ذرائع ابلاغ، ہیرو ازم، اور خواتین پر ثقافتی تشدد: ایک تنقیدی جائزہ

 عنوان: ذرائع ابلاغ، ہیرو ازم، اور خواتین پر ثقافتی تشدد: ایک تنقیدی جائزہ

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر




اس ریسرچ پیپر  میں ذرائع ابلاغ میں پیش کیے جانے والے ایسے مندرجات کا تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے جو نوجوانوں، بالخصوص مرد حضرات، کو خواتین کے انکار کو نظر انداز کرنے اور انہیں جنسِ مخالف کے طور پر غیر انسانی انداز میں دیکھنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ فلموں اور ڈراموں میں دکھایا جانے والا 'ہیرو' دراصل ایک ایسا 'زیرو' بن چکا ہے جو مردانگی کے زہریلے تصورات کو فروغ دیتا ہے، اور جس کے زیر اثر نئی نسل خواتین کے خلاف نفسیاتی، سماجی اور حتیٰ کہ جسمانی تشدد کو ایک فطری عمل سمجھنے لگتی ہے۔ مضمون میں گزشتہ ایک صدی کی نمایاں سماجی و ذرائع ابلاغی تھیوریز اور مطالعات کے حوالے سے ان رویوں کی تشکیل، فروغ اور تباہ کاریوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔


تعارف


پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں عورت کا احترام ایک مذہبی، سماجی اور اخلاقی تقاضا ہے، وہاں عورت کو 'غیرت' اور 'عزت' کا استعارہ بنا کر محدود کر دیا گیا ہے۔ جب کوئی عورت اپنی آواز بلند کرتی ہے، یا کوئی عورت اپنی مرضی سے جینے کی کوشش کرتی ہے، تو معاشرے کی ایک قابلِ ذکر تعداد اسے 'بے حیا'، 'بے غیرت' یا 'مغرب زدہ' قرار دیتی ہے۔


یہ بیانیہ صرف مذہبی حوالوں تک محدود نہیں بلکہ فلموں، ڈراموں اور سوشل میڈیا پر موجود مواد سے مسلسل تقویت پاتا ہے۔ فلموں میں جب شاہ رخ خان یا سلمان خان جیسے ہیرو کسی لڑکی کے پیچھے گیت گاتے ہوئے جاتے ہیں، اور لڑکی انکار کرتی ہے مگر بالآخر مان جاتی ہے، تو ناظرین میں یہ پیغام راسخ ہوتا ہے کہ "نہ کا مطلب ہاں ہوتا ہے"۔


ایسے مندرجات سوشل لرننگ تھیوری کے تحت نوجوانوں میں تقلید کے رجحان کو بڑھاتے ہیں، جہاں وہ فلمی کرداروں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں کہ مزاحمت کا مطلب یہ ہے کہ عورت توجہ مانگ رہی ہے، اور ضد اور جارحیت کے ذریعے اسے قائل کیا جا سکتا ہے۔[1]


ثقافتی تسلسل اور ذہن سازی


جارج گربنر کی کلٹیویشن تھیوری کے مطابق اگر کوئی فرد مسلسل ایک ہی قسم کے بیانیے کا سامنا کرتا ہے تو وہ تصور حقیقت بن جاتا ہے۔[2] پاکستان اور بھارت کے ڈرامے اور فلمیں پچھلے سو سال سے ایک ہی قسم کی صنفی کشش، مخالفت، اور پھر رومانوی قبولیت کو فروغ دے رہی ہیں۔ جب کوئی فلمی ہیرو موٹر سائیکل پر بال اڑاتے ہوئے گاتا ہے اور لڑکی اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے، تو نوجوان لڑکے بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ اچھے کپڑے پہنیں، مہنگی گاڑی میں آئیں، اور زبردستی رومانس کریں تو کامیابی ملے گی۔


مردانگی کا یہ زہریلا تصور، جسے رایوِن کونل نے 'ہیجیمونک میسکلینیٹی' (Hegemonic Masculinity) کہا ہے، مردوں کو طاقت، غلبہ، اور خواتین پر کنٹرول کو مردانگی کا پیمانہ سمجھنے پر مجبور کرتا ہے۔[3] یہ نظریہ پاکستان میں نہ صرف فلمی مواد بلکہ عام گفتگو، اشتہارات، اور تعلیمی اداروں میں موجود روّیوں میں بھی راسخ ہو چکا ہے۔


خواتین کا دوہرا کردار: ایک داخلی جبر


بدقسمتی سے، معاشرے میں خواتین بھی اس بیانیے کی شکار ہو چکی ہیں۔ ایک بیٹی جب اپنی ماں کی وفاداری اور خاموشی کو 'بردباری' سمجھتی ہے، یا ایک بھابھی دوسری عورت کو 'حد سے بڑھی ہوئی' قرار دے کر تنقید کا نشانہ بناتی ہے، تو وہ بھی اسی نظام ظلم کو تقویت دے رہی ہوتی ہے۔


پاکستانی معاشرے میں بے شمار مثالیں موجود ہیں جہاں عورت ہی دوسری عورت پر الزام لگا کر اس کے خلاف تشدد کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ یہ خواتین کسی بیرونی جبر سے نہیں، بلکہ داخلی طور پر اس نظام کو قبول کر کے خود کو مظلوم بنانے پر راضی ہو جاتی ہیں۔


ذرائع ابلاغ اور ذہن سازی


پاکستانی ڈراموں اور فلموں میں ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں مرد ہیرو عورت کو زبردستی شادی پر مجبور کرتا ہے، یا طلاق کے بعد اسے دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ "اگر میری نہیں تو کسی کی نہیں" کا بیانیہ بھی ان ہی فلمی اور ثقافتی متون کا شاخسانہ ہے۔ 1990 کی دہائی میں بھارتی فلم "دار" (Darr) اور پاکستانی ڈرامہ "میرے پاس تم ہو" اس کی کلاسیکل مثالیں ہیں۔[4]


یہ فلمی مندرجات نہ صرف ذہن سازی کرتے ہیں بلکہ مجرم کے لیے جواز بھی پیدا کرتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں ایسے کئی کیسز سامنے آئے ہیں جہاں مرد قاتل یا تشدد کرنے والا شخص یہ کہتا پایا گیا کہ "اس نے عزت خراب کی تھی"۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر ایسے افراد کو عوامی حمایت بھی حاصل ہو جاتی ہے۔[5]


تحقیقی جائزہ اور نتیجہ


سماجیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ مسلسل تشددی بیانیے کے زیرِ اثر افراد میں 'ڈی سنسیٹائزیشن' ہو جاتی ہے، یعنی وہ حساسیت کھو بیٹھتے ہیں، اور مظلوم کو ہی مجرم سمجھنے لگتے ہیں۔[6] فلمی ہیرو ازم نے ناظرین کے ذہنوں میں عورت کو 'چیز' کے طور پر پیش کیا ہے جو اگر مرد کی ہو جائے تو اچھی ہے، ورنہ 'خراب' ہے۔


ہمیں ذرائع ابلاغ کے ان پہلوؤں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو بظاہر تفریح فراہم کرتے ہیں مگر دراصل سماجی ذہنوں کو زہر آلود کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی نسلوں کو بچانا ہے تو نہ صرف میڈیا ریگولیشن کی ضرورت ہے بلکہ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں 'میڈیا لٹریسی' کو نصاب کا حصہ بنانا ہو گا تاکہ بچے اور بچیاں سیکھ سکیں کہ ہر مسکراہٹ ہاں نہیں ہوتی، اور ہر انکار کو نہ ماننا مردانگی نہیں بلکہ مجرمانہ ذہنیت ہے۔

_________________________

References

[1] Albert Bandura, Social Learning Theory (Englewood Cliffs, NJ: Prentice-Hall, 1977).


[2] George Gerbner and Larry Gross, "Living with Television: The Violence Profile," Journal of Communication 26, no. 2 (1976): 172–199.


[3] R. W. Connell, Masculinities (Cambridge: Polity Press, 1995).


[4] Karan Johar, Darr, Film (India: Yash Raj Films, 1993); Khalil-ur-Rehman Qamar, Meray Paas Tum Ho, Drama (Pakistan: ARY Digital, 2019).


[5] Rabia Mehmood, "Pakistan’s Victim-Blaming Culture," Al Jazeera, August 14, 2020, https://www.aljazeera.com/opinions/2020/8/14/pakistans-victim-blaming-culture.


[6] L. Rowell Huesmann and Nancy Eron, Television and the Aggressive Child: A Cross-National Comparison (Hillsdale, NJ: Lawrence Erlbaum Associates, 1986).




Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا