میڈیا کریسی, میڈیا کیسے سطحیت کو فروغ دیتا ہے, صاحبزادہ زابر سعید بدر

 

بک ریویو: Mediocracy

Book Review: "Mediocracy" by Alain Deneault

ریویو نگار: صاحبـــــــــزادہ محمد زابر سعید بدر
(Zabir Saeed Institute of Media Studies کے زیر اہتمام شائع شدہ)

فہرستِ مضامین (Table of Contents)

ابتدائیہ

دنیا جس برق رفتاری سے بدل رہی ہے، وہاں علم، دانش اور مہارت کے اصل معیارات بھی ہل کر رہ گئے ہیں۔ آج ہم ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں لوگ زیادہ تر پاپ کلچر، میڈیا اور سرمایہ دارانہ سوچ کے زیر اثر اپنی اقدار اور معیار طے کرتے ہیں۔ Alain Deneault کی کتاب "Mediocracy" اسی تضاد کو سامنے لاتی ہے۔

کتاب کا مرکزی خیال

مصنف کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ جدید دنیا میں اوسط درجے کی سوچ اور معیار کو ہی اصل معیار بنا دیا گیا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو نہ تو زیادہ علم رکھتے ہیں نہ تخلیقی صلاحیت، وہی مرکزی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سماج میں اعلیٰ اقدار اور علمی روایت دب کر رہ گئی ہے۔

میڈیا کا کردار

میڈیا نے اس رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔ خبریں ہوں یا تفریحی پروگرام، زیادہ تر مواد فوری دلچسپی اور وقتی مسرت دینے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔

میڈیا بہت نیگیٹو کردار ادا کر رہا ہے

سنجیدہ مباحثے اور تحقیق کو کنارے لگا کر، ہلکی پھلکی اور سطحی گفتگو کو مرکزی مقام دیا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف عوام کی ذہنی تربیت رک گئی ہے بلکہ معاشرے میں گہرائی اور شعور کی جگہ سطحیت نے لے لی ہے۔

ریٹنگ کی دوڑ نے میڈیا کو غلام بنا دیا

ریٹنگ کے دباؤ نے صحافت کو بھی مارکیٹ کی غلامی میں دھکیل دیا ہے۔ سنجیدہ مسائل پر توجہ دینے کے بجائے میڈیا وہی دکھاتا ہے جس سے زیادہ ناظرین اور اشتہار مل سکیں۔

سرمایہ داری کا اثر

سرمایہ داری نے علم کو بھی ایک جنس میں بدل دیا ہے۔ یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے تحقیق اور تخلیق کے بجائے مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق نصاب تیار کرتے ہیں۔ اس سے طلبہ میں علم کی پیاس کم اور نوکری کے لیے ڈگری لینے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔

سطحیت کا فروغ

کتاب کے مطابق، سطحیت نے ہماری زندگیوں میں گہری جڑیں جما لی ہیں۔ سوشل میڈیا، ریئلٹی شوز اور پاپ کلچر نے ایسے ماحول کو عام کیا ہے جہاں سوچنے، سوال کرنے اور تحقیق کرنے کے بجائے صرف وقت گزاری کو اہمیت ملتی ہے۔

تخلیقی صلاحیت میں کمی

تخلیقی سوچ اور گہری فکر رکھنے والے افراد حاشیے پر چلے گئے ہیں۔ ان کی آواز کم سنی جاتی ہے کیونکہ مارکیٹ اور میڈیا صرف اُن کو آگے لاتا ہے جو زیادہ آسان، زیادہ تفریحی اور زیادہ سطحی مواد پیش کرتے ہیں۔

نتیجہ

آلن دونو کی یہ کتاب محض ایک فلسفیانہ تنقید نہیں بلکہ ہمارے دور کا آئینہ ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ اگر ہم نے اوسط درجے کی سوچ کو اصل معیار مان کر چلتے رہے تو علم، تحقیق اور شعور کی روشنی مزید کمزور ہو جائے گی۔ ہمیں ضرورت ہے کہ معاشرے میں سنجیدہ مکالمے، تحقیق اور تخلیقی صلاحیت کو دوبارہ زندہ کریں۔

یہ ریویو Zabir Saeed Institute of Media Studies کے پلیٹ فارم سے طلباء اور طالبات کی شعوری ارتقا کے لیے شائع کیا گیا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا