Hafsa Zabir Saeed A Ray of Hope for Special Children
حفصہ زابر سعید
خصوصی بچوں کے لیے ایک امید — A Ray of Hope for Special Children
حفصہ زابر سعید — خصوصی بچوں کے لیے ایک امید
حفصہ زابر سعید نے یونیورسٹی آف ایجوکیشن، لاہور سے بی ایس (آنرز) خصوصی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے متعدد تربیتی سیشنز، ورکشاپس اور انٹرنشپز کیں اور مختلف اداروں میں خدمات سر انجام دیں۔
ان کا نرم و شفیق لہجہ اور محبت بھرا انداز بچوں کو فوراً اپنی طرف کھینچ لیتا ہے، اس وجہ سے خصوصی بچے ان سے گہری محبت اور اعتماد محسوس کرتے ہیں۔ وہ بین الاقوامی تحقیقی مقالات کا مطالعہ کرتی ہیں اور اپنی معلومات کو عملی کام میں تبدیل کرتی ہیں۔
حفصہ اپنے شوہر، صاحبزادہ محمد زابر سعید بدر (نامور صحافی، میڈیا پرسن، تعلقات عامہ کے ماہر اور متعدد کتابوں کے مصنف) کے تحقیقی و ادبی کام میں معاونت کرتی ہیں اور خود بھی مختلف قومی اخبارات میں کالم اور مضامین لکھتی ہیں۔ حال ہی میں، زابر سعید بدر نے اپنی نئی کتاب کا انتساب حفصہ زابر سعید کے نام کیا ہے — ایک اعزاز جو ان کے کردار اور خدمات کا اعتراف ہے۔
سعید بدر فاؤنڈیشن فار اسپیشل چلڈرن
یہ ادارہ زابر سعید بدر کی طرف سے اپنے والد جناب سعید بدر کی یاد میں قائم کیا گیا ہے۔ ادارے کا مقصد خصوصی بچوں اور ان کے خاندانوں کو عملی، تعلیمی اور سماجی مدد فراہم کرنا ہے — تاکہ ہر بچہ اپنی صلاحیت کے مطابق معاشرے میں باوقار مقام حاصل کر سکے۔
- مقامی اور علاقائی سطح پر جدید ورکشاپس اور تربیتی پروگرامز کا انعقاد۔
- والدین کے لیے آگاہی مہمات اور مشاورت (counseling) تاکہ والدین اپنے بچوں کی صلاحیت سمجھ سکیں۔
- اساتذہ اور کارکنوں کے لیے ٹریننگز تاکہ اسکولوں میں شمولیت (inclusive education) کو فروغ ملے۔
- ریسرچ، پالیسی ایڈوکیسی اور وسائل کی فراہمی — خاص طور پر دیہی اور کمتر خواندہ علاقوں میں پہنچ۔
- اسسٹِو ٹیکنالوجی، دستیاب آلات اور خصوصی مدد (assistive devices) کی رسائی میں آسانی۔
- انٹرنشپ اور والنٹیئر پروگرامز نوجوانوں کو خصوصی بچوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع فراہم کریں گے۔
- وظیفے، مالی معاونت اور سماجی انضمام کے لیے اقدامات۔
کیوں قائم کیا جا رہا ہے؟ پاکستان میں کم خواندگی اور محدود معلومات کی وجہ سے کئی والدین اپنے خصوصی بچوں کی صلاحیتوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ فاؤنڈیشن اس خلا کو پُر کرے گی: تربیت، آگاہی، وسائل، اور عملی مواقع فراہم کر کے بچوں کو باوقار اور مفید شہری بنانے کے لیے۔

Comments