Posts

Showing posts from June, 2026

سوئٹزرلینڈ: وہ سرزمین جہاں ریاست عمارتوں میں نہیں، انسانوں کے اندر رہتی ہے, زابر سعید بدر

Image
  سوئٹزرلینڈ: وہ سرزمین جہاں ریاست عمارتوں میں نہیں، انسانوں  میں  رہتی ہے زابرصاحبـــــــــزادہ کچھ دن پہلے دنیا کی نظریں ایک بار پھر سوئٹزرلینڈ کی طرف اٹھیں۔ پہاڑوں کے درمیان بسی ہوئی وہ خاموش سرزمین، جہاں عالمی سیاست کے دھاگے اکثر آ کر آپس میں الجھتے اور سلجھتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں کے پرچم وہاں لہرا رہے تھے۔ پاکستان کا پرچم بھی موجود تھا، امریکہ کا بھی، ایران کا بھی۔ کیمروں کی آنکھیں متوجہ تھیں، عالمی میڈیا متحرک تھا، اور ایک بار پھر یہ احساس تازہ ہوا کہ دنیا کے کئی بڑے فیصلوں کی بازگشت آخرکار انہی وادیوں میں سنائی دیتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیوں ایک نسبتاً چھوٹا سا ملک، جس کے پاس نہ کوئی بڑی فوجی طاقت ہے، نہ کوئی وسیع سلطنت، نہ دنیا کو فتح کرنے والے جرنیلوں کی داستانیں، آج بھی عالمی اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب نقشے میں نہیں ملتا۔ سوئٹزرلینڈ کو سمجھنے کے لیے پہلے انسان کو سمجھنا پڑتا ہے۔ وہاں ریاست کسی ایک ایوان، کسی ایک محل یا کسی ایک طاقتور شخصیت میں نہیں رہتی۔ وہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں بکھری ہوئی ہے۔ کبھی کسی...

موساد کا پچھتاوا: جب دنیا اسلام آباد کو دیکھ رہی تھی,زابر سعید بدر

Image
 موساد کا پچھتاوا: جب دنیا اسلام آباد کو دیکھ رہی تھی ___________ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر   ذرا ایک لمحے کے لیے  تصور  کیجیے۔ دنیا ایک ایسی جنگ کے کنارے کھڑی تھی جس کے شعلے صرف ایران، اسرائیل یا امریکہ تک محدود نہیں رہنے تھے۔ تیل کی قیمتیں بے قابو ہو رہی تھیں۔ عالمی منڈیاں لرز رہی تھیں۔ تجزیہ کار تیسری عالمی جنگ کے خدشات پر گفتگو کر رہے تھے۔ لاکھوں نہیں، اربوں انسانوں کے گھروں میں خوف داخل ہو چکا تھا۔ ماں اپنے بچے کے دودھ کی قیمت دیکھ رہی تھی، مزدور پیٹرول کے بڑھتے نرخوں سے پریشان تھا، اور حکومتیں آنے والے بحران کا حساب لگا رہی تھیں۔ پھر دنیا کے ٹی وی سکرینوں پر ایک منظر ابھرا۔ سوئٹزرلینڈ کے پُرسکون پہاڑوں کے درمیان عالمی سفارت کاری کا ایک غیر معمولی منظر ترتیب پا رہا تھا۔ واشنگٹن، لندن، بیجنگ، ماسکو، دوحہ، ریاض، تہران، استنبول اور برسلز کے نیوز رومز میں ایک ہی خبر گردش کر رہی تھی۔ اسلام آباد۔ جی ہاں، اسلام آباد۔ وہی اسلام آباد جسے کبھی صرف ایک ترقی پذیر ملک کا دارالحکومت سمجھا جاتا تھا، اس دن عالمی سفارت کاری کے مرکز کے طور پر لیا جا رہا تھا۔ دنیا بھر ک...