Happy Birthday Abbu Jan Saeed Badar sb

 

جنت الفردوس میں سالگرہ مبارک ہو ابو جان

جنتِ الفردوس میں سالگرہ مبارک ہو، ابو جان

صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر کی طرف سے محترم والدِ گرامی جناب سعید بدر صاحب کو دلی نیک خواہشات

ولادت: 1939
سال: 2025
86ویں سالگرہ

ابو جان کا مختصر تعارف — Brief Introduction

About Mr. Saeed Badr (English)

Mr. Saeed Badar was one of Pakistan’s senior journalists, whose life was shaped by the trials of migration and steadfast service to the nation. Born in 1939, he witnessed the trauma of 1947 in Firozpur and later migrated to Pakistan. He earned his M.A. (Urdu) from Punjab University and Oriental College.

He worked for WAPDA Khabarnama, served at Roznama Jang, and was editor-in-charge of the Sunday magazine at Roznama Imroze until 1991. He later served as Director Administration at the Pakistan Model Educational Institutions Foundation alongside Dr. Ghulam Murtaza Malik and published his own paper Makhzan-e-Iqbal, which inspired his son Zabir Saeed Badar to launch Community Town News — Pakistan’s first community paper.

Mr. Saeed Badr was among the founders of the Pakistan Publication Society and ran an advertising firm (Commercial Services & Publicity) in Shahdeen Building. When Shahdeen Building was sold in 1984 to Bank of Credit and Commerce International (BCCI), he suffered severe financial loss and was forced to sell his home. Despite hardships, he continued to serve in journalism, education and public life.

جناب سعید بدر صاحب — مختصر تعارف (اردو)

جناب سعید بدر صاحب پاکستان کے سینئر صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کی پیدائش 1939 فیروزپور برٹش انڈیا میں ہوئی اور آپ نے ہجرت اور تقسیمِ ہند کے دکھوں کو خود محسوس کیا۔ فیروزپور کے سانحات آپ کی یادوں کا لازمی حصہ بن گئے اور آپ نے اپنے صاحبزادے زابر سعید بدر کو یہ واقعات سنائے، جنہوں نے وطن سے محبت میں گہرائی پیدا کی۔

آپ نے پنجاب یونیورسٹی اور اورینٹل کالج سے ایم۔اے (اردو) کیا۔ واپڈا خبرنامہ، روزنامہ جنگ اور روزنامہ امروز سے وابستہ رہے، اور 1991 تک سنڈے میگزین کے انچارج تھے۔ بعد ازاں پاکستان ماڈل ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز فاؤنڈیشن میں بطور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن خدمات انجام دیں اور اپنا اخبار مخزنِ اقبال شائع کیا۔

آپ پاکستان پبلک ریلیشنز سوسائٹی کے بانیان میں شمار ہوتے ہیں اور شاہدین بلڈنگ میں اپنی ایڈورٹائزنگ کمپنی چلا رہے تھے۔ 1984 میں جب عمارت بیچی گئی تو اس کی وجہ سے آپ کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا اور آپ کو اپنا گھر فروخت کرنا پڑا۔ تمام مشکلات کے باوجود آپ نے اپنی صحافتی اور سماجی خدمات جاری رکھیں۔ سیاسی خدمات جناب سعید بدر صاحب پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر حمید احمد خان کے بہت قریب تھے یوں کہا جا سکتا ہے کہ ان سے فیملی سطح کے مراسم تھے پروفیسر حمید احمد خان کے ساتھ صاحبزادے سعید احمد خان جناب سعید بدر صاحب کے بہت قریبی دوست تھے دونوں نے مل کر لاہور کے فلاح و بہبود کے لیے ایک سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس کی مولانا حامد علی خان نے بھی تعریف کی اور انہوں نے ایک شعر جناب سید احمد خان اور جناب سعید بدر صاحب کے لیے لکھا جو میاں بشیر احمد کے ذاتی پیڈ پر موجود ہے اور یہ سعید بدر آرکائوز کا حصہ ہے 1964 میں سعید بدر صاحب المنظر میں موجود تھے جب میاں بشیر احمد نے جو مسلم لیگ کے بانیان جسٹس میاں محمد شاہدین صاحب ہمایوں اور سر میاں محمد شفیع کے خانوادے میں سے تھے ان کے صاحبزادے تھے اور نے فاطمہ جناح کی مدد کا فیصلہ کیا اور ان کی رہائش کا 32 لارنس روڈ المنظر کو قائد اعظم کے ساتھ ساتھ محترمہ فاطمہ جناح کی میزبانی کا بھی شرف حاصل ہوا اس موقع پر المنظر میں بہت بڑی بڑی شخصیات تشریف لائیں جن سے جناب سعید بدر صاحب کی ملاقاتیں ہوئی اور انہیں پاکستان کی بانیان کے خانوادے سے جو معلومات ملیں وہ عمومی طور پر کتابوں پر موجود نہیں ہیں یہ واقعات وہ اپنے صاحبزادے جناب زابر سعید بدر کو سناتے یہی وجہ ہے کہ جناب زابر سعید بدر تاریخ اور تحقیق کے حوالے سے معروف ہیں. المنظر میں جناب ایئر مارشل اصغر خان سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں اور یہ فیملی مراسم میں تبدیل ہوئیں پاکستان کے سابق وزرائے اعظم چوہدری محمد علی اور ذوالفقار علی بھٹو بھی المنظر تشریف لاتے اور جناب سعید بدر صاحب سے ان کی ملاقاتیں ہوئیں قائد اعظم کے بہت سے قریبی رفیق بھی المنظر میں تشریف لاتے اور جناب سعید بدر صاحب ان سے ملاقاتیں کرتے لندن سے واپسی کے بعد 1991 میں جسٹس شاہدین کے پوتے میاں بشیر احمد کے صاحبزادے میاں منظر بشیر سعید بدر صاحب کے گھر تشریف لائے اور کئی سال کے قیام فرمایا

سالگرہ کا پیغام — Birthday Message

Happy Birthday, dear Abu Jahan

In Jannat al-Firdous you must be resting in peace, surrounded by loved ones. Born in 1939, you would be celebrating your 86th birthday in 2025. Sahibzada Muhammad Zabir Saeed Badar send this heartfelt tribute in loving memory of their father.

Four years ago on this same day we gathered to celebrate your birthday — the cake was cut and the memories remain fresh — yet a year later you embarked on your eternal journey. May Allah grant you the highest place and peace.

"Maut ko samjhe hain ghafil ikhtitama-e-zindagi
hai Yeh shaam-e-zindagi, subah-e-dawam-e-zindagi"
— Allama Iqbal

Time passes swiftly; material comforts have their place, but the tenderness of relationships and the warmth of loved ones are more precious than all worldly things.

تفصیلی تعارف — Detailed Profile

English — Detailed Profile

Mr. Saeed Badr was a distinguished figure in Pakistani journalism, with a lifelong commitment to public service and the printed word. Born in 1939, he experienced the upheavals of 1947 in Firozpur, an event that deeply affected him. His father, Saeen Hakim Muhammad Yaqub Munir Azimi, participated in the Pakistan Movement and served the cause with dedication.

Education: M.A. (Urdu) from Punjab University and Oriental College. Career: Began at WAPDA Khabarnama, later worked with Roznama Jang, and headed the Sunday magazine at Roznama Imroze until its closure in 1991. He served as Director Administration at the Pakistan Model Educational Institutions Foundation alongside Dr. Ghulam Murtaza Malik and launched publications including his own paper Makhzan-e-Iqbal. His son, Zabir Saeed Badar, later adapted this experience into Community Town News, Pakistan’s first community newspaper.

He was counted among the founders of the Pakistan Publication Society and ran an advertising company (Commercial Services & Publicity) in Shahdeen Building. He maintained close professional ties with academics and leaders such as Professor Hamid Ahmed Khan (later Vice Chancellor), Mian Bashir Ahmad, and Mian Manzar Bashir. He also had connections with prominent leaders of the All-India Muslim League and met Madam Fatima Jinnah, participating in critical moments of Pakistan’s political history.

In 1984, when Shahdeen Building was sold to Bank of Credit and Commerce International (BCCI) and certain owners moved abroad, Mr. Saeed Badr suffered grave financial losses that forced him to sell his home. The financial blow remained a painful chapter, but he continued his contributions to journalism, public relations and education until later years.

اردو — تفصیلی تعارف

جناب سعید بدر صاحب پاکستان کے معروف صحافی تھے جنہوں نے پوری زندگی صحافت، تعلیم اور عوامی خدمات میں نمایاں خدمات سر انجام دیں۔ 1939 میں پیدا ہونے والے جناب سعید بدر نے 1947 کے سانحات کو خود دیکھا اور فیروزپور سے ہجرت کا درد برداشت کیا۔ آپ کے والد سائیں حکیم محمد یعقوب منیر عظیمی تحریکِ پاکستان میں سرگرم تھے اور اس مشن میں اہم خدمات انجام دیں۔

تعلیم: ایم۔اے (اردو) پنجاب یونیورسٹی اور اورینٹل کالج سے۔ پیشہ: واپڈا خبرنامہ سے آغاز، بعد ازاں روزنامہ جنگ، اور روزنامہ امروز کے سنڈے میگزین کے ایڈیٹر۔ پاکستان ماڈل ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز فاؤنڈیشن میں بطور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن کام کیا۔ آپ نے متعدد اخبارات و رسائل جاری کیے جن میں مخزنِ اقبال شامل تھا۔ آپ کے صاحبزادے زابر سعید بدر نے اسی تجربے کو آگے بڑھاتے ہوئے کمیونٹی ٹاؤن نیوز شائع کیا۔

آپ پاکستان پبلک ریلیشنز سوسائٹی کے بانیان میں شامل تھے اور شاہدین بلڈنگ میں اپنی ایڈورٹائزنگ کمپنی چلاتے تھے۔ 1984 میں جب شاہدین بلڈنگ بیچی گئی اور بین الاقوامی معاملات نے رخ بدلا تو آپ کو مالی نقصان ہوا اور آپ کو اپنا گھر بھی بیچنا پڑا۔ اس شکست نے آپ کو اندر ہی اندر متاثر کیا مگر آپ نے اپنی خدمات جاری رکھیں۔

یہ تحریر سعید بدر فاؤنڈیشن فار اسپیشل چلڈرن اور زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا اسٹڈیز کے تعاون سے تاریخ کے طالب علموں اور خاندان سے محبت رکھنے والوں کے لیے شائع کی گئی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا