اقراء سے دوری: امت کا اصل زوال, صاحب زادہ زابر سعید بدر
اقراء سے دوری: امت کا اصل زوال
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
ہم اکثر اپنی کمزوریوں کا سبب دوسروں کی طاقت کو قرار دیتے ہیں، مگر تاریخ کا سب سے تلخ سبق یہ ہے کہ قومیں باہر سے کم اور اندر سے زیادہ شکست کھاتی ہیں۔ آج اگر مسلمان دنیا کے نقشے پر موجود تو ہیں مگر علمی قیادت سے محروم ہیں، تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔ مسئلہ تعداد کا نہیں، وسائل کا نہیں، فوج کا نہیں — مسئلہ علم سے دوری کا ہے۔
قرآن کا پہلا حکم “اقرأ” ہے۔ یہ محض ایک روحانی پیغام نہیں تھا، یہ تہذیبی سمت کا اعلان تھا۔ یہی وہ حکم تھا جس نے ایک صحرائی معاشرے کو چند صدیوں میں علم کا مرکز بنا دیا۔ بغداد، قرطبہ اور سمرقند صرف شہر نہیں تھے، وہ فکر کے چراغ تھے۔ طب، ریاضی، فلکیات اور فلسفہ میں مسلمانوں نے بنیادیں رکھیں۔ یونانی علوم کے تراجم ہوئے، نئی تحقیقات ہوئیں، الجبرا وجود میں آیا، سائنسی طریقِ کار کو فروغ ملا۔ یہ وہ دور تھا جب علم عبادت سمجھا جاتا تھا۔
مگر پھر تاریخ کا پہیہ رکا نہیں، ہم رک گئے۔
1258 میں بغداد کی تباہی ایک سانحہ تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے بعد ہم نے کیا کیا؟ یورپ نے بھی طاعون دیکھا، جنگیں دیکھیں، شہر جلتے دیکھے، مگر اس نے نشاۃِ ثانیہ پیدا کیا۔ ہم نے مرثیہ پیدا کیا۔ ہم ماضی کی عظمت میں پناہ لیتے رہے، مستقبل کی تعمیر نہ کر سکے۔
ہمارے پاس سلطنتیں تھیں۔ عثمانیہ تھی، مغل تھے، صفوی تھے۔ طاقت تھی، خزانے تھے، فوجیں تھیں۔ مگر کیا ہم نے سائنسی انقلاب پیدا کیا؟ کیا صنعتی بنیاد رکھی؟ کیا کوئی ایسا تحقیقی نظام قائم کیا جو صدیوں تک علم کی پیداوار جاری رکھتا؟ حقیقت یہ ہے کہ ہماری زیادہ تر توانائی توسیع، دربار، اور اقتدار کے استحکام میں صرف ہوئی، علم کی مسلسل تخلیق میں نہیں۔
پھر بیسویں صدی میں ہمیں تیل ملا۔ دولت آئی۔ آسمان کو چھوتی عمارتیں بنیں۔ شاہراہیں، ہوٹل، اسلحہ، درآمدی ٹیکنالوجی — سب کچھ آیا۔ مگر کیا ہم نے تحقیق و ترقی کو قومی ترجیح بنایا؟ کیا ہم نے اپنی یونیورسٹیوں کو دریافت کا مرکز بنایا؟ دنیا کی بڑی سائنسی فہرستوں میں ہمارا حصہ انتہائی کم ہے۔ نوبیل انعامات، عالمی تحقیقی جرائد، پیٹنٹس، جدید ٹیکنالوجی — ان سب میں ہماری موجودگی برائے نام ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے، مگر اس کا سامنا کرنا ہی اصلاح کی پہلی شرط ہے۔
ہم اکثر سازشی نظریات کا سہارا لیتے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ہماری کمزوری کا سبب بیرونی طاقتیں ہیں۔ یقیناً عالمی سیاست میں مفادات کام کرتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے خود کو اس سطح تک پہنچایا جہاں ہم اپنی تقدیر کے معمار بن سکیں؟ سازشی نظریات ذہنی تسکین دیتے ہیں، مگر وہ لیبارٹری نہیں بناتے، نہ تحقیق پیدا کرتے ہیں۔
جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ دوسری جنگِ عظیم میں شکست، ایٹم بم، مکمل تباہی — مگر اس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ طاقت علم سے آئے گی۔ انہوں نے نظم و ضبط اپنایا، تعلیم کو مرکزی ستون بنایا، تحقیق میں سرمایہ لگایا، اور دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہو گئے۔ چین کو کبھی پسماندہ اور افیونی قوم کہا جاتا تھا، مگر اس نے دہائیوں کی منصوبہ بندی سے ٹیکنالوجی اور صنعت میں مقام حاصل کیا۔ بھارت نے آئی ٹی کو قومی حکمت عملی بنایا اور عالمی سافٹ ویئر مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا لی۔ ان قوموں نے شکوہ کم اور کام زیادہ کیا۔
ہماری اصل کمزوری جذباتیت ہے۔ ہم ردعمل میں جیتے ہیں، منصوبہ بندی میں نہیں۔ ہم تقریروں میں “اقرأ” دہراتے ہیں، مگر تحقیق پر بجٹ کم رکھتے ہیں۔ ہماری جامعات ڈگریاں دیتی ہیں، دریافت کم کرتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں سائنسدان ہیرو نہیں، خطیب اور سیاست دان ہیرو ہوتے ہیں۔ جب تک ترجیحات نہیں بدلیں گی، نتائج نہیں بدلیں گے۔
یہ بھی درست نہیں کہ مسلم دنیا میں کوئی مثبت مثال موجود نہیں۔ کچھ ممالک نے دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور صنعت میں پیش رفت کی ہے۔ مگر یہ جزوی کامیابیاں ہیں، اجتماعی علمی انقلاب نہیں۔ مسئلہ فرد کا نہیں، نظام کا ہے۔ ہمیں تعلیمی اصلاحات، تحقیق میں سرمایہ کاری، میرٹ پر مبنی ادارے، اور تنقیدی سوچ کی آزادی درکار ہے۔
تاریخ کا اصول سادہ ہے: علم طاقت پیدا کرتا ہے۔ دولت علم کے بغیر عارضی ہے۔ فوج علم کے بغیر محدود ہے۔ جو قوم تحقیق چھوڑ دیتی ہے، وہ دوسروں کی ایجادات کی خریدار بن جاتی ہے۔ جو قوم سوال کرنا چھوڑ دیتی ہے، وہ جواب دینے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔
لہٰذا ہمیں خود سے یہ سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم واقعی علم کو اپنی اجتماعی ترجیح بنانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم جذباتی نعروں سے نکل کر تحقیقی منصوبہ بندی کی طرف آئیں گے؟ کیا ہم اپنی نئی نسل کو رٹے کے بجائے تخلیقی سوچ دیں گے؟
امت کا زوال بیرونی طاقتوں سے زیادہ اندرونی جمود کا نتیجہ ہے۔ “اقرأ” کو اگر ہم نے دوبارہ زندہ نہ کیا تو تاریخ ہمیں مزید پیچھے چھوڑ دے گی۔ مگر اگر ہم نے علم کو اپنا مرکزی ہتھیار بنا لیا، تو وسائل بھی ہمارے کام آئیں گے، تعداد بھی، اور طاقت بھی۔
دنیا پر ہمیشہ علم نے حکومت کی ہے۔ جو قوم علم سے دور ہوتی ہے، وہ وقت کے ساتھ خود تاریخ کا حاشیہ بن جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کیا تھا؛ سوال یہ ہے کہ ہم اب کیا کرنے کو تیار ہیں۔
----------------------
جناب زابر سعید بدر ایک ممتاز استاد، محقق، صحافی اور سماجی مفکر ہیں جو علمی و فکری مباحث میں اپنی سنجیدہ اور مدلل تحریروں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ وہ بطور پروفیسر تدریس کے شعبے سے وابستہ رہتے ہوئے نئی نسل میں تنقیدی شعور، تحقیق کی اہمیت اور فکری خود اعتمادی کو فروغ دینے پر زور دیتے ہیں۔ ان کی تحریروں کا مرکزی موضوع مسلم دنیا کا فکری زوال، تعلیمی اصلاحات، سماجی رویّے اور تہذیبی خود احتسابی ہے۔
وہ جذباتیت کے بجائے دلیل، تحقیق اور معروضی تجزیے کو اہمیت دیتے ہیں اور علم کو قومی ترقی اور اجتماعی بقا کی بنیاد سمجھتے ہیں۔ صحافت اور تحقیق کے امتزاج سے وہ علمی مباحث کو عوامی سطح تک لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ معاشروں کی حقیقی ترقی تعلیم، سائنسی سوچ اور ادارہ جاتی اصلاح کے بغیر ممکن نہیں۔

Comments