Posts

Showing posts with the label Columns

ہم نے جینا کب چھوڑا | کالم | صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

Image
 ہم نے جینا کب چھوڑا   صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر     کبھی کبھی کوئی کتاب محض کتاب نہیں ہوتی، وہ اچانک ہمارے سامنے ایک ایسا آئینہ رکھ دیتی ہے جس میں ہم اپنا گزر ا ہوا زمانہ دیکھنے لگتے ہیں۔ سیلسٹ ہیڈلی کی کتاب ’’آرام کوئی انعام نہیں، آپ کا حق ہے‘‘ کے بارے میں پڑھتے ہوئے میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ میں نے محسوس کیا کہ مصروفیت کو ہم نے زندگی کی ضرورت سے کہیں بڑھ کر زندگی کی علامت بنا لیا ہے۔ ہم سمجھنے لگتے ہیں کہ جو شخص ہر وقت مصروف ہے، مسلسل کام کر رہا ہے، ہر فون اٹھا رہا ہے، ہر پیغام کا جواب دے رہا ہے، ہر منصوبے میں شریک ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں پچیس گھنٹے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے، شاید وہی کامیاب انسان ہے۔ حالانکہ کبھی کبھی یہ مصروفیت کامیابی نہیں، محض ایک خوب صورت سا دھوکا ہوتی ہے۔   مجھے اپنا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب میں نے ماسٹرز کیا تھا۔ ذہن میں ایک ہی خیال تھا کہ اب کچھ نہ کچھ کرنا ہے، زندگی کو کسی سمت میں لے جانا ہے۔ انہی دنوں میری شادی بھی ہوئی اور پھر زندگی میں احمد اور فاطمہ آئے۔ بچوں کی آمد کے ساتھ ذمہ داری کا مفہوم بھی بدل گیا۔ اب صرف اپنے لی...
Image
 بے شرمی کے دھارے پر بہتا ریوڑ   صاحب زادہ   محمد زابر سعید بدر  یہ کالم مارچ 2017 میں شائع ہوا تھا۔ آج تقریباً ساڑھے نو برس گزرنے کے بعد جب میں اس تحریر کو دوبارہ دیکھتا ہوں تو ایک عجیب احساس ہوتا ہے کہ جن اخلاقی رویوں، سماجی بے حسی اور گفتگو کی پستی پر اس وقت تشویش کا اظہار کیا تھا، حالات وہاں رکنے کے بجائے اس سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ یہ کالم اُس وقت جیو پر بھی شائع ہوا تھا اور میرے محترم دوست رضی الدین رضی صاحب نے اسے ملتان کی اپنی ویب سائٹ ’’گرد و پیش‘‘ پر بھی جاری کیا تھا۔ آج جب میں اپنے اردگرد دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ اخلاقی اقدار جس پست سطح تک جا پہنچی ہیں، نو برس پہلے کا معاشرہ بھی اس کے مقابلے میں کہیں بہتر دکھائی دیتا ہے۔ اُس وقت جن رویوں کو ہم اخلاقی زوال سمجھ کر تشویش کا باعث قرار دے رہے تھے، آج وہی رویے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ اختلافِ رائے، نجی گفتگو، شخصی وقار، تہذیبِ گفتگو اور دوسروں کی عزتِ نفس جیسے بنیادی اصول گویا ہماری اجتماعی زندگی سے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ سوال اب پہلے سے کہیں زیادہ خوفناک انداز میں ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ کیا اخلاقی پستی ک...

پیگمالین ایفیکٹ : حقیقت یا مفروضہ | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 پیگمالین ایفیکٹ : حقیقت یا مفروضہ   صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر   کچھ عرصے سے میرے ذہن میں ایک سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا واقعی ہمارے خیالات اور دوسروں کی ہمارے بارے میں قائم کی ہوئی توقعات ہماری شخصیت اور کارکردگی کو بدل سکتی ہیں؟ چند روز پہلے ایک نہایت اچھی پریزنٹر کی ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ وہ نہایت خوب صورت انداز میں گفتگو کرتی ہیں، علامہ اقبال کے اشعار کا اکثر حوالہ دیتی ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کا تلفظ، ادائیگی اور اشعار پڑھنے کا سلیقہ قابلِ توجہ ہے۔ اسی ویڈیو میں انہوں نے ’’پیگمالین ایفیکٹ‘‘ کا ذکر کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ جس موضوع پر میں کچھ عرصے سے سوچ رہا ہوں، شاید اسے قلم بند کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ پیگمالین ایفیکٹ کو سادہ الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی شخص سے ہماری توقعات بعض اوقات اس شخص کے ساتھ ہمارے رویے کو بدل دیتی ہیں اور ہمارا یہی بدلا ہوا رویہ بالآخر اس کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یعنی معاملہ محض خیال تک محدود نہیں رہتا؛ خیال رویے میں ڈھلتا ہے، رویہ دوسرے انسان کے تجربے کو بدلتا ہے اور وہ تجربہ اس کی کارکردگی، خود اعتمادی او...