مغلوں نے آخر ہمارے لیے کیا کیا اکانومسٹ کی رپورٹ, زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز
مغلوں نے ہمارے لیے آخر کیا کیا؟
مغل سلطنت کے قیام کی سال گرہ کو 500 برس مکمل ہونے
پر اکانومسٹ کی ہے
زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اینڈ پالیسی اسٹڈیز کی پیشکش
انڈیا کی عظیم ترین مسلم سلطنت نے اس کے طاقتور ترین ہندو سیاسی دھڑے کو کیسے تشکیل دیا
تقریروں میں چاہے وہ اپنے حامیوں سے ہوں، پارلیمان میں ہوں یا پوری قوم سے نریندر مودی بارہا بھارت کی صدیوں پر محیط غلامی کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔ ۲۰۱۴ میں اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ “بارہ سو برس کی غلامی کی ذہنیت آج بھی ہمیں جکڑے ہوئے ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ذرا سی بھی بلند حیثیت رکھنے والے شخص سے گفتگو کرتے وقت ہمارے لیے سر اٹھا کر بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔” اس شکوے کا اصل ہدف وہ مسلم سلطنتیں ہیں جو برطانوی نوآبادیاتی دور سے پہلے یہاں قائم رہیں۔
ZIMS📗
ان میں مغل سب سے طویل عرصے تک قائم رہنے والی سلطنت تھی۔ ۲۱ اپریل کو پانی پت کی پہلی جنگ کو ٹھیک پانچ سو برس مکمل ہوئے، جب بابر—جو تیمور اور چنگیز خان کی نسل سے تعلق رکھنے والا ایک وسطی ایشیائی فاتح تھا (اسی نسبت سے “مغل”، جو “منگول” سے ماخوذ ہے) نے دہلی کے آخری سلطان کو شکست دی۔ اس کی قائم کردہ سلطنت اپنے عروج پر دنیا کی امیر ترین اور طاقتور ترین سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی۔ اس کے حکمرانوں نے ہندوستانی طرزِ بادشاہت اختیار کیا، مقامی خاندانوں میں شادیاں کیں اور عملاً ہندوستانی بن گئے (برطانویوں کے برعکس)۔ ان کی کامیابیاں دراصل ہندوستان ہی کی کامیابیاں تھیں۔
ZIMS📗
تاہم اس سلطنت کے قیام کی پانچ سو سالہ سالگرہ خاموشی سے گزر گئی۔ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا مؤقف ہے کہ مغلوں نے مندروں کو مسمار کیا اور ہندوؤں کی تذلیل کی (جس پر اختلاف پایا جاتا ہے)۔ اس نظریے کے مطابق انہوں نے ہندوستان سے سب کچھ لے لیا تو پھر بدلے میں دیا کیا؟
ZIMS📗
ایک جواب #زبان کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ مودی کی ۲۰۱۴ کی تقریر ہندی میں تھی، جو بھارت میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ مؤرخ رچرڈ ایٹن کے مطابق ان کے اس اقتباس کے ۲۸ الفاظ میں سے تقریباً ایک چوتھائی الفاظ فارسی کے ذریعے ہندوستان میں داخل ہوئے۔ مغل دربار کی زبان نے شمالی ہندوستان کی اکثر زبانوں کے ذخیرۂ الفاظ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ یہاں تک کہ “ہندی” اور “ہندو” دونوں ہی “ہند” سے ماخوذ ہیں، جو دریائے سندھ (Indus) کا فارسی نام ہے (اسی سے “انڈیا” بھی بنا)۔ مگر سوال پھر وہی ہے کہ “ہندو قوم پرستی” میں “ہندو” کا اضافہ کرنے کے سوا مغلوں نے اور کیا دیا؟
ZIMS📗
وہ پکوان، جسے دنیا بھر میں “انڈین کھانا” کہا جاتا ہے، خود بھارت میں “مغلئی” کہلاتا ہے۔ تنور مٹی کا وہ چولہا جس سے خستہ نان اور بھنے ہوئے کباب نکلتے ہیں فارسی تہذیبی دنیا سے آیا، اسی طرح سموسے
ZIMS📗
شربت، طرح طرح کی مٹھائیاں اور بریانی بھی، جو مسلسل دس برس تک ڈیلیوری ایپس پر بھارت کی سب سے زیادہ منگوائی جانے والی ڈش رہی ہے۔ بی جے پی کے سخت گیر حلقے گوشت اور انڈوں پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں، مگر سبزی خور بھی لذیذ تندوری پنیر سے لطف اندوز ہوتے ہیں (پنیر، جو فارسی لفظ “پَنیر” سے ماخوذ ہے، ایک قسم کا تازہ پنیر ہے جو غالباً افغانوں کے ذریعے یہاں پہنچا)۔
ZIMS📗
یہ تسلیم کہ تندوری ذائقہ اپنی کشش میں بے مثال ہے۔
ZIMS📗
مگر زبان اور خوراک کے علاوہ مغلوں نے آخر کیا دیا؟
بھارت کے دس مقبول ترین تاریخی مقامات میں سے چار جن کے لیے مقامی سیاح ٹکٹ خریدتے ہیں اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے چھ، مغلوں کی تعمیر کردہ ہیں۔ تاج محل دونوں فہرستوں میں سرفہرست ہے۔ ہر سال وزیر اعظم یومِ آزادی کی تقریر دہلی کے لال قلعے سے کرتے ہیں، جو ایک مغل یادگار ہے اور بھارت کی قومی شناخت میں اس قدر مرکزی حیثیت رکھتی ہے کہ سب سے زیادہ رائج کرنسی نوٹ کے پچھلے حصے پر بھی اس کی تصویر ثبت ہے۔
ستار جسے جارج ہیریسن نے عالمی شہرت بخشی مغل دور کی پیداوار ہے۔ شیروانی، جو ہندو اور مسلمان دونوں دلہا پہنتے ہیں، مغل دربار کے لباس سے ارتقا پذیر ہوئی۔ ممتاز مؤرخ جدو ناتھ سرکار نے لکھا: “قرونِ وسطیٰ کے بھارت کے مقبول مذاہب، تصوف، اردو زبان اور ہند-اسلامی فنِ تعمیر، فاتح اور مفتوح دونوں کی مشترکہ میراث تھے اور انہوں نے ان کے درمیان امتزاج کو فروغ دیا۔” مغل شہنشاہ اکبر، جو مختلف مذاہب میں گہری دلچسپی رکھتے تھے، نے ہندو رزمیہ داستانوں کے فارسی تراجم کروائے (یہ وصف ان کے پڑپوتے اورنگزیب میں نہیں پایا جاتا تھا، جو مندروں کو منہدم کرنے کے لیے معروف تھے)۔
ZIMS📗
مگر زبان، خوراک، تعمیرات، موسیقی، فنون اور تہذیبی امتزاج کے علاوہ مغلوں نے اور کیا دیا؟
انہوں نے بی جے پی کے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ ۱۹۹۰ میں، جب اس جماعت کے پاس پارلیمان میں صرف ۱۶ فیصد نشستیں تھیں، اس نے ایک ملک گیر تحریک شروع کی، جس میں اس مقام پر مندر کے قیام کا مطالبہ کیا گیا جو بھگوان رام کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے۔ اس مقام پر ایک مسجد موجود تھی، جو پہلے مغل شہنشاہ بابر کے عہد میں تعمیر ہوئی تھی۔ ۱۹۹۲ میں، بی جے پی کے رہنماؤں کی موجودگی میں ایک ہجوم نے اس مسجد کو منہدم کر دیا، جس کے نتیجے میں ملک گیر فسادات بھڑک اٹھے۔ انہی واقعات نے جماعت کی سیاسی بنیاد کو مضبوط کیا اور بالآخر اسے اقتدار تک پہنچا دیا۔ ۲۰۲۴ کے اوائل تک، جب نریندر مودی نے وعدہ کیے گئے مندر کی افتتاحی رسم ادا کی، ان کی جماعت پارلیمان کی ۵۶ فیصد نشستوں پر قابض تھی۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس نے مغل دور کے شہروں کے نام تبدیل کیے، مغلئی کھانوں سے لاتعلقی اختیار کی، اور تاریخ کی کتب سے مغلوں کے تذکرے کو کم یا حذف کرنے کی کوشش کی۔
ZIMS📗
اینٹ اور گارے سے بنی کسی عمارت کو مسمار کرنا ایک بات ہے، مگر ایک ایسی تہذیب کو مٹانا کہیں زیادہ دشوار ہے جو پانچ صدیوں میں بھارت کی سرزمین اور اس کے وجود میں رچ بس چکی ہو۔ یہی دراصل اس سوال کا جامع جواب ہے کہ مغلوں نے آخر کیا دیا: انہوں نے سیاسی ہندوتوا کو اس کا دائمی اور ناگزیر “دشمن” فراہم کیا۔
ZIMS📗
یہ مضمون دی اکانومسٹ کے تازہ شمارے سے ماخوذ ہے اور زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کے علمی فروغ کے وژن کا حصہ ہے۔
صاحب زادہ
محمد زابر سعید بدر
______
معاونت
حفصہ زابر سعید بدر

Comments