بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
___________
لاہور کے ایک علاقے میں مارچ 2026 کا بجلی کا ایک پروٹکٹڈ صارف کا بل بڑی شان و شوکت سے دل نازک پر رونق افروز ہوا ہے۔
کل استعمال صرف 40 یونٹس ہے یعنی انتہائی کم، شاید صرف بلب ہی جلے ہوں پورا مہینہ۔
لیکن اب اصل تصویر دیکھیے:
بنیادی بل:
یونٹس استعمال: 40
بجلی کی قیمت (Cost of Electricity): 421.63 روپے
اس کے بعد لگنے والے چارجز:
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (Fuel Price Adjustment): 151.35 روپے
ایف سی سرچارج (F.C. Surcharge): 17.20 روپے
کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ: 14.02 روپے
فکسڈ چارجز (Fixed Charges): 400 روپے
یہاں تک آتے آتے بل 1004.20 روپے بن جاتا ہے
پھر شروع ہوتے ہیں ٹیکسز:
جی ایس ٹی (GST): 155 روپے
انکم ٹیکس
ایکسٹرا ٹیکس
مزید ٹیکسز / ڈیوٹیز (Further Tax وغیرہ)
FPA پر مزید ٹیکسز
(GST on FPA, Extra Tax on FPA,
Income Tax on FPA وغیرہ)
کل ٹیکسز تقریباً: 191.80 روپے
اور یہاں سب سے دلچسپ (یا افسوسناک) بات:
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) پہلے ہی 151.35 روپے لیا گیا
پھر آخر میں دوبارہ FPA (Total FPA): 181.62 روپے شامل کیا گیا
فائنل بل:
کل قابل ادائیگی (Due Date تک): 1196 روپے
تاخیر کے بعد: 1239 سے 1281 روپے تک
سادہ الفاظ میں:
40 یونٹس کی اصل بجلی کی قیمت 421 روپے تھی
لیکن مختلف چارجز، ٹیکسز اور ڈبل FPA کے بعد بل تقریباً 1200 روپے تک پہنچ گیا
یہ محض حساب کتاب نہیں، ایک تلخ حقیقت ہے۔
ایک عام آدمی جو کم سے کم بجلی استعمال کرتا ہے، اس کے ساتھ بھی یہی سلوک ہو رہا ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اربوں روپے لے کر نکل جاتے ہیں یا نظام کو آنکھیں دکھاتے ہیں
اور دوسری طرف ایک تنخواہ دار طبقہ ہے جس کی کمائی پہلے ٹیکس میں کٹتی ہے، پھر اس کی بنیادی ضرورت پر بھی ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے۔اسی ملک میں ہزاروں یونٹس مفت بھی دیے جاتے ہیں بعض لوگوں کو تاحیات...... سرکاری دفاتر میں صاحب لوگ (برٹش گورا نہیں کالے دیسی بابو) چلرز لگا کر میٹنگ میٹنگ کھیلتے رہتے ہیں
کبھی کمرے میں نا بھی ہوں تو ان کی واپسی تک کمرہ سائیبریا بنا ان کا منتظر ہوتا ہے
رہے نام اللہ کا
یہ بجلی نہیں،
یہ ایک امتحان ہے۔
شرم آنی چاہیے ایسے نظام کو،
جو کمزور پر بوجھ ڈالے اور طاقتور کو کھلا چھوڑ دے۔


Comments