دربار جہانگیری میں ٹرمپ اور مودی کی طلبی, تبادلہ خیال || زابر سعید بدر

مغل دربار میں دنیا کے راہ نماؤں کی طلبی


صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر 


لاہور کے شاہی قلعے کے دیوانِ خاص میں آج ایک غیر معمول

 دربار سجا ہوا ہے۔ سنگِ مرمر کے ستونوں پر سنہری روشنی جھلملا رہی ہے، اور فضا میں ایک عجیب سنجیدگی ہے۔ تختِ شاہی پر شہنشاہِ ہند

نورالدین محمد جہانگیر

جلال و وقار کے ساتھ جلوہ افروز ہیں۔ ان کے سامنے زنجیرِ عدل آویزاں ہے وہی زنجیر جسے کھینچ کر ایک عام انسان بھی انصاف کی فریاد لے سکتا ہے۔

اسی لیے شہنشاہ کو عادل شہنشاہ کہا جاتا ہے


آج دربار میں دنیا کے بڑے رہنماؤں کو طلب کیا گیا ہے۔


سب سے پہلے آگے بڑھے

George Washington

انہوں نے سر جھکا کر کہا:

“جہاں پناہ! ہم نے آزادی کی بنیاد انصاف اور جمہوریت پر رکھی، مگر آج دنیا میں طاقت کا توازن بگڑ چکا ہے۔ اصول کمزور پڑ گئے ہیں، مفادات غالب آ گئے ہیں۔”


ان کے بعد

Donald Trump

نے قدرے سخت لہجے میں کہا:

“دنیا ایک مقابلہ ہے، جہاں مضبوط ہی زندہ رہتا ہے۔ اگر ہم اپنے مفادات کا تحفظ نہ کریں تو کوئی اور ہمیں روند دے گا۔”


یہ سن کر دربار میں ہلکی سی سرگوشی ہوئی۔


پھر آگے آئے

Xi Jinping

انہوں نے تحمل سے کہا:

“ہم ترقی، استحکام اور اجتماعی خوشحالی کی بات کرتے ہیں، مگر عالمی نظام میں بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔ ہر ملک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے، یہی فساد کی جڑ ہے۔”


اس کے بعد

Narendra Modi

نے اپنی مخصوص انداز میں کہا:

“ہم اپنی تہذیب، اپنی شناخت اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں۔ دنیا میں طاقت ہی عزت دلاتی ہے۔”


آخر میں

Queen Elizabeth II

نے نہایت نرم مگر گہری آواز میں کہا:

“میں نے زمانے بدلتے دیکھے ہیں۔ جنگیں، امن، سلطنتوں کا عروج و زوال… مگر ایک بات ہمیشہ سچ رہی: جب انصاف کمزور ہو جائے، تو سلطنتیں بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔”


دربار میں خاموشی چھا گئی۔


شہنشاہ جہانگیر نے آہستہ سے زنجیرِ عدل کو ہاتھ لگایا، جیسے تاریخ خود بولنے والی ہو۔ پھر انہوں نے گہری آواز میں فرمایا:


“تم سب اپنی اپنی جگہ درست کہتے ہو، مگر ایک حقیقت تم سب بھول گئے ہو

سلطنتیں تلوار سے نہیں، انصاف سے قائم رہتی ہیں۔


جب حاکم اپنے مفاد کو رعایا کے حق پر ترجیح دیتا ہے، تو فساد جنم لیتا ہے۔

جب طاقتور کمزور کو دباتا ہے، تو زمین آہ و بکا سے بھر جاتی ہے۔

اور جب سچ کو مصلحت کے پردے میں چھپایا جائے، تو دنیا اندھی ہو جاتی ہے۔”


انہوں نے دربار میں کھڑے سب رہنماؤں کی طرف دیکھا اور کہا:


“تم نے دنیا کو میدانِ جنگ بنا دیا، حالانکہ اسے باغ ہونا چاہیے تھا۔

تم نے خوف پھیلایا، جبکہ تم پر امن قائم کرنے کی ذمہ داری تھی۔


یاد رکھو

اگر زنجیرِ عدل ہلنا بند ہو جائے، تو تخت بھی زیادہ دیر نہیں ٹکتا۔”


یہ الفاظ گویا دیوانِ خاص کی دیواروں سے ٹکرا کر پوری دنیا میں گونجنے لگے۔


دربار برخاست ہوا، مگر ایک سوال فضا میں معلق رہ گیا

کیا آج کے حکمران واقعی انصاف کی اس زنجیر کو تھامنے کے لیے تیار ہیں؟

______

صاحب زادہ 

محمد زابر سعید بدر



Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا