ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا
انسیل کیا ہے
{ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا وقت آ گیا ہے... }
صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر
"انسیل" ایک آن لائن کمیونٹی یا آئیڈیالوجی نہیں، بلکہ اب یہ ایک خوفناک، پرتشدد ذہنی رویہ بن چکا ہے۔
Incel لفظ
کا مطلب ہے
"وہ مرد یا لڑکے جو اپنی مرضی سے نہیں، بلکہ معاشرتی یا جسمانی وجوہات کی بنا پر جنسی یا رومانی تعلقات سے محروم رہ گئے ہوں۔" اس محرومی کو یہ افراد معاشرتی یا صنفی ناانصافی نہیں بلکہ "عورت کی بغاوت" سمجھتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی لڑکی ان کی محبت یا جنسی پیش قدمی کو رد کرے، تو یہ ان کی نظر میں توہین ہے، اور اس کا بدلہ لینا واجب ہے۔
یہ وہی نفسیات ہے جو ثناء یوسف کے قتل میں جھلکتی ہے۔ قاتل، جو خود کو ثناء کی محبت کے قابل سمجھتا تھا، اس انکار کو برداشت نہ کر سکا، اور اس کی جان لے لی۔ یہ محض ایک شخص کا غصہ نہیں، بلکہ پورے انسل کلچر کا عملی اظہار ہے۔
نیٹ فلکس کی فلم Adolescence
نیٹ فلکس کی فلم Adolescence (جس کے کچھ اجزاء حالیہ برسوں میں مختلف عنوانات سے دکھائے گئے) ایک تیرہ سالہ لڑکے کی کہانی ہے جو اپنی ہم جماعت لڑکی کو صرف اس لیے قتل کر دیتا ہے کہ وہ اس کی محبت کا جواب نہیں دیتی۔ یہ فلم اس بات کو بڑی دردناکی سے دکھاتی ہے کہ کس طرح نوعمر ذہن "رد کیے جانے" کو اپنی ذات کی تضحیک سمجھنے لگتے ہیں، اور پھر انٹرنیٹ پر موجود پرتشدد کمیونٹیز جیسے Incel انہیں انتقام کے لیے اکسانے لگتی ہیں۔
یہ فلم صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ پوری دنیا میں جنسی استحقاق اور طاقت کے درمیان گھٹتی ہوئی لکیر کا نوحہ ہے۔
انسیل آئیڈیالوجی
2022
میں National Library of Medicine میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انسیل ذہنیت رکھنے والے افراد کی چند مشترکہ خصوصیات یوں بیان کی گئی ہیں:
1. وہ سمجھتے ہیں کہ عورتیں صرف خوش شکل، دولت مند یا سوشل سٹیٹس والے مردوں کو پسند کرتی ہیں، اور یہ "ناانصافی" ہے۔
2. ان کے نزدیک عورت کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہونا چاہیے کہ وہ جنسی یا رومانوی تعلق میں کسے منتخب کرے۔
3. وہ فیمنزم سے شدید نفرت کرتے ہیں، اسے عورتوں کی بغاوت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔
4. وہ یقین رکھتے ہیں کہ مرد کو عورت پر قدرت ہونی چاہیے، اور انکار کرنے والی عورت کو "سزا" دینا مرد کا حق ہے۔
یہ ذہنیت رفتہ رفتہ ایک کھیل کی صورت اختیار کر چکی ہے جس میں لڑکی کو "فتح" کرنا، یا رد کیے جانے پر "سبق سکھانا" مرد کی طاقت کا اظہار بن چکا ہے۔
پاکستان میں انسیل ذہنیت
پاکستان جیسے ملک میں جہاں صنفی تعلیم، ذہنی صحت اور ڈیجیٹل لٹریسی کا شدید فقدان ہے، وہاں انسیل ذہنیت کا پھیلاؤ خاصا خطرناک ہے۔ سوشل میڈیا، یوٹیوب، اور چیٹنگ ایپس پر نوجوان لڑکوں کے درمیان "ریجیکٹ ہونے" کی داستانیں، "میرے جسم میری مرضی" کا مذاق، عورتوں کے لباس یا عادتوں پر تبصرے، اور 'غیرت' کی آڑ میں قتل کے جواز تلاش کرنا , سب اسی ذہنیت کے مظاہر ہیں۔
ثناء یوسف کے قتل پر جو سوشل میڈیا تبصرے سامنے آئے، ان میں کئی افراد قاتل کو "محبت میں ناکام عاشق" کے طور پر پیش کر رہے ہیں، بعض اس ظلم کا جواز نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، اور کچھ اسے ایک "مردانہ غیرت کا اظہار" قرار دیتے ہیں۔ یہ وہی سوچ ہے جو انسیل آئیڈیالوجی کی جڑ ہے: کہ عورت کی مرضی کی کوئی حیثیت نہیں۔
کیا کیا جانا چاہیے؟
یہ موقع ہے کہ ریاست پاکستان اور سوشل میڈیا ریگولیٹرز اس نئی جنسی دہشتگردی کا فوری نوٹس لیں:
1. سوشل میڈیا پر انسیل ذہنیت کے حامل افراد کو مانیٹر کیا جائے۔ جو افراد خواتین کے خلاف مسلسل نفرت انگیز زبان استعمال کرتے ہیں، ان کو فوری طور پر شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
2. قومی سطح پر ایک خصوصی سائبر مانیٹرنگ سیل بنایا جائے جو انسیل مواد، ہراسگی، اور جنسی تشدد کی ترغیب دینے والی پوسٹس کو فوری ہٹا سکے۔
3. ذہنی صحت کے ادارے اور ماہرین نفسیات ایسے نوجوانوں کے لیے ہیلپ لائنز اور کاؤنسلنگ سنٹرز قائم کریں جو ریجیکشن یا فرسٹریشن کا شکار ہوں۔
4. تعلیمی اداروں میں صنفی شعور اور تعلقات کی تعلیم کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نوجوان لڑکوں کو عورت کی انفرادی حیثیت، رضامندی، اور خودمختاری کا شعور دیا جا سکے۔
5. ریاست اپنی قوت کا مظاہرہ اپنے معاشرے کے ان ذہنی دہشت گردوں کے خلاف بھی کرے جو سوشل میڈیا پر آزادانہ نفرت پھیلا رہے ہیں۔
ایک اختتامی نوٹ
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں عورت کے "نہ" کہنے کا مطلب اس کی جان کو خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ لڑکیوں کے کپڑوں، ان کی آواز، یا ان کے سوشل میڈیا پر ہونے سے نہیں، بلکہ لڑکوں کی ذہن سازی، ان کے رویوں اور ان کی پرورش میں ہے۔
یہ وہ وقت ہے جب ہمیں ہر گھر، ہر تعلیمی ادارے، اور ہر آن لائن پلیٹ فارم پر ایک ہی پیغام دینا ہوگا:
"انکار محبت کی توہین نہیں، ایک فرد کا حق ہے۔ اور محبت کی بنیاد رضامندی ہے، جبر نہیں۔"
ورنہ ہم سب ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہوں گے جہاں ہر لڑکی کو اپنی زندگی بچانے کے لیے محبت سے بھاگنا پڑے گا۔
صاحبـــــــــزادہ محمدزابرسعیدبدر

Comments