اسلام آباد اکارڈ || امریکہ ایران جنگ کا خاتمہ پاکستان کا کردار, زابر سعید بدر


 دنیا کو جنگ سے بچانے کے لیے پاکستان کا مخلصانہ کردار ||   اسلام آباد اکارڈ 

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر




عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کیا ہے۔#رائٹرز,#جیونیوز  #بزنس_ریکارڈر اور دیگر نیوز ذرائع  کے مطابق، پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، حالیہ دنوں میں پسِ پردہ سفارتی رابطوں میں مصروف رہے۔ اس پیش رفت کا بنیادی مقصد فوری جنگ بندی کو ممکن بنانا اور خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچانا ہے۔ یہ تمام کوششیں ایک مجوزہ فریم ورک، جسے “#اسلام_آباداکارڈ” کا نام دیا جا رہا ہے، کے تحت سامنے آئی ہیں۔


 پاکستان نے ایک دو مرحلہ جاتی منصوبہ پیش کیا ہے جس میں پہلے فوری جنگ بندی اور پھر چند ہفتوں کے اندر ایک باضابطہ معاہدہ شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ جیسے ہی جنگ بندی پر اتفاق ہو، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل معمول پر آ سکے۔ #Reuters کے مطابق، اس منصوبے پر امریکہ کی جانب سے ابتدائی آمادگی ظاہر کی گئی ہے، جبکہ ایران کی طرف سے تاحال مکمل حتمی جواب سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی رابطے جاری ہیں۔

#GeoNews 

نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ پاکستان نے اس معاملے میں نہ صرف ثالثی کی پیشکش کی بلکہ عملی طور پر دونوں فریقین کے درمیان رابطے کو ممکن بنایا۔ اسی طرح #BusinessRecorder کے مطابق، اس سفارتی عمل میں پاکستان نے خطے کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن اور فوری قابلِ عمل حل پیش کیا ہے، جسے عالمی سطح پر سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔


یہاں ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان اس وقت ایک مخلص اور متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔ دنیا کے پیچیدہ حالات میں جہاں بڑی طاقتیں اپنے مفادات کے گرد گھوم رہی ہیں، وہاں پاکستان کی یہ کوشش قابلِ توجہ ہے کہ وہ ایک ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو بعض ہمسایہ ممالک، خصوصاً #بھارت کے لیے باعثِ تشویش بن رہا ہے، جہاں اس مثبت سفارتی پیش رفت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔



مزید برآں، اس صورتحال نے نام نہاد مسلم امہ کی حقیقت کو بھی بے نقاب کیا ہے۔ امتِ مسلمہ کا تصور جسے ایک نعرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، عملی سطح پر شدید تقسیم کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ مختلف مسلم ممالک کی ترجیحات، علاقائی مفادات اور #عرب_عصبیت اس قدر نمایاں ہو چکی ہے کہ ایک مشترکہ مؤقف اب محض ایک خواب سا محسوس ہوتا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کا کردار ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جو کم از کم اس نعرے کو عملی شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔


آج کی دنیا میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نعروں اور جذباتی بیانیوں سے نکل کر معروضی حالات کو سمجھیں۔ بین الاقوامی سیاست میں اخلاقی جرأت، توازن اور سنجیدگی ہی اصل قوت ہوتی ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر یہی رویہ اختیار کیا ہے، جو نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ خطے کے مستقبل کے لیے امید کی ایک کرن بھی ہے۔

#ZSN


Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا