اہل ہوں۔ بعض اوقات خاموشی ہی سب سے مضبوط جواب ہوتی ہے۔
ایک سخت مگر سچی بات یہ ہے کہ ایسے لوگ بدلتے نہیں کیونکہ انہیں مسئلہ نظر ہی نہیں آتا۔ میں نے کئی مرتبہ اس متر کو اس کی اس بے حسی کا احساس دلایا لیکن بے فائدہ.. شاید اس کو کوئی نفسیاتی سکون ملتا ہے. ویسے ہر دس منٹ بعد اس کی ایک فیس بک پوسٹ چلی آتی ہے. چند لائکس کا اس کی طبیعت پر خوش گوار اثر ہوتا ہے اور اگر 20 منٹ تک لائکس کم ہوں تو ردعمل بھی دیتا ہے. لیکن پچپن کے دوست بارے بے حسی ہے. اگر اس میں واقعی احساس ہوتا تو بار بار بتانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔
مجھے بے شمار واقعات یاد آئے کہ وہ تو ہمیشہ سے ہی ایسا ہی تھا بے حس اس کی اپنی اولاد بھی اس کے اس رویے کا شکار ہے اور وہ اپنے اسی رویے سے انہیں اپنے جیسا ہی بنا رہا ہے. ہم اب زندگی کے ایسے حصے میں ہیں کہ زیادہ تر رشتے بنا چکے ہیں ایسے میں زندگی بھر کی وقت محبت خلوص کی پامالی دکھ دیتی ہے.
اک عمر تک میں اس کی ضرورت بنا رہا
پھر یوں ہوا کہ اس کی ضرورت بدل گئی
شوکت فہمی
جناب احمد رفیق اختر کی بات دل میں اتر گئی کہ ہر رویے کو اپنی بے عزتی مت سمجھو، بعض لوگ صرف اپنی تربیت کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ آپ اپنی جگہ وہی رہیں گے جو آپ ہیں، کسی کی بے حسی آپ کی قدر کم نہیں کر سکتی۔

Comments