روسی میڈیا میں بدلتی پاکستانی تصویر | تجزیہ | صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
روسی میڈیا میں بدلتی پاکستانی تصویر
خصوصی رپورٹ | صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر | 2 ستمبر 2026
ایک وقت تھا جب ماسکو اور اسلام_آباد ایک دوسرے کو سرد جنگ کے مخالف کیمپوں میں کھڑے ہوئے ممالک کے طور پر دیکھتے تھے۔ سوویت یونین ایک عالمی سپر پاور تھا، امریکہ اس کا سب سے بڑا حریف، اور پاکستان امریکہ کے قریبی اتحادیوں میں شمار ہوتا تھا۔ افغانستان پر سوویت حملے کے بعد یہ فاصلے مزید بڑھ گئے۔ پاکستان، اپنی جغرافیائی حیثیت اور افغانستان کے ساتھ طویل سرحد کے باعث، اس جنگ میں ایک اہم کردار بن گیا۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغان مجاہدین کی مدد کے لیے پاکستان کو ایک بنیادی راستے اور شراکت دار کے طور پر استعمال کیا، جبکہ سوویت فوج افغانستان میں ایک ایسی جنگ میں الجھ گئی جس کے اثرات بالآخر خود سوویت نظام کی سیاسی اور معاشی کمزوریوں کے ساتھ مل کر اس کے زوال کا حصہ بنے۔
ماسکو اس تاریخ کو بھولا نہیں۔ روسی تجزیوں میں آج بھی 1980ء کی دہائی کے پاکستان کا ذکر افغانستان، مجاہدین اور سوویت مخالف امریکی حکمت عملی کے تناظر میں ملتا ہے۔ لیکن روسی میڈیا میں پاکستان کی موجودہ تصویر پر نظر ڈالیں تو ایک واضح تبدیلی دکھائی دیتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ماسکو اب صرف ماضی کے پاکستان کو نہیں دیکھ رہا بلکہ اس پاکستان کو دیکھ رہا ہے جو آج جنوبی ایشیا، چین، افغانستان، ایران، امریکہ اور بھارت کے درمیان بدلتے ہوئے طاقت کے توازن میں ایک اہم مقام حاصل کر چکا ہے۔
اس بدلتی ہوئی تصویر کی ایک نمایاں مثال روس کے معروف اخبار ’’کمرسانت‘‘ میں یکم جون 2026ء کو شائع ہونے والا سرگئی اسٹروکان کا تجزیہ ہے۔ اس کا عنوان ہی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے: ’’امریکہ اور ایران کے تنازع نے پاکستان کو عالمی سطح کا کھلاڑی بنا دیا۔‘‘ روسی مصنف نے پاکستان کو محض جنوبی ایشیا کی ایک ریاست کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ موجودہ عالمی بحران میں اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور تزویراتی وزن کو نمایاں کیا۔ پاکستان کا امریکہ کے ساتھ تعلق، چین کے ساتھ اس کی گہری شراکت داری، سعودی عرب کے ساتھ دفاعی روابط اور بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات، روسی تجزیہ نگار کی نظر میں، پاکستان کو ایک ایسے ملک میں تبدیل کر رہے ہیں جسے بڑی طاقتیں نظرانداز نہیں کر سکتیں۔
یہ تبدیلی صرف ایک روسی کالم نگار کے تجزیے تک محدود نہیں۔ روسی کونسل برائے بین الاقوامی امور کے ایک حالیہ پالیسی مطالعے میں روس اور پاکستان کے تعلقات کے مستقبل کو ماسکو اور اسلام آباد دونوں کے نقطۂ نظر سے دیکھا گیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان کثیرالجہتی تزویراتی شراکت داری کے امکانات پر گفتگو کی گئی ہے۔ یعنی روسی پالیسی حلقوں میں پاکستان کو اب صرف ماضی کے امریکی اتحادی کی حیثیت سے نہیں دیکھا جا رہا بلکہ ایک ایسے ملک کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے جس کے ساتھ مستقبل میں مختلف شعبوں میں تعاون کی گنجائش موجود ہے۔
یہاں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ افغانستان کے پڑوس میں واقع پاکستان صرف جنوبی ایشیا کا ملک نہیں بلکہ وسطی ایشیا، چین، ایران، افغانستان اور بحیرہ عرب کے درمیان ایک اہم جغرافیائی پل ہے۔ روس کے لیے افغانستان اب بھی سلامتی کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی، وسطی ایشیا کا استحکام اور افغانستان کے مستقبل جیسے معاملات میں پاکستان کو نظرانداز کرکے کوئی مؤثر علاقائی حکمت عملی بنانا آسان نہیں۔
پاکستان اور چین کے تعلقات بھی اس نئی روسی نظر کا ایک اہم حصہ ہیں۔ چین روس کا اہم strategic partner ہے اور پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مسلسل مضبوط کر رہا ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری، گوادر، علاقائی تجارت اور دفاعی تعاون نے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ چنانچہ ماسکو کے لیے پاکستان کو صرف واشنگٹن کے پرانے اتحادی کے طور پر دیکھنا اب بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔
بھارت کا عنصر بھی اس نئی روسی تصویر میں اہم ہے۔ روس کے بھارت کے ساتھ تاریخی اور دفاعی تعلقات اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن جنوبی ایشیا میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طاقت کا توازن بھی ماسکو کے لیے ایک حقیقت ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی اور اس کے بعد پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں نے روسی میڈیا کو یہ سوال اٹھانے کا موقع دیا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان کا کردار محض علاقائی نہیں رہا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس پاکستان کو کبھی سوویت مخالف افغان جنگ کے حوالے سے ماسکو کی نظر میں واشنگٹن کے کیمپ کا اہم ملک سمجھا جاتا تھا، آج اسی پاکستان کے ساتھ روس سلامتی، توانائی، تجارت، افغانستان اور علاقائی استحکام جیسے معاملات میں تعاون کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ اگست 2026ء میں روسی اور پاکستانی ماہرین کے درمیان سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر ہونے والی بات چیت بھی اس بدلتی ہوئی سمت کی ایک مثال ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر پیغام بھی اسی وسیع تر تبدیلی کے سیاسی پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ روسی قیادت اب پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے اور بین الاقوامی سلامتی و استحکام کے لیے تعاون کی خواہش کا اظہار کرتی ہے۔ یہ زبان سرد جنگ کے دور کی زبان سے یقیناً مختلف ہے۔
یہ کہنا شاید درست نہیں ہوگا کہ روس نے پاکستان کے ماضی کو بھلا دیا ہے۔ روسی تجزیوں میں افغانستان کی جنگ اور پاکستان کے اس وقت کے کردار کا ذکر اب بھی ہوتا ہے۔ اصل تبدیلی یہ ہے کہ ماضی اب روس کی پاکستان پالیسی کا واحد حوالہ نہیں رہا۔ ماسکو آج پاکستان کو اس سوال کے ساتھ دیکھ رہا ہے کہ وہ آنے والے برسوں میں علاقائی اور عالمی طاقت کے توازن میں کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ روسی میڈیا میں پاکستان کی تصویر آہستہ آہستہ ’’امریکہ کا سابق اتحادی‘‘ سے نکل کر ’’اہم علاقائی اور عالمی کھلاڑی‘‘ کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے۔ سرگئی اسٹروکان کا ’’عالمی سطح کا کھلاڑی‘‘ والا تجزیہ اسی تبدیلی کی سب سے واضح صحافتی مثال ہے۔
پاکستان کے لیے اس تبدیلی کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ عالمی سیاست ایک مرتبہ پھر کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ امریکہ، روس اور چین کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے بھی ہیں اور بعض معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے بھی ہیں۔ ایسے ماحول میں وہ ممالک زیادہ اہمیت اختیار کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ طاقت کے مراکز کے ساتھ بیک وقت تعلقات رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ پاکستان کے پاس امریکہ، چین، سعودی عرب، ایران، ترکی، وسطی ایشیا اور اب روس کے ساتھ تعلقات کا اپنا ایک الگ سفارتی دائرہ موجود ہے۔
روس کی بدلتی ہوئی پاکستانی تصویر اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔ سوویت دور کا پاکستان ماسکو کے لیے ایک مخالف کیمپ کا اہم ملک تھا؛ آج کا پاکستان ماسکو کے لیے ایک ایسا ممکنہ شراکت دار ہے جسے جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے کی سیاست میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہی موجودہ عالمی سیاست کا سب سے بڑا سبق ہے کہ ریاستوں کے تعلقات مستقل دشمنی یا مستقل دوستی سے نہیں بلکہ بدلتے ہوئے قومی مفادات اور جغرافیائی حقائق سے تشکیل پاتے ہیں۔
اور روسی میڈیا میں پاکستان کے بارے میں بدلتا ہوا بیانیہ اس تبدیلی کا ایک اہم اشارہ ہے۔



Comments