Posts

Showing posts from September, 2025

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

Image
ایک امریکی نے اپنی شادی کو کیسے محفوظ بنایا ترجمہ و ادارت: صاحب زادہ زابر سعید بدر  ریڈرز ڈائجسٹ کے حالیہ شمارے (اکتوبر۔نومبر 2025) میں ایک نہایت دلچسپ اور سبق آموز کہانی شائع ہوئی ہے۔ یہ کہانی صرف فوجی زندگی اور قربانیوں کی جھلک ہی نہیں دکھاتی بلکہ ازدواجی رشتے کو مضبوط بنانے کے ایسے اصول بھی سامنے لاتی ہے جو ہم سب کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہ ترجمہ اور پیشکش زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کے پلیٹ فارم سے طلبہ اور عام قارئین کے فائدے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ : "فرینڈلی فائر سے بچنے کی ٹریننگ، جو گھر پر بھی کام آئی"  جیسن ریڈمین (امریکی نیوی سیل) 1998 کی بات ہے۔ میں ایک نوجوان، غیر شادی شدہ نیوی سیل تھا۔ سیل (SEAL) دراصل امریکہ کی بحریہ کا ایک خصوصی دستہ ہے۔ ان کا کام دنیا کے مشکل ترین اور خطرناک ترین فوجی مشنز پر جانا ہوتا ہے—کبھی سمندر میں، کبھی ہوا میں اور کبھی دشمن کی سرزمین پر۔ سیل اکثر مہینوں اپنے گھروں سے دور رہتے ہیں، اسی لیے ان کی ذاتی زندگی بہت کٹھن گزرتی ہے۔ اس وقت میری زندگی میں رومان اور مہم جوئی دونوں تھے۔ جہازوں سے چھلانگ لگانا، جدید...

زندگی کی سب سے سے اہم حقیقت, زابر سعید بدر

Image
  زندگی کی خوبصورت حقیقتیں یہ تحریر ایک انگریزی ویڈیو سے متاثر ہو کر اردو میں ڈھالی گئی ہے۔ جب میں نے اسے صبح سنا تو دل چاہا کہ ان خوبصورت خیالات کو اپنی زبان میں سب دوستوں، طلبہ اور اردو کے چاہنے والوں تک پہنچاؤں۔ صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر یاد رکھو، تم سے پہلے اربوں لوگ اس دنیا میں جی چکے ہیں۔ وہ ہنسے، وہ روئے، وہ محبت میں پڑے، انہوں نے نفرت کی، جنگیں لڑیں، اپنے خداؤں سے دعائیں کیں۔ انہوں نے سوچا کہ ان کی کہانی منفرد ہے، انہوں نے سمجھا کہ ان کی محبت انوکھی ہے، ان کا درد بے مثال ہے، ان کی فتوحات لازوال ہیں۔ اور اب وہ کہاں ہیں؟ سب جا چکے، کوئی نشان باقی نہیں۔ جیسے وہ کبھی موجود ہی نہ تھے۔ ان کے ڈرامے، خواہشات، دل ٹوٹنے کے لمحے سب مٹ گئے—بالکل پانی پر لکھی تحریر کی طرح۔ تم بھی اسی خواب کو دہرا رہے ہو۔ تمہیں محبت ہوتی ہے اور تم سوچتے ہو: اوہ! یہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ تم تکلیف سہتے ہو اور یقین کرتے ہو کہ تمہارا دکھ نرالا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے، یہ اربوں زندگیاں پہلے بھی جھیل چکی ہیں۔ اور وجود کو اس کی کوئی پرواہ ...

JOSH, PANDIT NEHRU AND URDU , Muhammad Zabir Saeed Badar

Image
  یادوں کی بارات — جوش ملیح آبادی JOSH, PANDIT NEHRU AND URDU Muhammad Zabir Saeed Badar ایک بار، جب، پاکستان سے رخصت لے کر، میں جب دہلی میں پنڈت جواہر لال نہرو سے ملا، تو انہوں نے بڑے طنز کے ساتھ، مجھ سے کہا تھا کہ جوش صاحب، پاکستان کو اسلام، اسلامی کلچر، اور اسلامی زبان، یعنی اردو کے تحفظ کے واسطے بنایا گیا تھا۔ لیکن ابھی کچھ دن ہوئے کہ میں پاکستان گیا اور وہاں، یہ دیکھا کہ میں تو شیروانی اور پاجامہ پہنے ہوئے ہوں لیکن وہاں کی گورنمنٹ کے تمام افسر، سو فیصد، انگریزوں کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔ مجھ سے انگریزی بولی جا رہی ہے، اور، انتہا یہ ہے کہ مجھے انگریزی میں ایڈریس بھی دیا جا رہا ہے۔ مجھے اس صورتِ حال سے بے حد صدمہ ہوا، اور میں سمجھ گیا کہ "اردو، اردو، اردو" کے جو نعرے، ہندوستان میں لگائے گئے تھے، وہ سارے اوپری دل سے، اور کھوکھلے تھے۔ اور ایڈریس کے بعد، جب میں کھڑا ہوا تو میں نے اس کا اردو میں جواب دے کر، سب کو حیران و پشیمان کر دیا اور یہ بات ثابت کر دی کہ مجھ کو اردو سے ان کے مقابلے میں، کہیں زیادہ محبت ہے۔ اور جوش صاحب معاف کیجئے، آپ نے جس اردو کے واس...

“The Legacy of Mughal Religious Policies: From Akbar’s Secular Experiment to Aurangzeb’s Orthodoxy and its Continuities in Modern South Asia”Zabir Saeed Badar

Image
 “The Legacy of Mughal Religious Policies: From Akbar’s Secular Experiment to Aurangzeb’s Orthodoxy and its Continuities in Modern South Asia” ZABIR SAEED BADAR  Abstract This paper critically examines the historical trajectory of religious and political narratives in the Indian Subcontinent, beginning with the secular policies of Akbar, the orthodox turn under Aurangzeb, the "divide and rule" strategy of the British Empire, and culminating in the religious politics of modern South Asia (Pakistan, India, Bangladesh). It argues that while religion was intended as a moral and spiritual guide for human welfare, its politicization has often fueled conflict, division, and authoritarian control. Through a comparative study of historical sources, the paper highlights how rulers—from the Mughals to General Zia-ul-Haq—used religion to legitimize authority, and how this legacy continues to shape socio-political realities. The analysis underscores the ongoing tension between secular gov...

From Global Village to Global City: Zabir Saeed Badar

Image
  Dogal From Global Village to Global City: The Imperative of Civic Maturity Research Report to the People — Zabir Saeed Institute of Media Studies Sahibzada Muhammad Zabir Saeed Badar Researcher — Zabir Saeed Institute of Media Studies Abstract Introduction Literature Methods Findings Recommendations S.O.R اردو Abstract The term “Global Village” captured the technological and communicative shrinking of distances between peoples worldwide. However, connectivity alone has not produced corresponding civic maturity. Instead, we observe tribalized behaviors — interstate aggression, resource grabs, and political violence — that mirror village-level conflict logic. This study argues for a reframing: moving from global village connectivity to a Global City model emphasizing civic sense, institutional ru...

Sahibzada Zabir Saeed Badar An overview,Hafsa Zabir Saeed

Image
  ...Hafsa Zabir Saeed Sahibzada Muhammad Zabir Saeed Badar ZABIR SAEED BADAR Researcher • Mass Communication Expert • Journalist اردو English صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر تین نسلوں سے علم و صحافت سے وابستہ ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ ان کے دادا حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما تھے۔ ان کے والد گرامی سعید بدر ملک کے نامور صحافی، صدارتی ایوارڈ یافتہ اور کئی کتب کے مصنف تھے۔ انہوں نے روزنامہ جنگ، نوائے وقت اور امروز جیسے بڑے اخبارات میں اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ زابر سعید بدر نے کم سنی ہی میں ادبی سفر کا آغاز کیا۔ بچوں کے رسائل میں ان کی تحریریں شائع ہونا شروع ہوئیں اور یونیسیف نے انہیں "بہترین بچوں کے رائٹر" کا ایوارڈ دیا۔ وہ پاکستان کے بڑے میڈیا اداروں میں کام کر چکے ہیں۔ 60 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں اور ہزاروں مضامین و کالم پاکستان کے اہم اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی کتب یونیورسٹیز کے نصاب میں شامل ہیں اور ان کی تحقیقی خدمات کو بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا...

Faith and Wisdom – A Timeless Quote by President Wilson"

Image
  "No person can achieve any lasting or great work without the help of Almighty God, and no wise human can deny the existence of God." — President Woodrow Wilson, Morning Post, London, November 1927 کوئی شخص بغیر خدائے بزرگ و برتر کی اعانت کے کوئی پائندہ یا عظیم الشان کارنامہ سرانجام نہیں دے سکتا، اور کوئی صاحبِ خرد انسان اس ابدی حقیقت کا انکار نہیں کرسکتا کہ خدا کی ذات واجب الوجود ہے۔ — صدر وُڈرو ولسن، مارننگ پوسٹ، لندن، نومبر 1927 Zabir Saeed Institute of Media Studies 📞 Contact: +92-300-4154040

Hafsa Zabir Saeed A Ray of Hope for Special Children

Image
  حفصہ زابر سعید — خصوصی بچوں کے لیے ایک امید حفصہ زابر سعید خصوصی بچوں کے لیے ایک امید — A Ray of Hope for Special Children اردو English حفصہ زابر سعید — خصوصی بچوں کے لیے ایک امید حفصہ زابر سعید نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور سے بی ایس (آنرز) خصوصی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے متعدد تربیتی سیشنز، ورکشاپس اور انٹرنشپز کیں اور مختلف اداروں میں خدمات سر انجام دیں۔ ان کا نرم و شفیق لہجہ اور محبت بھرا انداز بچوں کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، اس وجہ سے خصوصی بچے ان سے گہری محبت اور اعتماد محسوس کرتے ہیں۔ وہ بین الاقوامی تحقیقی مقالات کا مطالعہ کرتی ہیں اور اپنی معلومات کو عملی کام میں تبدیل کرتی ہیں۔ حفصہ اپنے شوہر، صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر (نامور صحافی، میڈیا پرسن، تعلقات عامہ کے ماہر اور متعدد کتابوں کے مصنف) کے تحقیقی و ادبی کام میں معاونت کرتی ہیں اور خود بھی مختلف قومی اخبارات...

سقراط اور ان کی اہلیہ کا معاملہ, زابر سعید بدر

Image
  زینتپی (Xanthippe) اور سقراط — حقیقت اور افسانہ زینتپی (Xanthippe): سقراط کی زوجہ کی شخصیت — تاریخ اور افسانے کا مطالعہ تعارف سقراط (469–399 ق.م.) کو مغربی فلسفے کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ اس کی بیوی زینتپی کا ذکر قدیم ماخذات میں موجود ہے، مگر اس کے بارے میں اکثر کہانیاں بعد کی ادبی تخلیقات اور عوامی حکایات پر مبنی ہیں۔ یہ مضمون حقیقت اور افسانے میں فرق واضح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ افلاطون کی تحریریں افلاطون کی کتاب Phaedo میں زینتپی کا ذکر ملتا ہے۔ اسے ایک روتی ہوئی بیوی کے طور پر دکھایا گیا ہے جو اپنے شوہر کی موت پر غمگین تھی۔ افلاطون نے کہیں بھی اسے "بدزبان" یا "جھگڑالو" نہیں کہا۔ زینوفون کی تحریریں زینوفون نے زینتپی کو مشکل مزاج خاتون کے طور پر پیش کیا۔ اس کے مطابق، سقراط کہتا ہے کہ جو زینتپی جیسی عورت کو برداشت کرسکتا ہے، وہ دنیا میں ہر انسان کے ساتھ نباہ کرسکتا ہے۔ تاہم یہ بیانیہ زیادہ تر سقراط کے صبر کو نمایاں کرنے کے لیے تھا۔ بعد کی روایات قرون وسطیٰ اور بعد کی صدیوں...

The Status of Teachers in Developed Nations, Zabir Saeed Badar

Image
  تحریر و تحقیق: صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر — ترقی یافتہ اقوام میں استاد کا مقام و مرتبہ تحریر و تحقیق: صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر معاون حفصہ زابر سعید بدر عنوان: ترقی یافتہ اقوام میں استاد کا مقام و مرتبہ — The Status of Teachers in Developed Nations زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز English اردو Overview — The Status of Teachers (Developed Countries) In developed nations such as the USA, Canada, UK, Germany, France, Finland and Australia, teachers enjoy legal protections, professional recognition, and strong social respect. This article summarises legal frameworks, government policies and societal practices that honour teachers. (For students & general public — issued by Zabir Saeed Institute of Media Studies.) Author: Sahibzada Muhammad Zabir Saeed Badar United States (USA) Many states grant teachers job security through tenure systems; na...