Posts

Showing posts from September, 2026

مہنگائی اور ہمارے سماجی رویے | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  مہنگائی اور ہمارےسماجی رویے صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر مہنگائی ہونا کوئی بڑی بات نہیں یہ دنیا بھر کا مسلہ ہے لیکن مصنوعی مہنگائی پیدا کرنا نہایت شرم کی بات ہے جو ہمارے ہاں عام ہے۔ ہم بات اسلام کی کرتے ہیں لیکن ہمارے اعمال یہود و نصاری کو بھی شرمانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ کوئی عید تہوار ہو یا ملک میں کسی قسم کی ایمرجنسی ہو ہم خدا اور رسول کو بھلا کر ذخیرہ اندوزی شروع کر دیتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ اللہ کریم ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرے گا۔ ہم صبح و شام ناپ تول میں ہیرا پھیری کرتے ہیں لیکن ہمیں قبر کا کوئی خوف نہیں۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ لوگ پاکستان سے حج عمرے کرتے ہیں اور ہماری لاکھوں بیٹیاں اس لیے بالوں میں چاندی لیے بیٹھی ہیں کہ ان کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ادویات تک میں ہم ملاوٹ کرتے ہیں اور پوری قوم کو صبح و شام نیکی کا بھاشن دیتے نہیں تھکتے۔ ہم منتظر ہیں ناجانے کب خدا امریکہ کو تباہ کر دے گا یا دنیا کے سارے عیسائی یہودی مارے جائیں گے۔ او بھائی لوگو! ایسا نہیں ہو تا اور نہ کبھی ہوا ہے اپنے کرتوت دیکھو کیا اس قابل بھی ہیں کہ اپنے آپ سے بھی آنکھ ملا سکیں۔ کبھی ان عیسائی ...

تشکیل شدہ فکری الگورتھم اور استاد | زابر سعید بدر | سنڈے کالم

Image
 سنڈے کالم |  زابر سعیدبدر تشکیل شدہ فکری الگورتھم اور استاد   استاد کسی بھی معاشرے کا سب سے اہم شخص ہوتا ہے۔ اگر کوئی معاشرہ اپنی زوال پذیری کے باعث استاد کو وہ مقام اور اختیار نہ دے سکے جس کا وہ حق دار ہے، یا استاد خود بھی اسی زوال پذیر نظام کا حصہ بن جانے کے باعث اپنے دائرۂ اثر اور اپنے منصب کی اہمیت کو سمجھنے سے قاصر ہو جائے تو یہ بھی ایک بڑی بدقسمتی ہے۔ کیونکہ استاد صرف ایک شخص نہیں ہوتا، وہ آنے والی نسل کے ذہن کی تشکیل کرنے والا انسان ہوتا ہے، اور ذہنوں کی تشکیل دراصل معاشروں کی تشکیل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے اپنے گرد ایک ایسا پیچیدہ الگورتھم بنا لیا ہے جس میں ہم جو بتاتے ہیں، لوگ وہی سوچیں، جو دکھاتے ہیں، لوگ وہی دیکھیں، جو پڑھاتے ہیں، لوگ وہی پڑھیں اور جو سکھاتے ہیں، لوگ وہی سیکھیں۔ ہم ہر وقت لاکھوں کروڑوں الفاظ، تصاویر، آوازوں اور پیغامات کے درمیان رہتے ہیں۔ یہی مواد ہماری سوچوں کی بنیاد بنتا ہے۔ مختلف ایجنڈا سیٹنگ کے مقاصد کے تحت خیالات کو تشکیل دیا جاتا ہے، ترجیحات متعین کی جاتی ہیں اور پھر ایک پورے معاشرے کے ذہنی رویوں میں بتدریج تبدیلی پیدا کی جاتی ہے...

لڑکپن کی ایک فون کال | نوے کا لاہوری منظر نامہ | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image

شاہ دین بلڈنگ لاہور اور میرا بچپن | زابر سعید بدر

Image
  شاہ دین بلڈنگ اور میرے والد سعید بدر صاحبزادہ زابر سعید بدر کی لاہور سے جڑی بچپن کی یادیں شاہ دین بلڈنگ .... میاں فیملی آف باغبان پورہ کے جسٹس میاں محمد شاہ دین ہمایوں کی 1914 میں تعمیر کردہ..... بعد ازاں ان کے پوتے میاں منظر بشیر نے بی سی سی آئی کو پیچ دی.... اور آغا حسن عابدی کے زوال کے بعد الفلاح بنک کے پاس آئی..... ابا جی سعید بدر صاحب کا دفتر بھی یہیں تھا پہلا کمرہ انہی کا تھا.... یہ دفتر کسی زمانے میں میاں بشیر احمد صاحب مدیر یمایوں کا تھا جو بعد ازیں ابا جی کے پاس آ گیا.... ذوقی انکل کی شاپ نظر آ رہی ہے ابو کے پاس اکثر آتے تھے..... ابھی ہمارے ایک دوست نے یہ تصویر لگا کر پوچھا کہ لاہوریو یہ کون سی جگہ ہے ما سوائے ایک دوست کے سب نے غلط جواب دیا تو میرا جی چاہا کہ میں تصحیح کر دوں کیونکہ میری اس جگہ سے بچپن کی بہت یادیں ہیں بہت وقت شاہ دین بلڈنگ میں گزرا ہے سامنے ومٹو والے کی سبز رنگ کی گاڑی کھڑی ہوتی تھی جس میں وہ ومٹو اور اورنج جوس دیا کرتا جو میں اکثر ملا کر پیتا ذرا آگے فیروز سنز ہوا کرتا جس میں اکثر جا کر میں کتابیں لیتا وہاں انکل سعید لخت ہوا کرتے کبھی ڈاکٹر عبدا...

المنظر 32 لارنس روڈ لاہور کی یادیں | زابر سعید بدر

Image
 المنظر لاہور میں لی جانے والی اس تاریخی تصویر میں ال انڈیا  مسلم لیگ کے بانیان میں سے ایک جسٹس میاں محمد شاہدین کے صاحبزادے میاں بشیر احمد (ایڈیٹر ہمایوں) سر میاں محمد شفیع جنہوں نے مسلم لیگ کا نام تجویز کیا کی صاحب زادی بیگم گیتی ارا بشیر احمد جو میاں بشیر احمد کی اہلیہ ہیں.  میاں منظر بشیر جن کے دادا جسٹس میاں محمد شاہدین صاحب ہمایوں ہیں جن پہ علامہ اقبال نے نظم لکھی[ اے ہمایوں] اور ان کے نانا سر میاں محمد شفیع جن کے ذکر کے بغیر تحریک پاکستان ہی مکمل نہیں ہوتی بیگم گیتی ارا کی بڑی بہن بیگم جہاں ارا شاہنواز جن کا ذکر کیے بغیر پاکستان موومنٹ میں خواتین کا کردار مکمل نہیں ہوتا اور میرے والد گرامی جناب سعید بدر صاحب دائیں طرف پہلے تشریف فرما ہیں.

فطرت سے لڑتی قوم | بے ترتیب زندگی, بڑھتی بیماریاں | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 فطرت سے لڑتی قوم  بےترتیب زندگی | بڑھتی بیماریاں صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر   ہمارے معاشرے میں بیماریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ صرف ہسپتالوں، ڈاکٹروں یا علاج کی سہولتوں کا مسئلہ نہیں۔ اس کے پیچھے ہماری خوراک، نیند، جسمانی سرگرمی، ذہنی دباؤ، کھانے کے اوقات، وزن، تمباکو نوشی، ماحولیاتی عوامل اور مجموعی طرزِ زندگی کا بہت بڑا کردار ہے۔ موروثی اور جینیاتی عوامل بھی اہم ہیں؛ بعض بیماریوں کا رجحان نسل در نسل منتقل ہوتا ہے، لیکن جینیاتی استعداد کا مطلب یہ نہیں کہ بیماری لازماً پیدا ہو گی۔ بہت سے معاملات میں ہمارا طرزِ زندگی اس استعداد کو بیماری میں تبدیل کرنے یا اسے برسوں تک خاموش رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آج ہمارے شہروں میں رات دیر تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ رات کے دو، تین بجے بھی چائے کے ہوٹل آباد ہیں، کھانے پینے کی دکانوں پر رش ہے، نوجوان سڑک کنارے بیٹھے ہیں، کہیں تاش ہو رہی ہے، کہیں کھیل کے نام پر وقت گزر رہا ہے، کہیں موبائل فون ہاتھ میں ہے اور کہیں محض گپ شپ جاری ہے۔ لاہور کی گوالمنڈی سے گلبرگ تک اور دوسرے بڑے شہروں کی مختلف مارکیٹوں تک رات گئے تک زندگی جا...

The Cost of Never Saying ‘Well Done’ | Zabir Saeed Badar

Image
  The Cost of Never Saying ‘Well Done’ Zabir Saeed Badar A strange and regrettable tradition has taken root in Pakistan’s political and social history. Instead of praising those who do the work, we pull their legs. Instead of giving credit for performance, we subject them to baseless criticism. The current noise over the Punjab government’s use of aircraft and the Chief Minister’s visit to London is a case in point. Setting aside the question of what is right or wrong, a basic question arises: is the use of official resources or protocol happening for the first time in this country? Power and protocol have a long history here. Whoever comes to power makes grand claims about turning Governor Houses into universities and adopting a simple lifestyle. In practice it is never that easy. Serious security concerns and the practical demands of running the state keep those in office within a certain circle. The real question is whether we will keep arguing only about formalities, or whether...

ہماری قومی خود غرضی, کارکردگی اور تنقید کا المیہ | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  ہماری قومی خود غرضی، کارکردگی اور تنقید کا المیہ صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر   پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں ایک عجیب اور افسوسناک روایت قائم ہو چکی ہے، کام کرنے والوں کو سراہنے کے بجائے ان کی ٹانگیں کھینچنا اور کارکردگی کی بنیاد پر داد دینے کے بجائے بلا جواز تنقید کا نشانہ بنانا۔ آج کل پنجاب حکومت کے طیارے کے استعمال اور وزیراعلیٰ کے دورۂ لندن کو لے کر جو شور مچایا جا رہا ہے، اس سے قطع نظر کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس ملک میں سرکاری وسائل یا پروٹوکول کا استعمال پہلی بار ہوا ہے؟ ہمارے ملک میں اقتدار اور پروٹوکول کا ایک طویل سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ جو بھی اقتدار میں آتا ہے، وہ بلند و بانگ دعوے کرتا ہے کہ ہم گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیوں میں بدل دیں گے اور سادہ زیست اختیار کریں گے، مگر عملی طور پر یہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔ سیکیورٹی کے شدید مسائل اور ریاست کے انتظامی تقاضے حکمرانوں کو ایک خاص دائرہ کار میں محدود کر دیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف ان رسمی باتوں پر ہی الجھتے رہیں گے یا یہ بھی دیکھیں گے کہ کون ڈیلیور کر رہا ہے؟ اگ...

مقصد حیات | صوفی عنایت خان کی کتاب سے اقتباس | انتخاب و ترجمہ صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
  مقصد حیات صوفی عنایت خان حقیقت کے متلاشی انسان کے لیے سب سے پہلی بات جس کا ادراک ضروری ہے، وہ زندگی کے مقصد کا شعور ہے۔ جونہی کوئی روح زندگی کی سرمستی اور اس کے نشے سے قدرے بیدار ہو کر سنجیدگی کی طرف آتی ہے، اس کے ذہن میں سب سے پہلا سوال یہی ابھرتا ہے: ’’میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟‘‘ ہر روح کا اپنا ایک مقصد ہوتا ہے، لیکن بالآخر یہ تمام مقاصد ایک ہی مقصد پر منتج ہوتے ہیں؛ اور صوفی اسی آخری مقصد کی جستجو میں رہتا ہے۔ تمام ارواح، خواہ صحیح راستے سے سفر کریں یا غلط راستے سے، بالآخر جلد یا بدیر اسی مقصد تک پہنچتی ہیں۔ یہ وہ مقصد ہے جسے پورا ہونا ہے؛ وہ مقصد جس کے لیے پوری کائنات کی تخلیق عمل میں آئی ہے۔ لیکن جو روح شعوری طور پر اس مقصد کی تلاش میں سرگرمِ عمل ہو، اور وہ روح جو بے خبری میں اسی منزل کی طرف بڑھتی چلی جائے، ان دونوں میں وہی فرق ہے جو مادّے اور اس کے صانع میں ہوتا ہے۔ مٹی کا ایک ڈھیلا بھی برتن بننے کی طرف بڑھتا ہے اور کمہار بھی اسے برتن بنانے کے مقصد سے کام کرتا ہے؛ مگر مقصد کے پورا ہونے کی خوشی اور اس کی تکمیل کا شعور کمہار کو حاصل ہوتا ہے، مٹی کو نہیں۔ بالکل یہی معاملہ ان ...

کتاب پڑھنے کے یا توجہ کے پیسے | صدائے دل | کالم | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 کتاب پڑھنے یا توجہ کے پیسے صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر  دنیا بھر میں اس وقت یہ احساس تیزی سے تقویت پکڑ رہا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور خصوصاً اسمارٹ فون نے جہاں انسان کے لیے معلومات تک رسائی آسان بنائی ہے، وہیں مسلسل اسکرولنگ، مختصر ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے انسانی توجہ، مطالعے اور گہری سوچ کے معمولات کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسی پس منظر میں سنگاپور کی طرف سے شروع کیا جانے والا ایک پروگرام خاص توجہ کا مستحق ہے، جس کے تحت شہریوں کو روزانہ کم از کم پندرہ منٹ کتاب پڑھنے پر ورچوئل کوائنز دیے جا رہے ہیں، جنہیں ایک مخصوص حد تک پہنچنے کے بعد رقم میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ سنگاپور کے نیشنل لائبریری بورڈ کے تحت شروع کیے گئے اس پروگرام کا بنیادی مقصد لوگوں میں مطالعے کی عادت کو فروغ دینا ہے۔ پندرہ منٹ یا اس سے زیادہ مطالعے کے ایک سیشن پر 20 ورچوئل کوائنز دیے جاتے ہیں جبکہ ایک ہزار کوائنز ایک سنگاپوری ڈالر کے برابر ہیں۔ بادی النظر میں یہ کتاب پڑھنے کے عوض رقم دینے کا منصوبہ دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کی اصل اہمیت مالی معاوضے سے کہیں زیادہ اس رویے میں ہے جسے یہ پروگرام...

یورپ میں اسلام: خوف، حقیقت اور اسلامو فوبیا| اکانمسٹ رپورٹ | صاحب زادہ زابر سعید بدر

Image
 اکانمسٹ لیڈ اسٹوری _______ یورپ میں اسلام: خوف، حقیقت اور اسلامو فوبیا صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر    اکانمسٹ  کا 12 ستمبر 2026 کا تازہ شمارہ میرے سامنے ہے سب سے پہلے تو اس کے ٹائٹل نے مجھے چونکا دیا جس پر لکھا تھا  “The reality of Islam in  Europe”  یعنی ’’یورپ میں اسلام کی حقیقت‘‘۔  ذیلی سرخی اس سے بھی زیادہ توجہ طلب ہے  “Islam poses no serious  danger to Europeans. But Islamism and the fear of Islam do”  یعنی اسلام خود یورپیوں کے لیے کوئی سنجیدہ خطرہ نہیں، لیکن اسلام ازم اور اسلام کا خوف خطرہ بن سکتے ہیں۔   ایک لمحے سے بھی کم وقت میں اسکو پڑھنے کا فیصلہ کر چکا تھا  کیونکہ ہم برسوں سے یہ سنتے آئے ہیں کہ اسلام امریکہ اور یورپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے، مسلمان آبادی بڑھ رہی ہے، یورپ کی تہذیبی شناخت تبدیل ہو رہی ہے اور شاید آنے والے وقت میں یورپ ایک مختلف سماجی و سیاسی حقیقت بن جائے گا۔ مگر  اکانمسٹ  کی یہ تحریر اس پورے معاملے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہے، اور مجھے مناسب لگا کہ اسے  میڈیا اسٹڈیز کے ط...

کئی سمتوں میں بدلتی دنیا | بین الاقوامی تعلقات | صاحب زادہ زابر سعید بدر

 بین الاقوامی تعلقات  ______ کئی سمتوں میں بدلتی دنیا  صاحب زادہ  محمد  زابر سعید بدر  گلوبل ولیج کا تصور اب محض ایک خوبصورت اصطلاح نہیں رہا بلکہ زیادہ سوفسٹیکیٹڈ انداز میں ہمارے سامنے ایک ایسی حقیقت بن چکا ہے جس میں دنیا کے ایک کونے میں ہونے والی ہلکی سی ہلچل دوسرے کونے میں بیٹھے انسان کی زندگی، معیشت، سیاست، تعلیم اور حتیٰ کہ اس کی سوچ کو بھی متاثر کر دیتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بالخصوص یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات، جنہیں آنے والے دنوں میں معاشرے کی فکری سمت متعین کرنی ہے، کرنٹ افیئرز سے غیر معمولی حد تک دور ہوتے جا رہے ہیں۔ میں نے خود کلاس رومز میں یہ رویہ بہت قریب سے دیکھا ہے کہ طالب علم اپنے اردگرد ہونے والی سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی تبدیلیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کی وقتی بحثوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ آج کا میڈیا اسٹوڈنٹ اگر دنیا کو نہیں سمجھتا تو وہ اپنے معاشرے کو بھی پوری طرح نہیں سمجھ سکتا۔ اسی لیے میں عموماً کلاس روم میں، اپنے کالمز میں، تحریروں اور سوشل میڈیا پوسٹس میں بین الاقوامی معاملات کو زیر بحث لاتا ہوں، ...