ہم نے جینا کب چھوڑا | کالم | صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
ہم نے جینا کب چھوڑا صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر کبھی کبھی کوئی کتاب محض کتاب نہیں ہوتی، وہ اچانک ہمارے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دیتی ہے جس میں ہم اپنا گزر ا ہوا زمانہ دیکھنے لگتے ہیں۔ سیلسٹ ہیڈلی کی کتاب ’’آرام کوئی انعام نہیں، آپ کا حق ہے‘‘ کے بارے میں پڑھتے ہوئے میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں نے محسوس کیا کہ مصروفیت کو ہم نے زندگی کی ضرورت سے کہیں بڑھ کر زندگی کی علامت بنا لیا ہے۔ ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ جو شخص ہر وقت مصروف ہے، مسلسل کام کر رہا ہے، ہر فون اٹھا رہا ہے، ہر پیغام کا جواب دے رہا ہے، ہر منصوبے میں شریک ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں پچیس گھنٹے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے، شاید وہی کامیاب انسان ہے۔ حالانکہ کبھی کبھی یہ مصروفیت کامیابی نہیں، محض ایک خوب صورت سا دھوکا ہوتی ہے۔ مجھے اپنا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب میں نے ماسٹرز کیا تھا۔ ذہن میں ایک ہی خیال تھا کہ اب کچھ نہ کچھ کرنا ہے، زندگی کو کسی سمت میں لے جانا ہے۔ انہی دنوں میری شادی بھی ہوئی اور پھر زندگی میں احمد اور فاطمہ آئے۔ بچوں کی آمد کے ساتھ ذمہ داری کا مفہوم بھی بدل گیا۔ اب صرف اپنے لی...