ڈوپامائن دماغ کو فریب کیسے دیتا ہے صاحب زادہ زابر سعید بدر


 دور کے ڈھول سہانے کیوں لگتے ہیں؟

[دماغ ہمیں فریب کیسے دیتا ہے

زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز ]

📗ZIMS


یہ صرف کہاوت نہیں، انسانی دماغ کا ایک گہرا فریب ہے۔ انسان کو ہمیشہ وہ چیز بہتر لگتی ہے جو اس کے پاس نہیں ہوتی۔ یہ احساس حقیقت نہیں بلکہ ذہنی دھوکہ ہوتا ہے۔  📗ZIMS



دماغ میں ایک کیمیائی نظام کام کرتا ہے جسے خوشی کا پیغام رساں کہا جا سکتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے سائنس دان وولفرم شلٹز نے اپنے تجربات میں بتایا کہ یہ کیمیکل اصل خوشی پر نہیں بلکہ “امید” پر زیادہ خارج ہوتا ہے۔ یعنی نئی چیز دیکھ کر دماغ پہلے ہی خوشی کا سگنل دے دیتا ہے، چاہے وہ چیز بعد میں اتنی اچھی نہ نکلے۔  📗ZIMS


ایک اور اہم نظریہ برک مین اور کیمبل کا ہے، جسے “عادت کا پہیہ” کہا جاتا ہے۔ ان کی تحقیق کے مطابق انسان کسی بھی اچھی چیز کا جلد عادی ہو جاتا ہے۔ گھر کی دال روز ملتی ہے، اس لیے عام لگتی ہے۔ باہر کی مرغی کبھی کبھار ملتی ہے، اس لیے خاص محسوس ہوتی ہے—حالانکہ حقیقت میں ایسا ہونا ضروری نہیں۔  📗ZIMS


سماجی موازنہ بھی ایک بڑا سبب ہے۔ ماہرِ نفسیات لیون فسٹنگر نے اپنے تجربات میں ثابت کیا کہ انسان اپنی خوشی اور معیار کا اندازہ دوسروں کو دیکھ کر لگاتا ہے۔ اگر دوسروں کو باہر کھاتے، گھومتے یا عیش کرتے دیکھے تو اسے اپنی چیز کم تر لگنے لگتی ہے، چاہے وہ حقیقت میں بہتر ہی کیوں نہ ہو۔  📗ZIMS


اسی طرح نئی چیز کی کشش پر ہونے والی تحقیق (بونزیک اور ڈوزل) یہ بتاتی ہے کہ دماغ نئی چیز کو زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ نئی چیز = زیادہ توجہ، زیادہ کشش۔ پرانی چیز = کم دلچسپی۔ یہی وجہ ہے کہ باہر کا کھانا دلکش لگتا ہے اور گھر کا معمولی۔  📗ZIMS


ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہر ڈینیل گلبرٹ نے اسے “غلط خواہش” قرار دیا۔ ان کے مطابق انسان اکثر غلط اندازہ لگاتا ہے کہ کون سی چیز اسے خوشی دے گی۔ ہم سوچتے ہیں باہر کی چیز زیادہ خوشی دے گی، مگر حاصل ہونے کے بعد وہ خوشی عارضی نکلتی ہے۔  📗ZIMS


یہ سب مل کر ایک “ذہنی فریب” بناتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ باہر کی چیز بہتر ہے، مگر اصل میں دماغ ہمیں ایک خوبصورت دھوکے میں رکھتا ہے۔ یہ دھوکہ صبح سے شام تک، ہر فیصلے میں ہمارے ساتھ چلتا ہے۔ 📗ZIMS


اس دھوکے سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟

پہلا قدم: موازنہ چھوڑ دیں۔ اپنی چیز کو دوسروں سے ناپنا بند کریں۔

دوسرا قدم: شعور پیدا کریں ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔

تیسرا قدم: بچوں کو سکھائیں کہ خوشی سادگی میں بھی ہوتی ہے، دکھاوے میں نہیں۔  📗ZIMS


والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو یہ سمجھائیں کہ دماغ ہر نئی چیز کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے فیصلوں پر خود قابو رکھے، نہ کہ ہر خواہش کے پیچھے بہہ جائے۔ 

 📗ZIMS


جو چیز ہمیں بہت اچھی لگ رہی ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ وہ واقعی اچھی ہو اکثر یہ صرف دماغ کا بنایا ہوا ایک خوشنما فریب ہوتا ہے۔  


📗©ZIMPS

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا