سوئٹزرلینڈ: وہ سرزمین جہاں ریاست عمارتوں میں نہیں، انسانوں کے اندر رہتی ہے, زابر سعید بدر
سوئٹزرلینڈ: وہ سرزمین جہاں ریاست عمارتوں میں نہیں، انسانوں میں رہتی ہے
زابرصاحبـــــــــزادہ
کچھ دن پہلے دنیا کی نظریں ایک بار پھر سوئٹزرلینڈ کی طرف اٹھیں۔ پہاڑوں کے درمیان بسی ہوئی وہ خاموش سرزمین، جہاں عالمی سیاست کے دھاگے اکثر آ کر آپس میں الجھتے اور سلجھتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں کے پرچم وہاں لہرا رہے تھے۔ پاکستان کا پرچم بھی موجود تھا، امریکہ کا بھی، ایران کا بھی۔ کیمروں کی آنکھیں متوجہ تھیں، عالمی میڈیا متحرک تھا، اور ایک بار پھر یہ احساس تازہ ہوا کہ دنیا کے کئی بڑے فیصلوں کی بازگشت آخرکار انہی وادیوں میں سنائی دیتی ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟
کیوں ایک نسبتاً چھوٹا سا ملک، جس کے پاس نہ کوئی بڑی فوجی طاقت ہے، نہ کوئی وسیع سلطنت، نہ دنیا کو فتح کرنے والے جرنیلوں کی داستانیں، آج بھی عالمی اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے؟
اس سوال کا جواب نقشے میں نہیں ملتا۔
سوئٹزرلینڈ کو سمجھنے کے لیے پہلے انسان کو سمجھنا پڑتا ہے۔
وہاں ریاست کسی ایک ایوان، کسی ایک محل یا کسی ایک طاقتور شخصیت میں نہیں رہتی۔ وہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلوں میں بکھری ہوئی ہے۔ کبھی کسی گاؤں کے چوک میں، کبھی کسی مقامی اسمبلی میں، اور کبھی ایک عام شہری کے ضمیر میں، جو یہ یقین رکھتا ہے کہ قانون اس پر مسلط نہیں، اس کے ساتھ چل رہا ہے۔
یہ کوئی رومانوی افسانہ نہیں۔
یہ صدیوں پر محیط ایک سماجی تربیت کی کہانی ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی بنیاد کسی فاتح بادشاہ نے نہیں رکھی تھی۔ اس کی ابتدا ان پہاڑی وادیوں سے ہوئی جہاں چھوٹے چھوٹے انسانی گروہ آباد تھے۔ بیرونی خطرات نے انہیں ایک دوسرے کے قریب کیا۔ دفاع کی ضرورت نے اتحاد پیدا کیا، اتحاد نے ادارے بنائے، اور اداروں نے ریاست کو جنم دیا۔
گویا وہاں ریاست آسمان سے نازل نہیں ہوئی تھی؛ زمین سے اُگی تھی۔
یہی وہ نکتہ ہے جو اسے دنیا کے بہت سے ممالک سے ممتاز بناتا ہے۔
وقت گزرتا گیا اور ایک بنیادی اصول وہاں کی اجتماعی زندگی کا حصہ بنتا چلا گیا: طاقت مرکز میں جمع نہیں ہوگی۔
آج بھی سوئٹزرلینڈ ایک وفاقی ریاست ہے، مگر وہاں وفاق کسی مطلق حاکم کا نام نہیں۔ سات افراد پر مشتمل فیڈرل کونسل اجتماعی طور پر حکومت چلاتی ہے۔ صدر موجود ہوتا ہے مگر بطور علامت، بطور طاقت نہیں۔ اختیار ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں ٹھہرتا بلکہ مسلسل گردش کرتا رہتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ کی اصل طاقت حکومت نہیں، شہری ہے۔
وہ شہری جو ہر چند سال بعد صرف ووٹ ڈالنے کے لیے نہیں نکلتا بلکہ روزانہ اپنی شہری ذمہ داری نبھاتا ہے۔ اسی لیے وہاں ریفرنڈم اور عوامی انیشی ایٹو محض آئینی اصطلاحات نہیں بلکہ زندہ سماجی عمل ہیں۔ قانون صرف پارلیمنٹ میں نہیں بنتا، عوامی شعور میں بھی اپنی منظوری حاصل کرتا ہے۔
ایک عام شہری اگر کسی قانون پر سوال اٹھائے تو ریاست اسے سننے پر مجبور ہوتی ہے۔
یہ طاقت کا نظام نہیں، اعتماد کا نظام ہے۔
اور اعتماد کبھی ایک دن میں پیدا نہیں ہوتا۔
یہ نسلوں کی تربیت مانگتا ہے۔
یہ مقامی کمیونٹیوں سے جنم لیتا ہے۔ ان چھوٹی اکائیوں سے جو انسان کو صرف رہائشی نہیں بلکہ شریکِ ریاست بناتی ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے ہزاروں کمیونز آج بھی اپنی حد تک ایک چھوٹی ریاست کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ٹیکس کا انتظام کرتے ہیں، اپنے فیصلے کرتے ہیں اور اپنی اجتماعی زندگی کو خود منظم کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وہاں شہری ریاست کے تابع ہونے سے پہلے اس کا حصہ بنتا ہے۔
کچھ علاقوں میں آج بھی ایک قدیم روایت زندہ ہے جسے لینڈسگیماائنڈے کہا جاتا ہے۔ کھلے میدان میں لوگ جمع ہوتے ہیں، ہاتھ اٹھا کر فیصلے کرتے ہیں اور اپنے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ جدید دنیا کے لیے یہ منظر شاید غیر معمولی ہو، مگر درحقیقت یہی وہ لمحہ ہے جہاں ریاست اور شہری کے درمیان موجود دیوار تقریباً غائب ہو جاتی ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کسی غیر جانبدار مقام، کسی قابلِ اعتماد میزبان یا کسی ایسے ماحول کی تلاش کرتی ہے جہاں گفتگو تصادم پر غالب آ سکے، تو اس کی نظریں بار بار سوئٹزرلینڈ کی طرف اٹھتی ہیں۔
کیونکہ اعتماد صرف بینکوں میں جمع نہیں ہوتا۔
اعتماد معاشروں میں جمع ہوتا ہے۔
اور معاشرے صرف قوانین سے نہیں بنتے، کردار سے بنتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کا سب سے بڑا راز اس کے پہاڑ، جھیلیں یا مالیاتی ادارے نہیں ہیں۔ اس کا اصل راز وہ شہری ہے جو اپنے آپ کو نظام سے الگ نہیں سمجھتا۔ وہ جانتا ہے کہ اگر اجتماعی ڈھانچہ کمزور ہوگا تو اس کی اپنی زندگی بھی کمزور ہوگی۔
اسی لیے وہاں ایک استاد صرف نصاب نہیں پڑھاتا، شہری شعور بھی منتقل کرتا ہے۔
ایک ڈاکٹر صرف علاج نہیں کرتا، سماجی اعتماد کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
اور ایک عام آدمی صرف زندگی نہیں گزارتا، ریاست کی تعمیر میں روزانہ حصہ لیتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ جب دنیا کے اہم سفارتی لمحات، بڑے مذاکرات اور تاریخ ساز ملاقاتیں اس سرزمین پر وقوع پذیر ہوتی ہیں تو اصل طاقت عمارتوں میں نہیں ہوتی۔ اصل طاقت ان اقدار میں ہوتی ہے جو صدیوں کے سفر کے بعد ایک قوم کے اجتماعی مزاج کا حصہ بن چکی ہوتی ہیں۔
سوئٹزرلینڈ ہمیں یہ نہیں کہتا کہ ہم اس کی نقل کریں۔
وہ صرف ایک خاموش سوال ہمارے سامنے رکھتا ہے:
کیا ریاست صرف حکومت کا نام ہے، یا پھر وہ ایک زندہ شعور بھی ہے جو اپنے شہریوں کے اندر سانس لیتا ہے؟
اور شاید اسی سوال کے جواب میں قوموں کا مستقبل پوشیدہ ہے۔
صاحب زادہ
محمد زابر سعید بدر
25 جون 2026

Comments