پیگمالین ایفیکٹ : حقیقت یا مفروضہ | صاحب زادہ زابر سعید بدر




 پیگمالین ایفیکٹ : حقیقت یا مفروضہ 


صاحب زادہ 

محمد زابر سعید بدر 


کچھ عرصے سے میرے ذہن میں ایک سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا واقعی ہمارے خیالات اور دوسروں کی ہمارے بارے میں قائم کی ہوئی توقعات ہماری شخصیت اور کارکردگی کو بدل سکتی ہیں؟ چند روز پہلے ایک نہایت اچھی پریزنٹر کی ایک ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ وہ نہایت خوب صورت انداز میں گفتگو کرتی ہیں، علامہ اقبال کے اشعار کا اکثر حوالہ دیتی ہیں اور سب سے بڑھ کر ان کا تلفظ، ادائیگی اور اشعار پڑھنے کا سلیقہ قابلِ توجہ ہے۔ اسی ویڈیو میں انہوں نے ’’پیگمالین ایفیکٹ‘‘ کا ذکر کیا تو مجھے محسوس ہوا کہ جس موضوع پر میں کچھ عرصے سے سوچ رہا ہوں، شاید اسے قلم بند کرنے کا وقت آ گیا ہے۔


پیگمالین ایفیکٹ کو سادہ الفاظ میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی شخص سے ہماری توقعات بعض اوقات اس شخص کے ساتھ ہمارے رویے کو بدل دیتی ہیں اور ہمارا یہی بدلا ہوا رویہ بالآخر اس کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ یعنی معاملہ محض خیال تک محدود نہیں رہتا؛ خیال رویے میں ڈھلتا ہے، رویہ دوسرے انسان کے تجربے کو بدلتا ہے اور وہ تجربہ اس کی کارکردگی، خود اعتمادی اور رویے میں تبدیلی پیدا کر سکتا ہے۔ یہی وہ بنیادی تصور ہے جسے نفسیات میں ’’ایکسپیکٹینسی ایفیکٹ‘‘ اور ’’سیلف فل فِلنگ پراپیسی‘‘ کے وسیع تر تصور سے بھی جوڑا جاتا ہے۔


اس تصور کی سب سے مشہور علمی بنیاد رابرٹ روزینتھال اور لینور جیکبسن کی 1968ء کی تحقیق ’’پیگمالین اِن دی کلاس روم‘‘ بنی۔ ان کا کام اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا تھا کہ اس نے یہ سوال اٹھایا کہ اگر ایک استاد کسی طالب علم کے بارے میں یہ توقع رکھتا ہو کہ وہ بہتر کارکردگی دکھائے گا تو کیا استاد کا اپنا رویہ اس طالب علم کی حقیقی کارکردگی کو متاثر کر سکتا ہے؟ اس تحقیق کے بعد نصف صدی سے زیادہ عرصے میں اس موضوع پر بے شمار مطالعات ہوئے، اگرچہ اصل تجربے کے طریقۂ کار اور نتائج پر علمی تنقید بھی ہوئی اور بعد کی تحقیقات نے تصویر کو کہیں زیادہ پیچیدہ بنا دیا۔


یہاں رک کر ایک بات واضح کرنا ضروری ہے، کیونکہ ہمارے ہاں نفسیات کے بہت سے تصورات چند خوب صورت جملوں میں تبدیل ہو کر اپنی اصل سائنسی حدود سے بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ پیگمالین ایفیکٹ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان جس چیز کے بارے میں سوچ لے وہ لازماً حقیقت بن جاتی ہے، یا محض کسی کے بارے میں مثبت خیال رکھنے سے اس کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ سائنس اس قدر سادہ دعویٰ نہیں کرتی۔ جدید تحقیق یہ بتاتی ہے کہ توقعات کا اثر موجود ہے، مگر یہ اثر عموماً محدود، مختلف حالات میں مختلف اور کئی دوسرے عوامل سے مشروط ہوتا ہے۔


مثلاً 2018ء میں شائع ہونے والے ایک منظم جائزے اور میٹا اینالیسس میں اس موضوع پر 19 مداخلتی مطالعات کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے پایا کہ اساتذہ کی توقعات میں اضافہ ممکن ہے اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی میں بھی ایک چھوٹا مگر شماریاتی طور پر معنی خیز مثبت اثر دیکھا گیا۔ طلبہ کی کارکردگی کے لیے مجموعی اثر کا حجم ہجز جی کے پیمانے پر 0.30 تھا۔ یہ کوئی ایسا نتیجہ نہیں جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ صرف ’’مثبت سوچ‘‘ انسان کو کامیاب بنا دیتی ہے، لیکن اتنا ضرور ثابت ہوتا ہے کہ استاد کی توقعات محض ذہنی کیفیت نہیں؛ وہ بعض حالات میں تعلیمی نتائج سے متعلق ہو سکتی ہیں۔


اصل سوال یہ ہے کہ یہ اثر پیدا کیسے ہوتا ہے؟ شاید اس کا جواب خود انسانی رویے میں پوشیدہ ہے۔ اگر ایک استاد کسی طالب علم کو قابل سمجھتا ہے تو ممکن ہے وہ اس طالب علم سے زیادہ سوال کرے، اسے مشکل سوال حل کرنے کا موقع دے، جواب دینے کے لیے زیادہ وقت دے، اس کی غلطی کو ناکامی کے بجائے سیکھنے کا مرحلہ سمجھے اور اسے زیادہ مفید فیڈبیک دے۔ تحقیق میں بھی زیادہ توقع رکھنے والے اساتذہ کے ایسے رویوں کی نشاندہی ہوئی ہے۔ یوں استاد کی توقع براہِ راست بچے کے ذہن میں داخل ہو کر اسے نہیں بدلتی بلکہ استاد کے رویے کے ذریعے ایک ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جس میں بچے کے بہتر کارکردگی دکھانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔


میں بحیثیت استاد اس معاملے کو صرف کتابوں سے نہیں بلکہ اپنے تجربے سے بھی دیکھتا ہوں۔ بعض طلبہ ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں استاد کا یقین طالب علم کے اپنے یقین سے زیادہ مضبوط دکھائی دیتا ہے۔ استاد بار بار کہتا ہے کہ ’’تم کر سکتے ہو‘‘، ’’میں تم سے اس سے بہتر کی توقع رکھتا ہوں‘‘ اور ’’تم میں صلاحیت موجود ہے‘‘۔ یہ جملے اگر محض رسمی حوصلہ افزائی نہ ہوں بلکہ استاد کے حقیقی یقین سے نکلیں تو طالب علم کے لیے ان کی نفسیاتی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ وہ صرف استاد کو جواب دینے کے لیے نہیں بلکہ اس اعتماد کو درست ثابت کرنے کے لیے بھی کوشش کرنے لگتا ہے۔


یہاں مجھے اپنے والد کی قائم کی ہوئی توقعات بھی یاد آتی ہیں اور اپنے اساتذہ کی بھی۔ زندگی میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی نظر میں ہمارا ایک بہتر روپ موجود ہوتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ ہم سے محبت کرتے ہیں، ہم پر اعتماد کرتے ہیں اور ہماری ذات میں ایسی صلاحیت دیکھتے ہیں جو شاید ہم خود بھی پوری طرح نہیں دیکھ پاتے۔ پھر انسان کے اندر ایک عجیب سی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میں اس اعتماد کو ٹوٹنے نہ دوں۔ میں ان کی توقع پر پورا اتروں۔ میں انہیں مایوس نہ کروں۔ اور یہی خواہش بعض اوقات انسان کو اپنی کمزوریوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ کرتی ہے۔


اس میں ایک نہایت گہرا نفسیاتی پہلو ہے۔ انسان صرف اپنی ذات سے نہیں بنتا؛ وہ دوسروں کی نگاہ میں اپنے عکس سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ والدین، استاد، دوست، شریکِ حیات یا کوئی ایسا شخص جس کی رائے ہمارے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہو، اگر ہمارے اندر اچھائی، صلاحیت اور امکان دیکھتا ہے تو اس کی نظر ہمارے لیے ایک طرح کا آئینہ بن سکتی ہے۔ ہم اس آئینے میں اپنے آپ کو ویسا دیکھنے لگتے ہیں جیسا وہ ہمیں دیکھتا ہے۔ پھر اس تصورِ ذات کو حقیقت بنانے کی کوشش شروع ہو سکتی ہے۔


لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ دوسرے کی توقع لازماً انسان کی شخصیت بدل دے گی۔ ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اس کی اپنی شخصیت، مزاج، ماضی کے تجربات، ذہنی ساخت، خود اعتمادی، محرکات اور حالات بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض افراد بیرونی توقعات سے بہت متاثر ہوتے ہیں، بعض نسبتاً کم اور بعض تو ایسی توقعات کے خلاف مزاحمت بھی شروع کر دیتے ہیں۔ اس لیے ’’خیال کی طاقت‘‘ کو کوئی جادوئی قوت سمجھنا نفسیات کو افسانہ بنا دینا ہے۔


البتہ انسانی شخصیت پر شخصیت کا اثر ایک الگ اور نہایت اہم موضوع ہے۔ ہم میں سے ہر شخص نے زندگی میں کبھی نہ کبھی کسی ایسی شخصیت کا سامنا ضرور کیا ہوگا جس کے علم، کردار، تدبر، گفتگو یا فکری گہرائی نے ہمیں متاثر کیا ہو۔ ہم اس شخص کے سامنے خود کو کسی حد تک بدلتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔ اس کے علم سے متاثر ہو کر علم حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے، اس کے کردار سے متاثر ہو کر اپنے کردار پر نظر پڑتی ہے، اس کی محنت دیکھ کر اپنی سستی شرمندہ کرتی ہے اور اس کی بصیرت ہمارے اپنے فکری افق کو وسیع کر دیتی ہے۔


یہاں شاید پیگمالین ایفیکٹ سے آگے بڑھ کر ’’ماڈلنگ‘‘، ’’سوشل لرننگ‘‘ اور ’’آئیڈینٹی فکیشن‘‘ جیسے نفسیاتی تصورات بھی ہمارے لیے اہم ہو جاتے ہیں۔ انسان صرف اس لیے نہیں بدلتا کہ کوئی اس سے کچھ توقع کرتا ہے؛ وہ اس لیے بھی بدل سکتا ہے کہ اسے کسی دوسرے انسان میں وہ شخصیت نظر آتی ہے جس جیسا وہ خود بننا چاہتا ہے۔ کسی شخصیت کی موجودگی ہمارے اندر تبدیلی کی خواہش پیدا کر سکتی ہے۔ ہم اس شخص کی نقل نہیں بلکہ اس کے کسی وصف کو اپنی شخصیت کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔


اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ’’خیال‘‘ اور ’’حقیقت‘‘ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔


خیال بذاتِ خود حقیقت نہیں ہوتا، لیکن خیال اگر احساس پیدا کرے، احساس رویہ بدل دے، رویہ مسلسل عمل میں تبدیل ہو جائے اور عمل انسان کی عادتوں اور کارکردگی کو بدل دے تو ایک ابتدائی خیال بالآخر حقیقی نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ اس پورے عمل میں دماغ، شخصیت، سماجی تعلقات، توقعات، محرکات اور ماحول سب شریک ہوتے ہیں۔


اس کا منفی پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر کسی بچے کو مسلسل یہ احساس دیا جائے کہ وہ کم ذہین ہے، ناکام ہے، کچھ نہیں کر سکتا یا اس سے کسی خاص کارکردگی کی توقع نہیں تو ممکن ہے اس کے ساتھ برتاؤ بھی اسی تصور کے مطابق ہونے لگے۔ اسے کم مواقع ملیں، اس سے کم سوال کیے جائیں، اس کی معمولی غلطی کو بھی نااہلی سمجھا جائے اور بالآخر وہ خود بھی اپنے بارے میں وہی تصور قائم کر لے۔ اسی لیے تعلیمی نفسیات میں کم توقعات کے ممکنہ نقصانات بھی اہم موضوع ہیں۔ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ استاد کی توقعات اور طالب علم کی کارکردگی کے درمیان تعلق موجود ہے، اگرچہ اس تعلق کی شدت ہر صورت میں یکساں نہیں ہوتی۔


یہی وجہ ہے کہ ایک اچھا استاد صرف سبق نہیں پڑھاتا، وہ طالب علم کے بارے میں ایک تصور بھی قائم کرتا ہے۔ لیکن اس تصور میں محبت کے ساتھ حقیقت پسندی بھی ضروری ہے۔ بچے سے یہ کہنا کہ ’’تم سب سے بڑے سائنس دان بنو گے‘‘ شاید اتنا مفید نہ ہو جتنا یہ کہنا کہ ’’تم میں یہ صلاحیت ہے، اگر تم محنت کرو تو تم اپنی موجودہ سطح سے بہت آگے جا سکتے ہو۔‘‘ پہلی بات محض تعریف ہے، دوسری بات ایک حقیقت پسندانہ توقع، راستہ اور ذمہ داری تینوں فراہم کرتی ہے۔


اسی طرح والدین کی محبت بھی صرف بچے کو یہ بتانے میں نہیں کہ وہ دنیا کا سب سے ذہین بچہ ہے۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ والدین بچے میں صلاحیت دیکھیں، اس کی کمزوریوں کو بھی سمجھیں، اسے ناکامی کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیں اور اس سے ایسی توقع رکھیں جو اس کی حقیقی صلاحیت اور محنت کے امکان سے جڑی ہو۔ غیر حقیقی توقع دباؤ بن سکتی ہے، جبکہ حقیقت پسندانہ اور محبت بھری توقع محرک بن سکتی ہے۔


میرے خیال میں پیگمالین ایفیکٹ کا سب سے خوب صورت پہلو یہی ہے کہ یہ ہمیں دوسروں کو دیکھنے کے انداز پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم کسی انسان کو جس نظر سے دیکھتے ہیں، ممکن ہے ہمارا وہی رویہ اس انسان کے تجربے کا حصہ بن جائے۔ استاد طالب علم کو کس نظر سے دیکھتا ہے، والدین بچے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، ہم اپنے دوست کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر انسان خود کو کس نظر سے دیکھتا ہے—یہ سب سوالات معمولی نہیں۔


تاہم سائنس ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ خوب صورت خیال کو خوب صورت دعوے میں تبدیل کرنے سے پہلے ثبوت تلاش کرنا چاہیے۔ پیگمالین ایفیکٹ کے بارے میں موجود تحقیق ہمیں امید دیتی ہے، مگر مبالغہ کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔ جدید شواہد اسے ایک حقیقی مگر محدود اور حالات پر منحصر نفسیاتی اثر کے طور پر دیکھنے کی زیادہ مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، نہ کہ ایک ایسی عالم گیر طاقت کے طور پر جس سے ہر خیال لازماً حقیقت بن جائے۔


تو پھر کیا یہ صرف ایک خیال ہے؟


نہیں، محض خیال نہیں۔


اور کیا یہ کوئی ایسا سائنسی قانون ہے کہ انسان جو سوچ لے وہ لازماً بن جاتا ہے؟


یہ بھی نہیں۔


حقیقت شاید ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہے۔ کسی کی توقع ہمارے اندر براہِ راست کوئی نئی شخصیت پیدا نہیں کرتی، مگر وہ ہمارے ساتھ برتاؤ بدل سکتی ہے؛ وہ برتاؤ ہمارے احساسِ ذات، ہماری حوصلہ افزائی اور ہماری کوشش پر اثر ڈال سکتا ہے، اور مسلسل کوشش ہماری کارکردگی بدل سکتی ہے۔ اسی طرح کسی غیر معمولی شخصیت سے متاثر ہونا ہمیں اپنی ذات کا ایک بہتر امکان دکھا سکتا ہے اور اس امکان کو حقیقت بنانے کی تحریک دے سکتا ہے۔


شاید انسان کی تعمیر میں خیال سے زیادہ اہم وہ عمل ہے جو خیال کے بعد شروع ہوتا ہے۔


اور شاید کسی والد کی اپنے بیٹے سے، کسی استاد کی اپنے شاگرد سے اور کسی مخلص انسان کی دوسرے انسان سے یہ کہنا کہ ’’مجھے تم سے بہت امید ہے‘‘ محض ایک جملہ نہیں۔ بعض اوقات یہ کسی انسان کے اندر چھپی ہوئی اس صلاحیت کو آواز دینے کی کوشش ہوتی ہے جسے وہ خود ابھی پوری طرح سن نہیں پایا ہوتا۔


اس لیے شاید ہمیں اپنے الفاظ اور اپنی توقعات دونوں کے بارے میں محتاط ہونا چاہیے۔ کیونکہ ہم کبھی نہیں جانتے کہ ہماری کسی ایک نظر، کسی ایک جملے یا کسی ایک توقع نے کسی دوسرے انسان کے اندر کون سا چراغ روشن کر دیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ مفاہمت میں ہے / تاریخ کا سبق, زابر سعید بدر