صاحب زادہ زابر سعید بدر مختصر تعارف
تین نسلوں کی لیگیسی کتاب سے محبت کا انوکھا سفر
صاحب زادہ زابر سعید بدر
صحافی /معلم / مصنف / پی آر پریکٹیشنر
صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر معلم، صحافی، مصنف، محقق اور میڈیا ایکسپرٹ ہیں۔ ان کی شخصیت صحافت، ابلاغیات، ادب، تحقیق، تدریس، پبلک ریلیشنز اور میڈیا پریکٹس کے مختلف شعبوں کا ایک جامع امتزاج ہے۔ وہ ایک ایسی علمی و صحافتی روایت کے وارث ہیں جس کی جڑیں تین نسلوں تک پھیلی ہوئی ہیں اور جس میں صحافت، ادب، تحقیق، مذہبی و سماجی فکر اور عوامی خدمت نمایاں عناصر رہے ہیں۔
صاحبزادہ زابر سعید بدر 22 مئی 1972 کو پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کے معروف صحافی سعید بدر کے صاحبزادے اور تحریکِ پاکستان کے ممتاز رہنما، پنجابی شاعر اور مذہبی رہنما سائیں حکیم محمد یعقوب منیر کے پوتے ہیں۔ یوں انہیں صحافت، علم، ادب اور سماجی و مذہبی شعور کی ایک ایسی خاندانی میراث ملی جس کے اثرات ان کی شخصیت اور پیشہ ورانہ زندگی میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ تین نسلوں پر محیط یہ علمی و فکری نسبت ان کی زندگی کے ابتدائی تربیتی ماحول کا اہم حصہ رہی۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم سینٹ جوزف اسکول، شاد باغ، لاہور سے حاصل کی، جب کہ میٹرک گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری اسکول، وحدت روڈ، لاہور سے کیا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے تاریخ، ابلاغیات اور سیاسیات میں ماسٹرز کیا. تاریخ میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی۔ ابلاغیات میں ان کی اعلیٰ تعلیم کے دوران ان کے مقالے کے نگران معروف ماہرِ ابلاغ عامہ پروفیسر ڈاکٹر مسکین علی حجازی تھے۔ انہیں اپنے دور کے ممتاز اساتذہ، جن میں ڈاکٹر مجاہد منصوری، ڈاکٹر مہدی حسن اور ڈاکٹر اے آر خالد شامل ہیں، سے استفادہ اور علمی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔
زابر سعید بدر نے لکھنے کا سلسلہ کم عمری ہی میں شروع کر دیا تھا۔ ان کی پہلی تحریر بچوں کے معروف ماہنامے جگنو میں شائع ہوئی۔ بعد ازاں ان کی تحریریں تعلیم و تربیت اور روزنامہ *جنگ* ، امروز اور مشرق کے بچوں کے رسائل میں شائع ہوتی رہیں۔ بچوں کے لیے ان کی ابتدائی تحریری کاوشوں کو اس وقت پذیرائی ملی جب یونیسیف کی جانب سے انہیں بچوں کے بہترین لکھاری کا اعزاز دیا گیا۔ یہی ابتدائی ادبی سفر آگے چل کر صحافت، کالم نگاری، تصنیف اور تحقیق کے ایک طویل اور مسلسل سفر میں تبدیل ہو گیا۔
صحافت میں ان کے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز 1996 میں روزنامہ نوائے وقت سے ہوا۔ بعد ازاں وہ روزنامہ پاکستان سے وابستہ ہوئے اور پھر 2002 میں جنگ گروپ کا حصہ بنے۔ جنگ گروپ کے ساتھ انہوں نے کئی برس کام کیا اور مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔ روزنامہ جنگ سے ان کی طویل وابستگی کے دوران ان کی صحافتی شناخت مزید مستحکم ہوئی۔ ان کی رپورٹیں اور تحریریں جیو نیوز سمیت مختلف ذرائع ابلاغ میں بھی شائع اور نشر ہوتی رہی ہیں۔ ان کی صحافتی دلچسپیوں میں میڈیا، تاریخ، سیاست، سماج، تعلیم، قومی مسائل اور معاصر حالات نمایاں رہے ہیں۔
صحافت کے ساتھ ساتھ پبلک ریلیشنز ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اہم شعبہ رہا ہے۔ اپنے والد سعید بدر کی طرح انہوں نے بھی تعلقاتِ عامہ کے میدان میں کام کیا اور پاکستان کے اہم اداروں کے علاوہ بین الاقوامی اداروں کے لیے بھی خدمات انجام دیں۔ واسا لاہور کے لیے ان کی میڈیا خدمات کے اعتراف میں انہیں بہترین میڈیا پریکٹیشنر کا اعزاز دیا گیا۔ انہوں نے یونیورسٹی ایجوکیشن کے شعبے میں ڈائریکٹر پبلیکیشنز کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں اور مختلف مقامی و بین الاقوامی اداروں میں پبلیکیشنز اور کمیونیکیشن سے متعلق ذمہ داریاں نبھائیں۔
صاحبزادہ زابر سعید بدر کا ایک نمایاں حوالہ ان کی تصنیفی خدمات ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد 60 سے زیادہ ہے۔ ان کی کتابوں میں تعلقاتِ عامہ، ابلاغیات، صحافت، میڈیا ریسرچ، کرنٹ افیئرز، سوشل سائیکالوجی اور دیگر علمی و سماجی موضوعات شامل ہیں۔ انہوں نے ایسے موضوعات پر بھی اردو میں کام کیا جن پر اردو میں مستند اور جامع مواد محدود تھا۔ ان کی کتابوں نے تدریسی اور علمی حلقوں میں بھی جگہ بنائی اور ان کی متعدد تصانیف علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سمیت مختلف جامعات کے نصابی و تدریسی استعمال میں شامل رہیں۔
تدریس کے میدان میں بھی ان کا سفر طویل اور نمایاں ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی ہدایت اور حوصلہ افزائی پر انہوں نے باقاعدہ تدریس کا آغاز کیا۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب، سپیریئر یونیورسٹی، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی (UMT) اور دیگر جامعات میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ کئی برسوں پر محیط اس تعلیمی سفر کے دوران ہزاروں طلبہ ان سے مستفید ہوئے۔ ان کی تدریسی شناخت خاص طور پر ابلاغیات، صحافت، میڈیا اسٹڈیز اور متعلقہ سماجی علوم کے شعبوں سے وابستہ رہی ہے۔
ان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو پاکستان میں آن لائن میڈیا تعلیم کے ابتدائی تصور سے وابستگی ہے۔ انہوں نے 2009 میں زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز قائم کیا، جب پاکستان میں آن لائن تعلیم ابھی ابتدائی تصور تھی اور فاصلاتی و آن لائن پیشہ ورانہ تعلیم کا موجودہ انفراسٹرکچر وجود میں نہیں آیا تھا۔ اس اعتبار سے وہ پاکستان میں آن لائن میڈیا ایجوکیشن کے ابتدائی علم برداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس ادارے کے ذریعے میڈیا اور ابلاغیات سے متعلق تعلیم و تربیت کو روایتی یونیورسٹی نظام سے باہر بھی عام کرنے کی کوشش کی گئی۔
کمیونٹی جرنلزم کے میدان میں بھی زابر سعید بدر نے ایک منفرد تجربہ کیا۔ انہوں نے لاہور میں کمیونٹی ٹاؤن نیوز کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار جاری کیا، جو علامہ اقبال ٹاؤن اور اس کے گرد و نواح کی آبادیوں کے لیے تھا۔ 2001 کے آس پاس اس کی اشاعت تقریباً 25 ہزار تک پہنچی۔ اس تجربے نے لاہور میں کمیونٹی جرنلزم کے ایک نئے رجحان کو متعارف کرانے میں کردار ادا کیا۔ بعد کے برسوں میں مقامی اور شہری سطح کے ٹیلی وژن نیوز چینلز کے تصور نے بھی فروغ پایا اور اسی وسیع تر رجحان میں سٹی 42 جیسے چینلز سامنے آئے۔
صاحبزادہ زابر سعید بدر اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں لکھتے ہیں۔ ان کے ہزاروں مضامین، کالم، تحقیقی تحریریں اور صحافتی رپورٹس مختلف اوقات میں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کا تحریری سفر بچوں کے ادب سے شروع ہو کر صحافت، کالم نگاری، ابلاغی تحقیق، تاریخ، سماجی مسائل اور علمی تصنیف تک پھیلا ہوا ہے۔ اس وسیع تجربے نے ان کی شخصیت میں صحافی، مصنف، محقق، استاد اور میڈیا پریکٹیشنر کے مختلف کرداروں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا ہے۔
ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا ایک اہم پہلو مختلف شعبوں کے لوگوں سے مسلسل رابطہ اور عملی تجربہ بھی ہے۔ صحافت نے انہیں سیاسی، سماجی اور ادبی حلقوں سے جوڑا، تدریس نے ہزاروں طلبہ سے، تحقیق نے علمی دنیا سے، پبلک ریلیشنز نے قومی و بین الاقوامی اداروں سے، جب کہ تصنیف نے انہیں قارئین کی ایک وسیع دنیا سے وابستہ رکھا۔ یہی تنوع ان کی شخصیت کو محض ایک صحافی یا استاد کے بجائے ایک ہمہ جہت ابلاغی شخصیت بناتا ہے۔
زابر سعید بدر کی زندگی میں تین نسلوں کی علمی و فکری میراث کا تسلسل بھی نمایاں ہے۔ ان کے دادا سائیں حکیم محمد یعقوب منیر کی مذہبی، ادبی اور تحریکِ پاکستان سے وابستہ زندگی، ان کے والد سعید بدر کی صحافتی شناخت اور خود زابر سعید بدر کی صحافت، تصنیف، تدریس اور تحقیق—یہ سب ایک مسلسل خاندانی روایت کے مختلف ادوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس روایت کا ایک نیا تسلسل ان کے صاحبزادے احمد زابر سعید کی صورت میں بھی دکھائی دیتا ہے، جو اسی علمی، صحافتی اور تخلیقی روایت کو آگے بڑھانے کی سمت میں سرگرم ہیں۔
صاحبزادہ زابر سعید بدر کی شخصیت کا بنیادی امتیاز یہی تنوع ہے۔ ان میں صحافی بھی موجود ہے، مصنف بھی، استاد بھی، محقق بھی، میڈیا ایکسپرٹ بھی اور پبلک ریلیشنز پریکٹیشنر بھی۔ ان کا سفر بچوں کے ایک رسالے میں پہلی تحریر سے شروع ہو کر قومی صحافت، درجنوں کتابوں، یونیورسٹی تدریس، میڈیا ریسرچ، آن لائن تعلیم، کمیونٹی جرنلزم اور ہزاروں طلبہ کی تربیت تک پہنچا ہے۔ اس اعتبار سے ان کی زندگی نہ صرف ایک فرد کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کی داستان ہے بلکہ پاکستان میں صحافت، ابلاغیات اور میڈیا تعلیم کی کئی دہائیوں پر محیط ارتقائی تاریخ کا بھی ایک حصہ ہے۔

Comments