امریکہ کی شکاری بالادستی کا عروج اور اب زوال کا آغاز؟ زابر سعید بدر

امریکہ کی  شکاری بالادستی کا عروج  اور  اب زوال کا آغاز؟


صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر



دنیا کی تاریخ میں طاقت ہمیشہ ایک حقیقت رہی ہے، مگر طاقت کا استعمال کس انداز میں کیا جاتا ہے—یہی کسی قوم یا ریاست کے اصل کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ حالیہ دنوں میں عالمی جریدہ Foreign Affairs میں شائع ہونے والی ایک اہم تحریر نے اس بحث کو ایک نئے زاویے سے پیش کیا ہے۔ اس میں امریکی خارجہ پالیسی، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کو ایک "شکاری بالادستی" کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔


یہ تصور سادہ ہے مگر خطرناک: ایک ایسی بڑی طاقت جو ہر تعلق کو ایک مقابلہ سمجھتی ہے، جہاں ایک کا فائدہ دوسرے کا نقصان ہو۔ اس سوچ میں دوستی، اتحاد اور عالمی اصول ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں، جبکہ اصل مقصد ہر حال میں زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔


ٹرمپ کے دور میں یہی رجحان واضح نظر آتا ہے۔ تجارت کو ہتھیار بنایا گیا، محصولات کے ذریعے دباؤ ڈالا گیا، اور فوجی تحفظ کو بھی ایک سودے بازی کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ اتحادی ہوں یا مخالفین، سب کے ساتھ ایک جیسا رویہ اختیار کیا گیا—"یا تو مان جاؤ، یا نتائج بھگتو"۔


بظاہر یہ حکمتِ عملی کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ کچھ ممالک نے رعایتیں دیں، کچھ نے سرمایہ کاری کے وعدے کیے، اور کچھ نے خاموشی اختیار کر لی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ کامیابی دیرپا ہے؟

حقیقت اس کے برعکس نظر آتی ہے۔

دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ چین ایک مضبوط معاشی قوت کے طور پر ابھر چکا ہے، جس کی منڈیاں، وسائل اور سائنسی ترقی عالمی توازن کو بدل رہی ہیں۔ روس، بھارت اور دیگر ممالک بھی اپنے اپنے دائرے میں متبادل راستے تلاش کر رہے ہیں۔ جب امریکہ نے دباؤ بڑھایا، تو کئی ممالک نے نئے اتحادوں کی طرف رخ کر لیا۔


یہی وہ نکتہ ہے جسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔


طاقت کا بے جا استعمال وقتی فائدہ تو دے سکتا ہے، لیکن اس سے اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ جب اتحادی خود کو غیر محفوظ محسوس کریں، تو وہ نئے راستے تلاش کرتے ہیں۔ جب معاہدے بار بار توڑے جائیں، تو ان کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ اور جب ایک طاقت ہر معاملے میں اپنی مرضی مسلط کرے، تو ردعمل بھی لازمی پیدا ہوتا ہے۔


ٹرمپ کی پالیسی میں ایک اور پہلو بھی نمایاں ہے—غیر یقینی پن۔ بظاہر یہ ایک حکمتِ عملی ہے، لیکن اس کے منفی اثرات زیادہ ہیں۔ کوئی بھی ملک ایسے شراکت دار کے ساتھ طویل المدتی منصوبہ بندی نہیں کر سکتا جس کے فیصلے ہر روز بدلتے ہوں۔ نتیجتاً، دنیا زیادہ مستحکم اور قابلِ اعتماد تعلقات کی تلاش میں نکل پڑتی ہے۔


یہی وجہ ہے کہ آج یورپ، ایشیا اور حتیٰ کہ امریکہ کے قریبی اتحادی بھی اپنے معاشی اور سیاسی دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ایک خاموش مگر گہرا ردعمل ہے۔


پاکستان جیسے ممالک کے لیے اس صورتحال میں ایک اہم سبق موجود ہے۔


ہمیں جذبات یا وقتی فائدے کی بنیاد پر فیصلے کرنے کے بجائے طویل المدتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، اور اس بدلتی ہوئی دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوں گی جو توازن، خودداری اور حکمت کے ساتھ آگے بڑھیں گی۔


کسی ایک طاقت پر مکمل انحصار اب ایک خطرناک حکمتِ عملی بن چکی ہے۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کریں۔


آخر میں، ایک بنیادی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے:

طاقت صرف طاقت سے قائم نہیں رہتی۔


طاقت کو برقرار رکھنے کے لیے اعتماد، انصاف اور استحکام بھی ضروری ہوتے ہیں۔ جو ریاستیں ان اصولوں کو نظر انداز کرتی ہیں، وہ بظاہر مضبوط ہونے کے باوجود اندر سے کمزور ہو جاتی ہیں۔


شکاری بالادستی شاید وقتی طور پر کامیاب دکھائی دے، مگر اس کے اندر زوال کے بیج پوشیدہ ہوتے ہیں۔


اور تاریخ ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ جب طاقت حد سے بڑھ جائے، تو اس کا توازن خود بخود قائم ہو جاتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا