JOSH, PANDIT NEHRU AND URDU , Muhammad Zabir Saeed Badar

 

یادوں کی بارات — جوش ملیح آبادی
JOSH, PANDIT NEHRU AND URDU Muhammad Zabir Saeed Badar
ایک بار، جب، پاکستان سے رخصت لے کر، میں جب دہلی میں پنڈت جواہر لال نہرو سے ملا، تو انہوں نے بڑے طنز کے ساتھ، مجھ سے کہا تھا کہ جوش صاحب، پاکستان کو اسلام، اسلامی کلچر، اور اسلامی زبان، یعنی اردو کے تحفظ کے واسطے بنایا گیا تھا۔ لیکن ابھی کچھ دن ہوئے کہ میں پاکستان گیا اور وہاں، یہ دیکھا کہ میں تو شیروانی اور پاجامہ پہنے ہوئے ہوں لیکن وہاں کی گورنمنٹ کے تمام افسر، سو فیصد، انگریزوں کا لباس پہنے ہوئے ہیں۔ مجھ سے انگریزی بولی جا رہی ہے، اور، انتہا یہ ہے کہ مجھے انگریزی میں ایڈریس بھی دیا جا رہا ہے۔ مجھے اس صورتِ حال سے بے حد صدمہ ہوا، اور میں سمجھ گیا کہ "اردو، اردو، اردو" کے جو نعرے، ہندوستان میں لگائے گئے تھے، وہ سارے اوپری دل سے، اور کھوکھلے تھے۔ اور ایڈریس کے بعد، جب میں کھڑا ہوا تو میں نے اس کا اردو میں جواب دے کر، سب کو حیران و پشیمان کر دیا اور یہ بات ثابت کر دی کہ مجھ کو اردو سے ان کے مقابلے میں، کہیں زیادہ محبت ہے۔ اور جوش صاحب معاف کیجئے، آپ نے جس اردو کے واسطے اپنے وطن کو تج دیا ہے۔ اس اردو کو پاکستان میں کوئی منہ نہیں لگاتا۔ اور جائیے پاکستان۔ میں نے شرم سے، آنکھیں نیچی کر لیں۔ ان سے تو کچھ نہیں کہا، لیکن ان کی باتیں سن کر مجھے یہ واقعہ یاد آ گیا۔ میں نے پاکستان کے ایک بڑے شاندار منسٹر صاحب کو جب اردو میں خط لکھا، اور، ان صاحب بہادر نے، انگریزی میں جواب مرحمت فرمایا تو میں نے جواب الجواب میں یہ لکھا تھا کہ جنابِ والا، میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔ چو کفر از کعبہ برخیزد، کجا ماند مسلمانی
بحوالہ: جوش ملیح آبادی, یادوں کی بارات, صفحہ 532
Zabir Saeed Institute of Media Studies

Note from Editor

اب حالات اور دگرگوں ہو گئے ہیں۔ اردو بالکل اجنبی ہو گئی ہے اس ملک میں۔ نئی نسل اردو جانتی ہی نہیں اور بابو لوگوں نے سب کچھ تباہ کر دیا ہے۔ نظریہ پاکستان بھی کہانی کی طرح سٹوڈنٹس پڑھتے ہیں لیکن اس کی اہمیت سے آگاہ نہیں۔ اس بات کا 1947 میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ ایسی معاشرت وجود میں آئے گی، ایسا سماج وجود میں آئے گا جو اردو زبان سے لاتعلق ہوگا، جو پاکستان کی تحریک کے سارے مقاصد کو نہ جانتا ہوگا، اور ذہنی طور پر بونے ہوں گے۔

— Muhammad Zabir Saeed Badar

© 2025 Zabir Saeed Badar — Zabir Saeed Institute of Media Studies

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا