“The Legacy of Mughal Religious Policies: From Akbar’s Secular Experiment to Aurangzeb’s Orthodoxy and its Continuities in Modern South Asia”Zabir Saeed Badar
“The Legacy of Mughal Religious Policies: From Akbar’s Secular Experiment to Aurangzeb’s Orthodoxy and its Continuities in Modern South Asia”
ZABIR SAEED BADAR
Abstract
This paper critically examines the historical trajectory of religious and political narratives in the Indian Subcontinent, beginning with the secular policies of Akbar, the orthodox turn under Aurangzeb, the "divide and rule" strategy of the British Empire, and culminating in the religious politics of modern South Asia (Pakistan, India, Bangladesh). It argues that while religion was intended as a moral and spiritual guide for human welfare, its politicization has often fueled conflict, division, and authoritarian control. Through a comparative study of historical sources, the paper highlights how rulers—from the Mughals to General Zia-ul-Haq—used religion to legitimize authority, and how this legacy continues to shape socio-political realities. The analysis underscores the ongoing tension between secular governance and religious absolutism, and the enduring consequences for regional peace and stability.
اکبر سے جدید برصغیر تک مذہب اور سیاست کا بیانیہ
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
برصغیر کی تاریخ میں مذہب اور سیاست کا تعلق ہمیشہ پیچیدہ اور متنازع رہا ہے۔ مغل شہنشاہ اکبر (1556–1605) نے اپنی حکومت کو ایک سیکولر بنیاد پر استوار کرنے کی کوشش کی۔ اکبر نے دیکھا کہ دہلی کے سلاطین کی حکومت زیادہ تر ہندو اکثریت کے درمیان ایک مسلمان اقلیت کی حکومت تھی، جو بار بار مزاحمت اور بغاوت کا سامنا کرتی رہی۔ اسی تناظر میں اکبر نے "صلحِ کل" (universal peace) کی پالیسی اپنائی، جس کے تحت ہندوؤں کو اعلیٰ عہدے دیے گئے اور جزیہ ختم کیا گیا۔ (1)
اکبر کے بعد جہانگیر اور شاہجہان بھی بڑی حد تک اسی سیکولر روایت پر قائم رہے۔ جہانگیر نے کہا کہ "ہندو اور مسلمان دونوں میرے لیے میرے بچوں کی مانند ہیں۔" (2) اس دور میں ریاستی استحکام بڑھا، اور سلطنت مغلیہ نے اپنی طاقت کو مزید وسعت دی۔
تاہم، اورنگزیب (1658–1707) کے دور میں یہ صورتحال یکسر بدل گئی۔ اورنگزیب نے مذہب کو ریاستی طاقت کے ساتھ جوڑ دیا۔ اُس نے جزیہ دوبارہ نافذ کیا، شریعت کے نفاذ پر زور دیا۔ اُس کے خطوط، جو "رقعاتِ عالمگیری" کے نام سے محفوظ ہیں، اس کی ذاتی دیانت اور مذہبی جذبات کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایک خط میں وہ لکھتا ہے:
> "میں نے یہ سلطنت اپنے لیے نہیں سنبھالی، بلکہ دین کی حفاظت اور فتنوں کو دبانے کے لیے یہ بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے۔" (3)
یہ خط صفحہ 223 پر درج ہے (رقعاتِ عالمگیری) اور اُس کی مذہبی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ فارسی عبارت یوں ہے:
"بغیر رغبت و طمع در سلطنت، محض بہ تحفظ دین و قمع فتنہ، این بارِ گران بر دوش گرفتم"۔ (3)
ترجمہ: میں نے یہ بوجھ بغیر کسی خواہش یا لالچ کے صرف دین کی حفاظت اور فتنوں کے خاتمے کے لیے اٹھایا ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ مذہبی عزم تھا یا سیاسی ضرورت۔ کیونکہ اورنگزیب کے دور میں سلطنت میں مذہبی شدت پسندی بڑھی، جس کے نتیجے میں مراٹھا بغاوتیں، سکھ مزاحمت اور راجپوت اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ (4)
اورنگزیب کی وفات کے فوراً بعد سلطنت زوال پذیر ہونا شروع ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اکبر کی سیکولر پالیسی کے بعد سلطنت مزید مضبوط ہوئی تھی، لیکن اورنگزیب کی مذہبی شدت پسندی کے نتیجے میں سلطنت ٹکڑوں میں بٹ گئی۔ (5)
برطانوی پالیسی اور مذہب
برطانوی استعمار نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔ اُنہوں نے ہندو مسلم تقسیم کو اپنی پالیسی "divide and rule" کے طور پر استعمال کیا۔ (6) برطانوی نوآبادیاتی حکمرانوں نے مذہبی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا، جس کے نتیجے میں ہندو مسلم اتحاد کمزور ہوا اور بالآخر تقسیمِ ہند (1947) کا راستہ ہموار ہوا۔
جدید ریاستیں اور مذہب
پاکستان کی تخلیق مذہب کے نام پر ہوئی، لیکن جلد ہی یہاں بھی مذہب سیاست کے لیے استعمال ہونے لگا۔ جنرل محمد ضیاء الحق (1977–1988) نے اسلامائزیشن کے نام پر قوانین نافذ کیے، اور جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے اُنہیں اورنگزیب کے بعد دوسرا "مردِ مجاہد" قرار دیا۔ (7) ضیاء کے دور میں مذہب کا سیاسی استعمال اور شدت پسندی کی بنیادیں مزید مضبوط ہوئیں۔
اسی طرح، بھارت میں ہندوتوا کی سیاست عروج پر پہنچی، اور بنگلہ دیش میں بھی مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس پورے خطے میں آج بھی مذہب کا "تڑکا" سیاسی بیانیے کو قابو میں رکھنے کا ایک ذریعہ بنا ہوا ہے۔
یہ ایک طویل روایت ہے جو اکبر کی سیکولر پالیسی اور اورنگزیب کی مذہبی سختی سے شروع ہوتی ہے، برطانوی استعمار کی تقسیم کی حکمتِ عملی سے گزرتی ہے، اور جدید ریاستوں تک پہنچتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مذہب، جو انسانیت کی بھلائی کے لیے آیا تھا، اکثر سیاسی طاقت کے کھیل میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ آج بھی برصغیر میں مذہب کا یہی سیاسی استعمال معاشرتی ہم آہنگی اور امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
References
1. Abu’l Fazl, Ain-i-Akbari, trans. H. Blochmann and Col. Jarrett, Asiatic Society of Bengal, 1873.
2. William Irvine, Later Mughals, Calcutta: Asiatic Society, 1904.
3. Aurangzeb, Ruqaat-i-Alamgiri (Letters of Aurangzeb), ed. and trans. J. Sarkar, Calcutta: M.C. Sarkar & Sons, 1927, p. 223.
4. M. Athar Ali, The Mughal Nobility under Aurangzeb, Bombay: Asia Publishing House, 1966.
5. Jadunath Sarkar, History of Aurangzib, Vol. V, Calcutta: M.C. Sarkar & Sons, 1920.
6. Percival Spear and R. C. Majumdar, A History of India, Vol. II, Penguin Books, 1981.
7. Stanley Wolpert, A New History of India, Oxford University Press, 1989.
8. Barbara D. Metcalf and Thomas R. Metcalf, A Concise History of Modern India, Cambridge University Press, 2012.
9. Francis Robinson, The Mughal Emperors and the Islamic Dynasties of India, Iran, and Central Asia, Thames & Hudson, 2007.
Author: صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
Institution: زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا سٹڈیز

Comments