پاکستان میں کتاب کلچر... ایک جائیزہ...زابر سعید بدر

 

📚 پاکستان میں کتاب کلچر:
کیا ہم واقعی پڑھنا چھوڑ رہے ہیں؟

زابر سعید بدر کی ایک ویژوئل تحقیقی رپورٹ

📉 پاکستان میں کتاب پڑھنے کی شرح

🌍 پاکستان بمقابلہ دنیا

✅ حل کے 5 اقدامات

  • 📖 قومی کتاب پالیسی
  • 🏫 ہر اسکول میں لائبریری لازمی
  • 📱 ڈیجیٹل لائبریریوں کا فروغ
  • 🧑‍🏫 والدین و اساتذہ کا کردار
  • 📺 میڈیا مہمات

📊 ڈیٹا ذرائع: Gallup Pakistan, ALA, European Library Indicators, NIH

🧠 تیار کردہ: Zabir Saeed Institute Of Media Studies ZIMS


 یہ رپورٹ زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا سٹڈیز کی طرف سے طلبہ کی رہنمائی کے لیے  جاری کی گئی ہے، تاکہ وہ کتاب کی اہمیت کو سمجھیں اور اسے 
دوبارہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

کتاب پڑھنے کی عادت، جو کبھی ہماری تہذیب کا حسن ہوا کرتی تھی، آج پاکستان میں ماند پڑتی نظر آتی ہے۔ گلی محلے سے لے کر تعلیمی اداروں تک جب آپ دیکھیں تو کہیں بھی کتابوں کی خوشبو کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی سب سے بڑی گواہی گیلپ پاکستان کے تازہ ترین سروے نے دی، جس میں بتایا گیا کہ ہر چار میں سے تین پاکستانی یعنی 75 فیصد لوگ ایسے ہیں جو کسی بھی قسم کی کتاب مہینوں میں ایک بار بھی نہیں پڑھتے۔ بچے جو ابتدائی جماعتوں میں کہانیاں سننے کے لیے بے قرار ہوتے ہیں، جیسے جیسے جماعتوں میں آگے بڑھتے ہیں، امتحانی دباؤ اور نصاب کی کثافت ان کی تخلیقی توجہ کو یرغمال بناتی جاتی ہے۔ انیس سو پچاس کی دہائی میں دیہاتوں میں "آنہ لائبریریاں" ہوا کرتی تھیں، جہاں بچے ایک آنہ یومیہ دے کر خوابوں کی دنیا میں اڑان بھرا کرتے تھے، آج وہی دیہات بجلی اور موبائل کے سہارے تو جگمگا رہے ہیں مگر کتابوں کی گنجلک خاموش ہے۔ شہر کے بڑے تعلیمی مراکز کی حالت مزید دل گیر کرتی ہے۔ اسلام آباد جیسے دارالحکومت میں قومی لائبریری، ایوانِ قائد، سی ڈی اے پبلک لائبریری جیسے ادارے ویرانی کا شکار ہیں۔ شام ڈھلے جب پارکوں میں شور مچتا ہے، لائبریریوں کی کرسیاں خالی کھٹکتی ہیں۔ لائبریری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نوجوان اب "اسکرول" کرنا پسند کرتے ہیں، "پڑھنا" نہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہماری معیشت بھی ہے۔ ایک ہزار روپے کا شورما یا پندرہ سو کا پیزا خریدنے میں ہاتھ نہیں کانپتا، مگر جب دو سو روپے کی کتاب کی باری آتی ہے تو ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ "یہ مہنگی ہے"۔ اسی لیے پرانی کتابوں کی دکانیں بھی اب چند ہاتھوں تک محدود ہو گئی ہیں، جہاں پہلے اردو، انگریزی اور Persian کی خوشبو اڑا کرتی تھی، اب وہاں بھی صرف نصابی گائیڈز اور نوٹس بکس کی چمک دمک نظر آتی ہے۔ نوجوان طلبہ و طالبات سے جب بات کی جاتی ہے تو ان کا کہنا ہے کہ "ہمیں وقت ہی نہیں ملتا"۔ تعلیمی اداروں میں امتحانی نمبرات کی دوڑ نے انہیں اتنا مصروف رکھا ہے کہ وہ کورس کی کتب کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف دیکھ ہی نہیں پاتے۔ اور جب کبھی دل چاہتا ہے تو موبائل اسکرین پر پی ڈی ایف کھول لیتے ہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ واقعی پڑھ بھی لیتے ہیں؛ اسکرولنگ اور سوشل میڈیا کی نوٹیفکیشنز توجہ چرا لیتی ہیں۔ نیشنل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ کے ایک سروے کے مطابق یونیورسٹی سطح پر 74 فیصد طلبہ ای بکس کو ترجیح دیتے ہیں، مگر اس کا بنیادی سبب کتاب کی دستیابی اور قیمت دونوں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پرنٹ میں نوٹس لینا آسان ہے، مگر جب کتاب مہنگی ہو یا ملے ہی نہیں تو پی ڈی ایف ہی سہارا ہے۔ یہ صورتحال صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے ممالک میں بھی پرنٹ بکس کی فروخت میں کمی آئی ہے، لیکن ان کا ردِعمل ہمارے مقابلے میں مختلف ہے۔ وہاں کی لائبریریاں اب "ڈیجیٹل ہب" میں تبدیل ہو رہی ہیں۔ امریکہ کی کمیونٹی کالجز میں 94 فیصد ای بکس کا استعمال ہو رہا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہاں کے طلبہ کو ہفتہ واری "ریڈنگ سرکلز" اور لائبریری ورکشاپس کی سہولت حاصل ہے۔ فن لینڈ جیسے ملک میں تو پرائمری سکولز کے نصاب میں ہر ہفتے ایک مکمل دن لائبریری کے لیے مخصوص ہے، جہاں بچے اپنی پسند کی کہانیاں چنتے، پڑھتے اور اس پر بحث کرتے ہیں۔ فرانس میں یونیورسٹی طلبہ ہر سال اوسطاً 28 ڈیجیٹل آرٹیکلز پڑھتے ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ وہاں کی پبلک لائبریریاں بھی آباد ہیں کیونکہ وہاں کتاب کی قیمت کم اور رسائی آسان ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں صورتِ حال یہ ہے کہ 200 ملین آبادی کے ملک میں سرکاری سطح پر صرف 182 پبلک لائبریریاں ہیں، جن میں سے اکثر یا تو عمارتوں کی کمی کا شکار ہیں یا سہولیات کے فقدان سے دو چار ہیں۔ پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن نے حالیہ برسوں میں کچھ موبائل لائبریریوں کا آغاز کیا، مگر وہ بھی بڑے شہروں تک محدود ہیں۔ دیہی علاقوں میں تو کتاب کی دکان یا لائبریری کا تصور بھی معدوم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارا تعلیمی بجٹ بھی ہے۔ UNESCO کے مطابق پاکستان اپنی جی ڈی پی کا صرف 2.3 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے، جبکہ فن لینڈ جیسے ملک میں یہ شرح 7.2 فیصد ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ہم اس زوال کو روک سکتے ہیں؟ جواب ہے جی ہاں، بشرطیکہ ہم کچھ عملی اقدامات کریں۔ سب سے پہلے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی سطح پر ایک قومی کتاب پالیسی مرتب کی جائے، جس کے تحت بچوں اور نوعمر افراد کے لیے کم قیمت پر دلچسپ کتابیں چھاپی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر سکول اور کالج میں ایک بنیادی لائبریری لازمی قرار دی جائے، جہاں ہر مہینے نئی کتابیں شامل کی جائیں۔ اساتذہ کو بھی یہ ذمہ داری دی جائے کہ وہ ہر ہفتے کم از کم ایک کلاس ریڈنگ کے لیے مخصوص کریں، جہاں طلبہ کو کہانی، ناول یا سائنس کی دلچسپ کتاب پڑھ کر سنائی جائے۔ دوسرا اہم قدم یہ ہوگا کہ ہم ڈیجیٹل ریڈنگ کو بھی فروغ دیں، مگر منظم انداز میں۔ پی ڈی ایف تو سب ڈاؤن لوڈ کر لیتے ہیں، مگر پڑھتے کم ہیں۔ اس کے لیے موبائل ایپس بنائی جائیں جن میں ریڈنگ ٹریکنگ ہو، جیسے "گڈ ریڈز" جیسی عالمی ایپس۔ نیز سوشل میڈیا پر کتابیں پڑھنے والے انفلوئنسرز کو فروغ دیا جائے، تاکہ نوجوان نسل کو یہ پیغام ملے کہ "کولڈ کافی" کے ساتھ "کولڈ ریڈنگ" بھی ایک اسٹائل ہے۔ تیسرا اور سب سے اہم قدم یہ ہے کہ ہم کتاب کو مہنگا ہونے سے بچائیں۔ ناشرین کو ٹیکس چھوٹ دی جائے، کاغذ کی درآمد پر ڈیوٹی کم کی جائے، تاکہ 200 صفحات کی ناول 200 روپے میں دستیاب ہو سکے۔ اسی طرح پرانی کتابوں کی مارکیٹوں کو بھی ریگولیٹ کیا جائے، تاکہ طلبہ اور کم آمدنی والے افراد بھی کتابیں خرید سکیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم کتاب کی اہمیت کو گھریلو سطح پر بھی اجاگر کریں۔ والدین اگر خود کتاب نہیں پڑھیں گے تو بچے بھی نہیں پڑھیں گے۔ اس کے لیے ہفتہ واری "بک کلب" یا "فیمِلی ریڈنگ نائٹ" جیسے پروگرام متعارف کروائے جائیں، جہاں پورا خاندان ایک ہی کتاب پڑھے اور اس پر بات چیت کرے۔ اسکولوں میں بھی "ریڈنگ کمپیٹیشن" منعقد کئے جائیں، جہاں انعامات کا دارومدار کتاب ریویوز پر ہو۔ میڈیا کا کردار بھی اس میں کلیدی ہے۔ ہمارے ٹی وی چینلز کھانوں، فیشن اور سیاست پر گھنٹوں پروگرام کرتے ہیں، مگر کتابوں کے لیے وقت کم ہوتا ہے۔ اگر ہفتہ واری ایک گھنٹہ بھی کسی مشہور شخصیت کی کتاب پڑھنے اور اس پر گفتگو کے لیے مخصوص کیا جائے تو اس کا اثر بڑے پیمانے پر ہوگا۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر کتاب پڑھنے والے بلاگرز اور یوٹیوبرز کو بھی سرکاری سطح پر پروموٹ کیا جائے، تاکہ نوجوان نسل کو یہ پیغام ملے کہ "کتاب پڑھنا کوئی بورنگ کام نہیں، بلکہ ایک اسٹائل ہے"۔ اختتام پر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ کتاب پڑھنے کی عادت صرف ایک شخصی فائدہ نہیں بلکہ قومی ترقی کا ضامن بھی ہے۔ جن قوموں نے کتاب کو اپنا لیا، وہی آج سائنس، ٹیکنالوجی اور فنون میں سر فہرست ہیں۔ ہمیں بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم ایک ایسی نسل چاہتے ہیں جو صرف "اسکرول" کرے یا ایسی نسل چاہتے ہیں جو "ریڈ" بھی کرے اور "لیڈ" بھی کرے۔ اگر ہم نے آج یہ فیصلہ نہ کیا تو کل ہم ایک ایسی قوم بن جائیں گے جس کے پاس موبائل تو ہوگا، مگر مائنڈ خالی ہوگا۔


 یہ رپورٹ زابر سعید انسٹیٹیوٹ آف میڈیا سٹڈیز کی طرف سے طلبہ کی رہنمائی کے لیے جاری کی گئی ہے، تاکہ وہ کتاب کی اہمیت کو سمجھیں اور اسے دوبارہ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا