ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
ڈیورنڈ لائن، تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات
ایک تجزیاتی جائزہ
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے جو تاثر قائم کیا گیا ہے وہ اکثر تاریخی حقائق سے مختلف ہے۔ یہ دور پرسیپشن مینجمنٹ کا ہے؛ جو بیانیہ غالب آ جائے وہی سچ سمجھ لیا جاتا ہے۔ ایک تاثر یہ بنایا گیا کہ افغانستان کے مسائل کا ذمہ دار پاکستان ہے، حتیٰ کہ یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان نے افغانستان کو تباہ کیا۔ نائن الیون کے بعد اس تاثر سازی پر خاص طور پر کام کیا گیا۔
تاہم تاریخی شواہد ایک مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔
ڈیورنڈ لائن کا پس منظر
1893
میں برٹش انڈیا گورنمنٹ اور افغانستان کے امیر عبد الرحمن خان کے درمیان ڈیورنڈ لائن کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے دیباچے میں واضح طور پر لکھا گیا کہ سرحدی تنازعات کو باہمی رضامندی سے حل کیا جائے گا۔ سر ہنری مورٹیمر ڈیورنڈ کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا گیا۔
معاہدے کی اہم شقیں یہ تھیں:
- افغانستان کی مشرقی اور جنوبی سرحدات کا تعین واخان سے ایران تک کیا جائے گا۔
- دونوں فریق ایک دوسرے کے علاقوں، خصوصاً دیر، چترال اور باجوڑ میں مداخلت نہیں کریں گے۔
- امیر افغانستان کا سالانہ وظیفہ 12 لاکھ سے بڑھا کر 18 لاکھ روپے کیا گیا۔
12 نومبر 1893ء کو معاہدہ طے پایا۔ 13 نومبر کو کابل میں لویہ جرگہ بلایا گیا جس میں تقریباً چار سو افغان عمائدین، فوجی افسران اور امیر کے اہل خانہ شریک ہوئے۔ جرگے نے معاہدے کی توثیق کی۔ بعد ازاں 1894ء–1895ء میں حد بندی مکمل ہوئی۔
1919ء کی جنگ اور قانونی حیثیت
1919ء میں تیسری اینگلو افغان جنگ کے بعد افغانستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہوئی۔ تاہم اس مرحلے پر یہ تسلیم کیا گیا کہ برطانوی ہند اور افغانستان کے درمیان جو حدود پہلے سے متعین تھیں، انہی کا احترام کیا جائے گا۔
اس طرح ڈیورنڈ لائن ایک باقاعدہ بین الاقوامی سرحد کی حیثیت اختیار کر گئی۔ یہ محض ایک عارضی انتظام نہ تھا بلکہ ریاستی سطح پر تسلیم شدہ حد بندی تھی۔
1919ء سے 1947ء تک ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے کوئی بنیادی تنازع سامنے نہیں آیا۔ یہی اسٹیٹس کو برقرار رہا۔
1947ء اور ریاستی جانشینی
جب 1947ء میں برطانوی ہند تقسیم ہوا اور صوبہ سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) پاکستان کا حصہ بنا، تو ریاستی جانشینی (State Succession) کے اصول کے تحت وہی بین الاقوامی سرحد، جو برٹش ایمپائر اور افغانستان کے درمیان موجود تھی، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد بن گئی۔
یہ کہنا کہ 1947ء کے بعد کوئی نئی لائن کھینچی گئی، تاریخی طور پر درست نہیں۔ افغانستان کی سرحد پہلے سے متعین تھی اور وہی سرحد پاکستان کو منتقل ہوئی۔
1947ء کے بعد تنازع کیوں اٹھا؟
20 جون 1947ء کو افغانستان کے وزیراعظم نے سرحد اور پختونستان کا مسئلہ اٹھایا۔ بنوں میں کانگریس سے وابستہ حلقوں نے تیسری آپشن یعنی آزاد پختونستان کا نعرہ لگایا۔
30 ستمبر 1947ء کو اقوام متحدہ میں افغانستان نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ اس کے بعد پختونستان تحریک کو سرکاری سرپرستی دی گئی اور کابل میں پاکستان مخالف بیانیہ مضبوط کیا گیا۔
30 ستمبر 1947ء کو اقوام متحدہ میں افغانستان کے نمائندے حسین عزیز نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ اس کے بعد پختونستان کا ایشو کھڑا کیا گیا۔ کابل میں پختونستان ڈے منایا جاتا تھا اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا ہوتا تھا۔
1950ء میں افغان حکومت نے تیراہ میں آزاد پختونستان حکومت قائم کرنے کی کوشش کی۔ اسی سال چھ ہزار مسلح افغان لشکر نے پاکستان پر حملہ کیا، جو پانچ دن بعد پسپا ہوا۔ 1961ء میں پندرہ ہزار افغان ٹروپس نے باجوڑ پر حملہ کیا، لیکن وہ بھی پسپا ہوئے۔ یہ دونوں حملے ڈیورنڈ معاہدے کی ان شقوں کے خلاف تھے جن میں خاص طور پر دیر اور باجوڑ کے علاقوں میں عدم مداخلت کی بات کی گئی تھی۔
اس دوران پاکستان نے افغانستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ 1948ء میں پرنس عبد الکریم بلوچ ناراض ہو کر کابل گئے، وہاں تربیتی کیمپ بنے۔ 1960ء میں شیر محمد مری وہاں گئے۔ 1970ء کی دہائی میں بھی بعض بلوچ اور پختون نوجوان افغانستان گئے اور کیمپ قائم ہوئے۔ بعد ازاں الذوالفقار کے بھی تربیتی کیمپ وہاں قائم ہوئے۔ ٹی ٹی پی کی موجودگی بھی اسی تناظر میں دیکھی جاتی ہے۔
1970ء کی دہائی میں سردار داؤد آئے، انہوں نے پختونستان کا مسئلہ دوبارہ اٹھایا۔ جنرل ضیاء الحق نے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی۔ سردار داؤد پاکستان آئے، شالیمار باغ میں ان کا استقبال ہوا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے کا امکان پیدا ہو گیا تھا، لیکن واپسی پر انہیں قتل کر دیا گیا۔ بعد ازاں نور محمد ترہ کی آئے، پھر حفیظ اللہ امین آئے، اور پھر سوویت افواج افغانستان میں داخل ہو گئیں
1950ء اور 1961ء میں باجوڑ اور دیگر علاقوں میں دراندازی کے واقعات بھی پیش آئے، جو ڈیورنڈ معاہدے کی عدم مداخلت کی شق کے خلاف تھے۔
پاکستان مخالف سرگرمیاں اور سرد جنگ
مختلف ادوار میں پاکستان مخالف عناصر کو افغانستان میں پناہ ملتی رہی۔ 1979ء میں سوویت افواج کی آمد کے بعد خطے کی صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ اس مرحلے پر پاکستان نے افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر کردار ادا کیا، حالانکہ خود پاکستان بھی سوویت دباؤ کا سامنا کر رہا تھا۔
میجر عامر کا مؤقف
ہمارے ایک دوست کے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں میجر عامر صاحب، جو سرحدی امور اور افغان معاملات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں، نے تاریخی حقائق کی روشنی میں واضح کیا کہ ڈیورنڈ لائن کو 1947ء کے بعد خواہ مخواہ متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان کے مطابق:
- 1919ء کے بعد سرحد کی قانونی حیثیت طے ہو چکی تھی۔
- 1947ء میں ریاستی جانشینی کے اصول کے تحت وہی سرحد پاکستان کو منتقل ہوئی۔
- بعد میں اٹھایا جانے والا تنازع زیادہ تر سیاسی نوعیت کا تھا۔
ان کے مطابق اصل حقیقت یہی ہے کہ افغانستان کی سرحد برطانوی ہند کے ساتھ واضح اور متعین تھی، اور پاکستان اسی سرحد کا جانشین بنا۔
موجودہ صورت حال
افغانستان کا حالیہ رویہ بے حد مایوس کن ہے. پاکستان کے مسلسل افغان بھائیوں کے لیے دی جانے والی قربانیوں کے باوجود غلط فہمی کی خوفناک داستان ہے
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اس وقت مسلمان ہوتے ہوئے ایک ہی خدا اور ایک ہی رسول پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس کو اخری نبی مانتے ہوئے پاکستان پر حملے کرتے ہیں اور خاص طور پر پاکستانی فوج کو ٹارگٹ کرتے ہیں اس کے علاوہ معصوم شہریوں اور مساجد پر بھی یہ حملے کر چکے ہیں بچوں کو شہید کر چکے ہیں یہ ایک افسوس ناک صورتحال ہے جس کا اس وقت پوری امت مسلمہ کو سامنا ہے مذہب کا مقصد انسانیت میں بھائی چارے رواداری اور اخوت کا درس دینا تھا اور ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا اگر اسوہ حسنہ دیکھیں تو بڑا واضح نظر اتا ہے کہ اپ کی ذات مبارک سراسر سلامتی اور رحمت ہے اور یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ان کے ماننے والے اور سلامتی کے مذہب پر یقین رکھنے والے کسی بھی شخص کو قتل کر سکتے ہیں ہمارا پیارا دین تو بلا وجہ کسی غیر مسلم کو بھی جان سے مارنے کی اجازت نہیں دیتا یہی کہا جا سکتا ہے کہ فکری مغالطے ہیں جس نے اس امت کو تقسیم کر رکھا ہے بحیثیت سوشل سائنٹسٹ ہم جب اخوان طالب علموں کی پوسٹیں دیکھتے ہیں تو یقین نہیں اتا کہ نفرت ان کے شعور میں گویا رچ بس گئی ہے اور یہ نفرت ہم بطور میڈیا سائنسز کے طالب علم جانتے ہیں کہ باقاعدہ ایک گیٹ کیپنگ ایجنڈا سیٹنگ اور سلیکٹو پرسپشن کے ذریعے اور ایک ہیجمونک ماڈل کو اختیار کر کے تمام میڈیا کو اور رائے عامہ ہموار کرنے والے تمام لوگوں کو ساتھ لے کر کی جاتی ہے اور اس کے بعد یہ ذہن سازی ننھے بچے جب اس ساری شیڈو میں پروان چڑھتے ہیں تو نفرت ان کے شعور لاشعور فکر اور حرکیات کا لازمہ بن جاتی ہے اور یہی المیہ ہے اور یہیں سے سماجی المیے جنم لیتے ہیں
بہرحال، پاکستان اور افغانستان کے درمیان برادرانہ تعلقات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں۔ جنگ یا دشمنی کسی کے فائدے میں نہیں۔ مسئلے کا حل تاریخی حقائق کو تسلیم کرنے، جذباتی بیانیوں سے نکلنے اور ڈیورنڈ لائن کے بارے تاریخی حقائق کو سمجھنے اور پروپیگینڈا کے زیر اثر تمام فلاسفی کے انکار میں ہے جو افغانوں کو سمجھنا ہوگی لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ بین الاقوامی طاقتوں کے زیر اثر ا چکے ہیں اور ایسے اقدامات کر رہے ہیں جو نہ ان کے مفاد میں ہیں نہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت کے مفاد میں ہیں اور نہ ہی ان کے سب سے بڑے محسن پاکستان کے مفاد میں ہیں خوفناک پروپیگینڈا مشینری کے 40 سال سے استعمال کے بعد جو ذہن سازی عمل میں ا چکی ہے اس کو درست کرنے کے لیے اگلے 30 سال درکار ہوں گے اگر اج سے ہی اس کو درست کرنے کی کوشش کی جائے لیکن اس کا امکان نظر نہیں اتا ما سوائے کہ اللہ تعالی ہی کوئی اسباب پیدا فرمائیں اور افغان باشندوں کو سمجھ ا جائے
References
1. . The Making of a Frontier. London: John Murray, 1899.
2. . Afghanistan's Foreign Affairs to the Mid-Twentieth Century. Tucson: University of Arizona Press, 1974.
3. . Afghanistan: A New History. London: Routledge, 2001.
4. . In Afghanistan's Shadow: Baluch Nationalism and Soviet Temptations. Washington, DC: Carnegie Endowment for International Peace, 1981.
5. . Pakistan and the Emergence of Islamic Militancy in Afghanistan. Aldershot: Ashgate, 2005.
6. . Modern Afghanistan: A History of Struggle and Survival. London: I.B. Tauris, 2004.
7. . Official Records, 30 September 1947, Admission of Pakistan.
8. . What We Won: America's Secret War in Afghanistan, 1979–1989. Washington, DC: Brookings Institution Press, 2014.

Comments