کیا واقعی امریکہ جنگ ہار رہا ہے, زابر سعید بدر
“جنگ کا شور یا حکمت کا سکوت؟ امریکہ,ایران کشیدگی کا اصل چہرہ”
صاحب زادہ
محمد زابر سعید بدر
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک عجیب مرحلے میں داخل ہو چکی ہے نہ مکمل جنگ، نہ مکمل امن۔ ایک طرف دنیا کی سب سے بڑی طاقت،ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ہے، اور دوسری طرف ایران، جو اپنی مزاحمت کو فتح کا نام دے رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایک “ہاتھی” اور “چیونٹی” کا مقابلہ ہو رہا ہے؟ اور اگر ہو رہا ہے تو پھر یہ مقابلہ ابھی تک فیصلہ کن کیوں نہیں ہوا؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ سیز فائر میں توسیع کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک ایران ایک متحدہ تجویز پیش نہیں کرتا، حملے روکے جائیں گے، مگر بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔ یہ فیصلہ بظاہر نرمی لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ ایک سوچا سمجھا صبر ہے ایک ایسا صبر جس کے پیچھے طاقت بھی ہے اور حساب بھی۔ اس عمل میں پاکستان نے بھی اہم کردار ادا کیا، جہاں وزیر اعظم شہباز شریف اور سپہ سالار سید عاصم منیر نے سفارتی کوششوں کے ذریعے دونوں فریقوں کو وقتی طور پر روکنے میں مدد دی۔
ای ران کی جانب سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے یہ اعلان کیا کہ امریکہ ہارا ہوا فریق ہے اور وہ ای ران کو حکم نہیں دے سکتا۔ یہ بیان دراصل ایک اندرونی بیانیہ ہے، جو اپنی قوم کو حوصلہ دینے کے لیے دیا جا رہا ہے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے ابتدائی مراحل میں ایران کی فوجی تنصیبات، میزائل نظام اور دفاعی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔
ای ران نے اپنی طرف سے ایک بڑا قدم اٹھایا اور آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی معیشت کو ہلا دیا۔ یہ اس کا “کارڈ” تھا ایک ایسا قدم جس نے دنیا کو یہ احساس دلایا کہ اگر ای ران دباؤ میں آیا تو اس کے اثرات عالمی ہوں گے۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں ایک کمزور فریق نے اپنی محدود طاقت کو ایک بڑے ہتھیار میں بدل دیا۔
مگر یہاں ایک اور پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ عالمی منظرنامے میں دو بڑی طاقتیں ایک ابھرتی ہوئی اور ایک سابق سپر پاور پسِ پردہ کردار ادا کرتی نظر آتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ان میں سے ایک کو سخت پیغام بھی دیا کہ وہ پیچھے ہٹ جائے، حتیٰ کہ ایک بحری جہاز کو قبضے میں لینے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ جنگ صرف دو ممالک کے درمیان نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی توازن کا حصہ ہے۔
اگر ہم تاریخ کی طرف دیکھیں تو
ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر گرائے گیے ایٹم بم ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ جب ایک سپر پاور فیصلہ کر لے تو نتائج کتنے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی کہ “میں تہذیب ختم کر سکتا ہوں” اسی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ ابھی تک رکا کیوں ہوا ہے؟
اس کی کئی وجوہات ہیں۔ عالمی معیشت کا دباؤ، اندرونی سیاسی حالات، عوامی رائے، اور مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال یہ سب عوامل امریکہ کو مکمل جنگ سے روکے ہوئے ہیں۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر امریکہ واقعی غصے میں آ جائے، تو ای ران کے پاس بچنے کے لیے بہت کم راستے ہوں گے۔ تباہی، دھواں اور ایک خوفناک شکست یہی اس کا ممکنہ انجام ہو سکتا ہے۔
ای ران کی مزاحمت اپنی جگہ، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا وہ اس حقیقت کو سمجھ رہا ہے؟ ایک سپر پاور اگر بوکھلاہٹ کا شکار ہو جائے تو اس کا ردعمل ناقابلِ تصور ہو سکتا ہے۔ ای ران امریکہ کو براہِ راست شاید زیادہ نقصان نہ پہنچا سکے، مگر اپنے ہی خطے میں آگ بھڑکا سکتا ہے اور اس آگ میں جلنے والے زیادہ تر اس کے اپنے ہمسایہ مسلمان ممالک ہوں گے۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمیں رک کر سوچنا چاہیے۔ اگر ہم اس منظر کو دو سو سال بعد کی تاریخ کی آنکھ سے دیکھیں تو شاید لکھا جائے گا کہ مسلمان آپس میں لڑ رہے تھے، اور دور کہیں امریکہ اپنے دارالحکومت واشنگٹن میں بیٹھا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ یہ ایک تلخ سوال ہے، مگر حقیقت کے قریب بھی۔
امریکہ کا نقصان کیا ہے؟ وقتی معاشی دباؤ، کچھ سیاسی مشکلات مگر اس کے پاس خود کو سنبھالنے کے بے شمار طریقے ہیں۔ دوسری طرف اگر ای ران مکمل جنگ کی طرف جاتا ہے تو اس کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہے اور بچانے کے لیے بہت کم۔
آخرکار یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ امریکہ ہارا نہیں، بلکہ اس نے ایک راستہ چنا ہے تحمل کا، حکمت کا، اور وقت کا۔ ای ران نے مزاحمت سے اپنی جگہ بنائی ہے، مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے۔
یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ مگر ایک بات واضح ہے: جنگیں صرف میدان میں نہیں جیتی جاتیں، بلکہ عقل، صبر اور اتحاد سے جیتی جاتی ہیں۔ اور اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو پھر نہ بہادری باقی رہتی ہے، نہ داستان صرف ملبہ رہ جاتا ہے، جسے تاریخ خاموشی سے دیکھتی ہے۔


Comments