ذخیرہ اندوزی ہمارے اخلاقی انحطاط کا اظہار ہے
ذخیرہ اندوزی ہمارے اخلاقی انحطاط کا اظہار ہے
صاحب زادہ محمدزابر سعید بدر
تدوین و مکالمہ/ حفصہ زابر سعید
یونیورسٹی کا لان، ہلکی دھوپ ٹھنڈی ہوا چلی ہے۔ پروفیسر زابر سعید بدر، اسی سوٹ میں ملبوس جو تصویر میں ہے، ایک گول ٹیبل پر بیٹھے ہیں، چائے کے کپ اور کتابیں میز پر موجود ہیں۔ ان کے گرد کرسیوں پر امنہ، فاطمہ، اور احمد سمیت دیگر سٹوڈنٹس ادب سے بیٹھے ہیں۔ ایک سٹوڈنٹ چائے پیش کر رہا ہے۔ دور دھندلی سی یونیورسٹی کی عمارتیں اور درخت نظر آ رہے ہیں۔)
پروفیسر زابر سعید بدر: (چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے، مسکراتے ہوئے) ارے واہ! آج موسم کتنا دلکش ہے۔ ستمبر کا یہ درمیانی حصہ، بارشیں ابھی ابھی تھمی ہیں، اور یہ ہلکی دھوپ، ٹھنڈی ہوا... سبحان اللہ! اس سے بہتر ماحول اور کیا ہو سکتا ہے علم و ادب کے چرچے کے لیے؟
امنہ: (مسکراتے ہوئے) بالکل سر! آج تو طبیعت میں ایک خاص سرور سا ہے۔ آپ کے ساتھ اس خوبصورت ماحول میں بیٹھ کر بات کرنا ہمیشہ ہی ایک نئی تازگی بخشتا ہے۔
احمد: سر، چائے لیجیے! ابھی تازہ دم بنائی ہے اور موسم بھی ایسا ہے کہ چائے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔
پروفیسر زابر سعید بدر: (چائے کا کپ لیتے ہوئے) شکریہ احمد ! (ایک گہرا سانس لیتے ہوئے) تو آج کس موضوع پر تبادلہ خیال کیا جائے؟ میرا خیال ہے کہ ہم نے پچھلے چند دنوں میں جو حالات دیکھے ہیں، خاص طور پر سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد، اس پر بات ہونی چاہیے۔ ہمارے معاشرتی اخلاق اور اقدار کی کیا صورتحال ہے اس وقت؟
فاطمہ: سر، یہ تو ایک انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ ایسے مشکل وقت میں بھی کچھ لوگ اپنے اخلاقی اقدار کو بالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ سیلاب کی صورتحال میں جو ذخیرہ اندوزی کی کوششیں ہوئیں، وہ دل دہلا دینے والی تھیں۔
پروفیسر زابر سعید بدر: بالکل فاطمہ! خدا کا شکر ہے کہ حکومت نے بروقت اقدامات کیے اور آٹے کی قیمت کو مزید بڑھنے سے روکا، لیکن چینی کا معاملہ ابھی بھی حل طلب ہے۔ اور یہ جو اطلاعات ملیں کہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک چارج کیے گئے، اس پر تو یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
امنہ: سر، یہی بات مجھے سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے۔ یہ ہمارے اپنے مسلمان بہن بھائی ہیں، یہودی، عیسائی یا ہندو نہیں! کیا انہیں آخرت کا، یومِ حساب کا ذرا بھی احساس نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے: "أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ" (کثرت کی ہوس نے تمہیں غفلت میں ڈال دیا)۔ کیا یہ لوگ اسی آیت کی عملی تصویر نہیں؟
پروفیسر زابر سعید بدر: (سنجیدگی سے) بہت اچھا سوال کیا امنہ! واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ "جو نماز مسجد میں قائم کی جاتی ہے، اگر وہی نماز باہر بھی قائم ہو جائے، تو نماز کا مقصد حل ہو جاتا ہے۔" یعنی ہماری عبادات کا اثر ہمارے معاملات پر بھی پڑنا چاہیے۔ اگر مسجد میں ہم عاجزی، بھائی چارے اور حقوق العباد کا درس لیتے ہیں تو باہر نکل کر ہمیں اسی کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ کیسی نماز ہے جو ہمیں ہمارے مسلمان بھائیوں کا استحصال کرنے سے نہیں روکتی؟
احمد: سر، آپ کی یہ بات ہمیشہ رہنمائی کرتی ہے۔ واقعی، ایک اسلامی معاشرہ تب تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کے افراد عملی طور پر اسلامی اقدار پر عمل پیرا نہ ہوں۔ ایسے وقت میں، ایک عام آدمی کیا کرے؟
پروفیسر زابر سعید بدر: عام آدمی اپنے دائرہ کار میں دیانتداری، امانت اور اخوت کا مظاہرہ کرے۔ ایک چھوٹی سی نیکی بھی بہت بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ اور سب سے اہم، اپنی نسلوں میں ان اخلاقی اقدار کو منتقل کرے۔ انہیں بتائیں کہ صرف دنیاوی کامیابی کافی نہیں، اخلاقی کامیابی اور آخرت کی فکر بھی اتنی ہی اہم ہے۔ (ایک لمحے کے لیے خاموش ہوتے ہیں، پھر مسکراتے ہوئے) خیر، مجھے امید ہے کہ ہمارے نوجوان، جن پر ملک کا مستقبل منحصر ہے، ان باتوں کو سمجھیں گے اور اپنے کردار سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں گے۔
فاطمہ: سر، ہم آپ کی باتوں سے ہمیشہ رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ آپ کی یہ نشستیں ہمارے لیے لیکچرز سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔
امنہ: جی سر! آپ جس طرح پڑھانے کے ساتھ ساتھ صحافت اور کالم نگاری کے ذریعے بھی معاشرے کی رہنمائی کرتے ہیں، وہ ہمارے لیے ایک مثال ہے۔ آپ کے ہزاروں سٹوڈنٹس آج پاکستان اور بیرون ملک اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، اور ہم بھی آپ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں گے۔
پروفیسر زابر سعید بدر: (مسکراتے ہوئے) بہت خوب! مجھے بھی ہمیشہ اپنے سٹوڈنٹس سے بات کرکے خوشی ہوتی ہے۔ آپ سب اللہ کے بہترین بندے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ معاشرے میں مثبت کردار ادا کریں گے۔ اب مجھے اجازت دیجیے، میرے کچھ کالم ابھی باقی ہیں۔
سب سٹوڈنٹس: اللہ حافظ سر! بہت شکریہ آپ کا!
پروفیسر زابر سعید بدر: (اٹھتے ہوئے) اللہ حافظ! پھر ملاقات ہوگی۔

Comments