تذلیل سے تذلیل تک | صدائے دل | کالم | صاحب زادہ زابر سعید بدر




 صدائے دل

تذلیل سے تذلیل تک


صاحب زادہ  محمد زابر سعید بدر


انسان ایک بہت پیچیدہ اور مبہم مخلوق ہے اور رویے کے لحاظ سے انسان کو سمجھنے کے لیے ماہرینِ نفسیات، سماجیات، بشریات اور ابلاغیات نے مختلف پیمانے بنا رکھے ہیں، لیکن اس کے باوجود انسان کو سمجھنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے ہم کاسموس کو سمجھیں کہ یہ پھیلتی ہوئی کائنات کدھر جا رہی ہے اور کب تک جائے گی، اس کا کوئی اختتام ہے یا نہیں ہے، تو کب ہوگا۔ اور حیرت انگیز طور پر اربوں، کھربوں سالوں سے یہ پھیلتی جا رہی ہے، پھیلتی جا رہی ہے۔


بالکل اسی طرح انسانی رویے، جو اس کے ذہن کی پیچیدگی کی وجہ سے ہیں، اور نارمل رویے بہت  ہی کم ہوتے ہیں۔ ماہرین کہہ رہے ہیں کہ دو سال میں انسان جو بن جاتا ہے نارمل یا ابنارمل وہی مرنے تک رہتا ہے.پانچ سال میں اس میں پختگی آ جاتی ہے اور پھر اسی پہ پوری زندگی شخصیت رہتی ہے۔


 بدقسمتی سے تیسری دنیا کے غریب اور پوسٹ کلونیل اثرات سے لبریز معاشروں میں تہذیب یافتہ اقوام جیسی تعلیم و تربیت ممکن نہیں ہے لہذا ہمارے یہاں بچے عمومی طور پر مختلف تعصبات اور ڈراماز کا شکار ہوتے ہیں اور احساس کمتری یا برتری ان میں بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے اس کا اظہار وہ بچپن سے ہی شروع کر دیتے ہیں مزید بدقسمتی یہ ہے کہ یہی بچہ اپنی اس ٹراما شخصیت کے ساتھ، ٹراما کمپلیکسز کے ساتھ، جب کسی عہدے پہ پہنچتا ہے، کسی پوسٹ پر یا ایسے عہدے پہ آتا ہے جب اسے دنیا کے لوگوں پر اختیار ملتا ہے تو تب اس کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ اس عہدے تک پہنچنے میں یا اس اختیار تک جانے تک جو اس نے راستہ اختیار کیا ہوتا ہے، اس میں وہ اپنا آپ مختلف بناوٹی چہروں سے گزارتا  ہے، لیکن اصل چہرہ اس کو اختیار جب وہ صاحبِ اختیار ہوتا ہے، تب سمجھ میں آتا ہے، تب ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ کیا ہے۔

کہتے ہیں ایک مرتبہ ہمارے سابق صدر ضیاء الحق جب ابھی صاحب اختیار ہونے کی منازل طے کر رہے تھے تو بڑے صاحب یعنی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے ایسا رویہ اختیار کرتے جو انہیں انتہائی مودب اور فرمانبردار ظاہر کرتا ایک مرتبہ تو جلتا ہوا سگریٹ اپنی جیب میں رکھ بیٹھے اور اس کی تپش سے یقینی طور پر پریشان تو ہوئے ہوں گے لیکن مجال ہے کہ بھٹو صاحب کے سامنے چوں بھی کی ہو یہ ایک ایسی مثال ہے جو ہم بچپن سے سن رہے ہیں اور پڑھ رہے ہیں اسی سے اپ انسانی مزاج کی بو قلمیوں کا اندازہ لگا سکتے ہیں


پروفیسر مغیث، ہمارے بہت ہی پیارے استاد، اپنی خود نوشت سوانح عمری" سسکتی مسکراتی زندگی"  میں اسی تاثر کا جابجا اظہار کرتے ہیں جب ہم اسے پڑھیں تو یہی شکوہ  ملتا ہے کہ انہوں نے جس پہ بھی احسان کیا، اس نے ان کو ستانے اور تنگ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ا یہ میرے سامنے کی باتیں ہیں کہ پروفیسر صاحب نے جن جن لوگوں کی تقرری  کروائی، ان کو باہر اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا یا مختلف کانفرنسز میں بھیجا، میرے سامنے انہوں نے کسی نہ کسی طور پہ ڈاکٹر صاحب کا نقصان ہی کیا۔


 حضرت علی کرم اللہ وجہہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وہ خوبصورت پُرحکمت بیان، جو دل کرتا ہے کہ کوہِ نور سامنے آ جائے اور اس پہ قطع کر کے اس کی روشنی سے پوری دنیا کو آگاہ کریں کہ جس پہ احسان کرو، اس کے شر سے ڈرو۔


مغیث صاحب بتاتے ہیں کہ جب ان کے بہت ہی قریبی دوست، جو بعد میں وائس چانسلر بنے، اور ان صاحب نے کس کس طرح ڈاکٹر صاحب کو تنگ نہیں کیا، پریشان نہیں کیا، اذیت نہیں دی، وہ بھی ایک داستان ہے۔


اور جب ہم 30 برس پہلے اسی شعبۂ ابلاغیات میں پڑھتے تھے تو اساتذہ کی اس زمانے میں بھی رسہ کشی دیکھتے، چپقلش دیکھتے، ایک دوسرے کے خلاف گفتگو سنتے تو حیران ہوتے تھے۔ ایک دفعہ ڈاکٹر احسن اختر ناز نے مجھے کہا، یار تم یہ کیسے کر لیتے ہو کہ اپنی کتاب میں سارے ان پروفیسرز، جو ایک دوسرے کا نام سننا پسند نہیں کرتے، ان سے اپنی کتاب کے بارے میں رائے لکھوا لی؟ تو میں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا، سر میرے لیے تو سب اساتذہ ہیں۔


خیر، ڈاکٹر صاحب نے بہت خوبصورت بات لکھی کہ وائس چانسلرز کے لیے سرچ کمیٹی بنائی گئی ہے تو سرچ کمیٹی کا کام ہے کہ وہ سرچ کرے اور competent شخص کو وائس چانسلر کے لیے منتخب کرے، کجا یہ کہ ایک شخص اپنے آپ کو پیش کرے کہ میں وائس چانسلر کے عہدے کے لیے اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں یا اپلائی کرتا ہوں۔


اس لیے وہ اس قسم کی سیاست سے دور رہنا پسند کرتے تھے اور لکھتے ہیں کہ یہ یک طرفہ تماشہ تھا کہ میرے اپنے لوگ بھی میرے خلاف تھے۔ انہیں یہ فکر ستا رہی تھی کہ گورنر خالد مقبول ڈاکٹر مغیث کو پسند کرتے ہیں، کہیں وہ مجھے وائس چانسلر کی سیٹ پر نہ لے آئیں، حالانکہ میں نے اس بار اس پوسٹ کے لیے اپلائی ہی نہیں کیا تھا۔  کسی کو اس بات کا علم ہی نہیں تھا۔


اور میرے خیال میں یہ بات ہی غلط ہے کہ بندہ خود وائس چانسلر کی پوسٹ کے لیے اپلائی کرے کہ میں اس قابل ہوں کہ میرا انٹرویو کرو اور مجھے بلاؤ۔ سرچ کمیٹی کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ خود تلاش کر کے چار پانچ لوگوں کو شارٹ لسٹ کریں، ان کے انٹرویو کیے جائیں، اس طرح کریں کہ محسوس بھی نہ ہو، پھر جس کا انتخاب ہو، اسے بلا لیا جائے۔


نہ کہ ہم پہلے فارم پُر کریں، لائن میں کھڑے ہو کے 18 گریڈ کے ایک سیکشن افسر کے سامنے جمع کرائیں کہ سر، مینو وائس چانسلر لانا جے، میں قابل آدمی ہوں۔


آج کل ایسا ہوتا ہے جب وائس چانسلرز کی سیٹ پر انٹرویوز کے لیے شارٹ لسٹڈ امیدواروں کو سیکرٹری ایجوکیشن بلاتا ہے تو سب باہر کھڑے ہوتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے بیٹھنے کے لیے جگہ تک نہیں ہوتی۔ ایسا کئی بار ہو چکا ہے۔ یہ کیا طریقہ ہے؟ یہ عزت دی جا رہی ہے؟


اور وائس چانسلر کے امیدواروں کو اس موقع پہ یہ کہتے بھی سنا گیا ہے، سیکرٹری ایجوکیشن کیا ہے، دو ٹکے کا آدمی نہیں۔ لیکن جس نے وائس چانسلرز کو باہر کھڑے کیے رکھا ہے، سوال یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس بٹھانے کو جگہ نہیں ہے تو تم نے ایسے لوگوں کو بلایا ہی کیوں؟


بہت سے امیدوار خاموش رہتے ہیں، کیونکہ جو بولے گا وہ وائس چانسلر سلیکٹ کیسے ہوگا؟


ہونا یہ چاہیے کہ پانچ چھ لوگوں کی کمیٹی بنائی جائے جو minimum qualification یعنی پی ایچ ڈی اور عمر کی 65 برس طے کرنے کے بعد اہل لوگوں کو تلاش کریں اور یہ دیکھیں کس میں بہترین انتظامی صلاحیتیں ہیں، کس کے پاس علم ہے، کون بصیرت کا حامل ہے، کسے یونیورسٹی کے اصل مسائل کا پتہ ہے، کون یہ سوچتا ہے کہ آج یونیورسٹی کہاں ہے اور آئندہ پانچ سال میں اسے کہاں لے جانا چاہیے، اسے کہاں ہونا چاہیے۔ اس کے وژن کو پرکھیں کہ وہ مسائل کس طرح حل کرے گا۔


میرے نزدیک ایک ٹیچر جب کسی انتظامی پوسٹ پر آ رہا ہو، اس کی عزتِ نفس کو برقرار رکھنا چاہیے۔ یہ پتہ ہونا چاہیے کون کیا ہے۔


مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب وزٹنگ کے لیے انہوں نے مجھے پنجاب یونیورسٹی, سپیریئر یونیورسٹی,یو سی پی اور یو ایم ٹی بلایا اور ہمارے ساتھ اور بھی احباب، جیسے رؤف طاہر صاحب، رضوان الرحمن رضی صاحب، تاثیر مصطفیٰ صاحب، افتخار عارف صاحب، عبدالمجید ساجد صاحب اور دیگر ہمارے احباب، تو ہمیں بہت عزت دی جاتی اور ہم سے پوچھا جاتا کہ آپ کو کون سا وقت سوٹ کرتا ہے اور پھر ہمیں consecutive کلاسز دے دی جاتیں تاکہ ہمیں بار بار نہ آنا پڑے، کیونکہ انہیں ہمارے وقت کی اہمیت کا احساس تھا اور وہ ہمیں عزت دیتے تھے۔


2003 

یا چار کی بات ہے ڈاکٹر مغیث الدین نے مجھے پنجاب یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے جاب آفر کی اس وقت میں ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جنگ جیو کے ساتھ منسلک تھا اور مجھے یونیورسٹی کی نوکری میں کوئی چارم نظر نہیں آ رہا تھا.


والد گرامی سے بہت قریبی تعلق اور مجھ سے بہت محبت کی وجہ سے انہوں نے کہا کہ آپ کو میڈیا کی فیلڈ میں آٹھ نو سال ہو گئے ہیں اور ایم اے میں بھی فرسٹ ڈویژن ہے آپ کو اس آفر پر غور کرنا چاہیے. میں اس وقت میڈیا میں کیریئر بنانا چاہتا تھا لہذا میں نے انتہائی احترام کے ساتھ ان سے معذرت کی


 لیکن 2010 کے قریب انہوں نے ایک ملاقات میں کہا کہ آپ اپنے تجربے اور اپنے فیملی کے تجربے چونکہ آپ کے والد گرامی بھی چالیس پچاس برس سے اسی فیلڈ میں ہیں اور ماشاءاللہ اب اپ کے پاس بھی آٹھ دس سال کا ایکسپوژر ہے,پبلک ریلیشنز صحافت, رپورٹنگ, ایڈیٹنگ اس حوالے سے اپ کے پاس فرسٹ ہینڈ پریکٹیکل نالج ہے جو ہمارے یہاں اساتذہ کے پاس نہیں ہے تو اپ اس تجربے کو بچوں کے ساتھ شیئر کریں جو آنے والے دنوں میں صحافی بننا چاہتے ہیں یا اچھا پاکستانی بننا چاہتے ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ پاکستان سے بہت محبت کرتے ہیں آپ کی تحریریں آپ کے مضامین آپ کے کالمز میں پڑھتا رہتا ہوں اس مرتبہ میں انکار نہ کر سکا اور آنے والے سالوں میں  ان کے ساتھ ان تمام یونیورسٹیز میں رہا جہاں انہوں نے بطور ڈین یا بطور ٹیم لیڈر جوائن کیا انہوں نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو عزت دی لیکن ڈسپلن کے معاملے میں وہ بہت سخت تھے مجھے یاد ہے جب لاہور پریس کلب میں انہوں نے ملک کے نامور صحافیوں, ماہرین تعلیم اور فوجی افسران کے سامنے یہ کہا کہ زابر سعید میرا بہترین اسٹوڈنٹ ہے اس نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا اور ہمیشہ پنکچول رہا


 میں اعتراف کرتا ہوں کہ یہ پنکچولٹی صرف ڈاکٹر مغیث کی وجہ سے تھی کیونکہ ان کا مجھ پہ مان تھا کہ میں ایک اچھا استاد ہوں اچھا صحافی ہوں اچھا قلم کار ہوں اور اس کا انہوں نے ببانگ دُہل لاہور پریس کلب میں سارے میڈیا کے سامنے اعتراف کیا جو میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھا ہے اور ہمیشہ رہے گا اور تقریبا انہی جذبات کا اظہار ڈاکٹر شفیق جالندھری, ڈاکٹر مجاہد علی منصوری,ڈاکٹر اے ار خالد, ڈاکٹر مہدی حسن ڈاکٹر غلام مصطفی حبیب اللہ اور دیگر نے بھی کیا دلچسپ بات ہے تدریس کے علاوہ میں اپنی زندگی کے کسی بھی معاملے میں پنکچول نہیں رہا لیکن چونکہ استاد محترم نے مجھ پر ایک اعتماد کا اظہار کیا تو میں نے طے کر لیا کہ میں نے ان کے اعتماد پر ہر صورت پورا اترنا ہے اور  تمام علم و تجربہ میں نے پاکستان کے مستقبل یعنی اسٹوڈنٹس کو صدقہ جاریہ کے طور پر پہنچانا ہے اور اس امانت میں خیانت نہیں کرنی اور انہیں ایک اچھا پاکستانی بنانے کی پوری کوشش کرنی ہےاور الحمدللہ اس حوالے سے میں اپنے ضمیر کے اگے مطمئن اور سرخرو ہوں. 


لیکن آج کل طریقۂ کار مختلف ہے کہ تمام یونیورسٹیز میں ایچ ای سی نے ایک پالیسی بنا رکھی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک وائس چانسلر کو سیکشن افسر کے سامنے پیش ہونا پڑتا ہے، اسی طرح اب ایک انتہائی سینئر آدمی کو، جو بعض اوقات اپنے ہی سٹوڈنٹ کے سامنے، جو ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ ہوتا ہے، نہ صرف پیش ہونا پڑتا ہے بلکہ اپلائی بھی کرنا پڑتا ہے۔


میرا خیال ہے کہ استاد کی اس سے زیادہ تذلیل ممکن نہیں ہے، اور وائس چانسلر لیول کے لوگوں کو شاید احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ پالیسی خودداری کے کتنے خلاف ہے کہ اپنے ہی کسی زمانے میں پوائنٹ کیے ہوئے صاحب کے سامنے، یا اپنے کسی اسٹوڈنٹ کے سامنے، یا فیلڈ میں اپنے ہی کسی جونیئر کے سامنے آپ انٹرویو کے لیے اپلائی کریں اور پیش ہوں تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ شاید ویسا ہی جیسے ایک وائس چانسلر کے امیدوار کو ایک سیکشن افسر کے سامنے پیش ہوتے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔


ہمارا معاشرہ اخلاقی انحطاط کے پست ترین درجے پر کہیں موجود ہے اور پست ذہنیت کے پست زدہ لوگ ہمارے اطراف میں ہر جگہ موجود ہیں، جنہیں احساس ہی نہیں کہ عزت دی کیسے جاتی ہے اور عزت کروائی کیسے جاتی ہے۔


اور یہ ہر طرف، ہر سطح پر، ہر ادارے میں ہمیں انحطاط نظر آتا ہے۔ اور جو قومیں بھی زوال کا شکار ہوتی ہیں، ان کے اخلاقی رویے پہلے زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ زوال معاشرے کے پست ترین شعبے سے لے کر اعلیٰ ترین شعبے تک ہمیں اکثریت میں یا کثرت سے نظر آتا ہے۔


 ہم یہ نہیں کہتے کہ سب ایک جیسے ہیں۔ جب ہم بات کرتے ہیں کہ معاشرے میں بگاڑ ہے تو مراد اکثریت سے ہوتی ہے۔ اس میں اقلیت ہمیشہ اچھی اقدار والی موجود ہوتی ہے، لیکن اچھے معاشرے وہ ہوتے ہیں جس میں اکثریت بااخلاق لوگوں پر مشتمل ہو، باعلم لوگوں پہ مشتمل ہو، wisdom والے لوگوں پہ مشتمل ہو۔


ایسے معاشروں میں بھی اقلیت میں ایسے بھی لوگ ہوں گے جن کا اخلاقی معیار تنزلی کا شکار ہوگا، لیکن ہمارے معاشرے میں ہمیں جو  عکس نظر آتا ہے،  وہ تنزلی کا ہے، وہ اخلاقی بگاڑ کا ہے، وہ کرپشن کا ہے، وہ کم حیثیت، کم علم، کم مرتبہ لوگوں کی اعلیٰ پوسٹوں پر فائز ہونے کا بھی ہے اور صاحبِ علم، صاحبِ فراست لوگوں کی تذلیل کا بھی ہے، جو مسلسل ہر سطح پر کی جا رہی ہے۔

تاریخ ایسے معاشروں کے بارے میں  بڑی واضح ہے کہ یہ معاشرے، ایسے سماج، گمنامی کی تاریکی میں کھو جاتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

کامیابی کا راز ٹکراؤ میں نہیں بلکہ مفاہمت میں ہے / تاریخ کا سبق, زابر سعید بدر