وادی جنوں, عقیدت سے محبت تک, صاحب زادہ زابر سعید بدر

 عقیدت سے محبت تک


صاحب زادہ 

محمد زابر سعید بدر 



لڑکپن میں حضرت علامہ کا میری زندگی پر بہت گہرا اثر تھا۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ ایک تو والدِ گرامی، جناب سعید بدر صاحب، علامہ اقبال کی رسولِ کریم ﷺ سے محبت کا اکثر تذکرہ فرمایا کرتے تھے۔ دادا ابو، جناب سائیں حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی، بھی حضرت علامہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے۔ دادی جان بھی حضرت علامہ کے اشعار گنگناتی رہتی تھیں۔ لہٰذا گھر کے ماحول میں علامہ اقبال سے محبت کا ایک گہرا رنگ موجود تھا۔


مجھے حضرت علامہ کے بہت سے اشعار زبانی یاد تھے، جو میں اکثر تقاریر میں بھی سنایا کرتا تھا۔ میرے خطوط اور گفتگو میں بھی اکثر حضرت علامہ کے اشعار کا ذکر ہوتا۔ اس زمانے میں یہ ایک عمومی رویہ بھی تھا، اور ہمارے اساتذہ بھی حضرت علامہ کا ذکر بڑے ادب و احترام سے کرتے تھے۔ ان میں جناب محبت صدیق صاحب، جناب صابر راجپوری صاحب، اور جناب ابو محمد عبداللہ ناصح  صاحب شامل ہیں۔ یہ ہمارے اردو کے اساتذہ کرام تھے۔


علامہ اقبال پر میں مضامین بھی لکھتا تھا جو اس زمانے میں مختلف اخبارات میں شائع ہوئے۔ "امروز" میں میرا علامہ صاحب پر مضمون اس وقت شائع ہوا جب میں ابھی ساتویں یا آٹھویں جماعت میں تھا۔ روزنامہ جنگ میں بھی شائع ہوا، اور بچوں کے مختلف رسائل میں بھی میرے مضامین آئے۔ علامہ کے فلسفۂ خودی کا ذکر والدِ گرامی اکثر کرتے، اور میں اس سے متاثر بھی تھا۔ عشق و عقل کے حوالے سے گفتگو بھی ہم اکثر سنتے تھے۔



والد صاحب کے حلقۂ احباب میں جو لوگ ملاقاتوں کے لیے آتے، یا جن کے ساتھ میں جاتا، وہ بھی حضرت علامہ سے عقیدت رکھتے تھے۔ ان میں بڑے بڑے نام اور نامور شخصیات شامل تھیں۔ اسلم کمال صاحب، جنہیں "مصورِ اقبال" بھی کہا جاتا ہے، ہمارے پڑوس میں رہتے تھے۔ میں اکثر ان کے گھر جاتا، وہ ہمارے گھر آتے۔ ڈاکٹر سلیم اختر بھی علامہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے، ان کے گھر بھی آنا جانا تھا۔ ارشاد صدیقی صاحب، مظفر وارثی صاحب، اور اس طرح کے کئی اور نام ہیں۔


یہ محبت وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی، لیکن یونیورسٹی لیول پر آ کر میں عقیدت سے زیادہ ان کی فراست اور دانش سے متاثر نظر آنے لگا۔ میری عقیدت کم ہوتی گئی، نہ صرف علامہ اقبال سے بلکہ تمام ان عظیم شخصیات سے، جن کا سحر بچپن میں ہمیں اپنے حصار میں لیے رہتا تھا۔ میں آئیڈیلزم سے دور ہوتا چلا گیا، اور اس میں علامہ کی شخصیت بھی شامل تھی۔


میری بچپن کی ڈائری، جو میں نے پانچویں یا چھٹی کلاس سے لکھنی شروع کی، اس میں میری پسندیدہ شخصیات میں علامہ اقبال کا نام ہمیشہ رہا، اور آج بھی ہے۔ لیکن اندھی عقیدت کو میں پسند نہیں کرتا۔ اب میں ہر چیز کو ایک مخصوص کسوٹی پر رکھتا ہوں، اور پھر میرا دماغ فیصلہ کرتا ہے۔


تاہم، علامہ اقبال ہمیشہ میرے قریب رہے۔ اس کی بنیادی وجہ ان کا رسولِ پاک ﷺ سے عشق تھا۔ یہی نسبت مجھے ہمیشہ ان کے قریب رکھتی ہے۔ ان سے سیاسی اور فکری حوالے سے اختلافِ رائے بھی ہے، لیکن ان کا عشقِ رسول ﷺ ہی ان کے ساتھ ایک خوبصورت نسبت قائم رکھنے کے لیے کافی ہے۔



کافی عرصہ میاں منظر بشیر صاحب ہمارے گھر رہے۔ ان سے بھی علامہ اقبال کے حوالے سے بہت سی باتیں ہوئیں، کیونکہ ان کے بزرگ جسٹس میاں شاہ دین سر میاں محمد شفیع اور میاں بشیر احمد, میاں شاہ نواز  ان کے بہت قریب  تھے۔ بہت سی ایسی باتیں بھی جاننے کا موقع ملا جو عموماً کتابوں میں نہیں ملتیں۔


علامہ ایک عظیم، پیاری، اور میٹھی شخصیت تھے۔  اللہ کے ایسے پیارے بندے کبھی کبھار دنیا میں اپنی خوشبو کا احساس دلانے آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ وہ واقعی دانائے راز ہیں، اور ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ایسے دیدار کبھی کبھی ہی پیدا ہوتے ہیں۔


اکثر احباب علامہ اقبال کی اندھی محبت کا شکار ہیں، جو میں مناسب نہیں سمجھتا، کیونکہ یہ شخصیت پرستی میں آتا ہے۔ دوسری طرف، کچھ لوگ علامہ پر کڑی تنقید کرتے ہیں اور ان کے نظریات کو آج کے پیمانوں سے پرکھتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ نظریات گزشتہ صدی کے سیاسی، ثقافتی، معاشرتی اور مذہبی پیرامیٹرز میں تشکیل پائے تھے۔ ہمیں انہیں اسی دور کے تناظر میں دیکھنا چاہیے، نہ کہ آج کے۔


اسی تناظر میں علامہ ایک عظیم الشان شخصیت نظر آتے ہیں۔ کچھ چیزیں وقت کے ساتھ غیر متعلق (irrelevant) ہو جاتی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی اہمیت کبھی تھی ہی نہیں۔ جیسے آج سے 40 سال پہلے وی سی آر ایک اہم سائنسی ٹول تھا، لیکن آج غیر متعلق ہو چکا ہے—اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی اہمیت نہیں تھی۔


اسی طرح کچھ فکر اپنے دور کے لیے ہوتی ہے، اور وقت کے ساتھ اس کا کچھ حصہ غیر متعلق ہو سکتا ہے۔ اس حقیقت کو ماننے میں کوئی حرج نہیں۔ اندھی عقیدت کے پیروکار بھی یہاں غلط ہیں، اور بلا وجہ تنقید کرنے والے بھی۔


درمیانی راستہ یہی ہے کہ ہم علامہ اقبال کو ان کے دور کے تناظر میں دیکھیں، اور ان کی فکر کے اس حصے کو نوجوانوں تک پہنچائیں جس میں حرکت، ہمت، حوصلہ اور جرات کا پیغام ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ حصہ قیامت تک متعلق رہے گا۔


 دانائے راز اسی خوبصورت شہر سے 88 برس پہلے رخصت ہو گئے، لیکن ان کا پیغام، ان کی شخصیت، اور ان کی سحر انگیز تاثیر آج بھی موجود ہے اور ہمیشہ رہے گی۔


میٹرک کے دوران ہی میں نے "وادی جنوں" کے عنوان سے ایک تحریر لکھی۔ بچپن میں میں کچھ رسالے ہاتھ سے لکھ کر تیار کرتا اور گھر والوں اور دوستوں میں تقسیم کرتا تھا۔ یہ میری ایکسٹرا کریکولر سرگرمیوں کا انداز تھا۔


"وادی جنوں" میں میں نے ایک تخیلاتی سفر بیان کیا تھا، جس میں میں مختلف منازل طے کرتا ہوں اور مختلف بزرگوں سے ملتا ہوں۔ ایک منزل میں میری ملاقات علامہ اقبال سے ہوتی ہے۔ وہ مجھ سے باتیں کرتے ہیں، پھر مجھے ساتھ لے کر آگے بڑھتے ہیں، اور ہم مختلف بزرگوں سے ملتے ہوئے مولانا روم تک پہنچتے ہیں۔ وہاں ان سے گفتگو ہوتی ہے۔


یہی تخیل آج اچانک میرے ذہن میں آیا، اور میں نے اسے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ دراصل بچپن کی ایک یاد ہے علامہ سے محبت کی، ان سے فاصلے کی، اور ان کی شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کی ایک معصوم سی کوشش۔


صاحب زادہ 

محمد زابر سعید بدر 

21 اپریل 2026

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا