سائبر ویجی لینس سیل کا قیام, اہم ضرورت

 ارباب اختیار سے چند گزارشات

صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر


1. ذہنی و اخلاقی انتہاپسندی کی تعریف اور نوعیت:

یہ محض سیاسی یا مذہبی انتہاپسندی نہیں بلکہ ایک اخلاقی و سماجی بگاڑ ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے افراد کی ایک واضح قسم پائی جاتی ہے جو ہر مسئلے پر نفرت انگیز، تضحیک آمیز اور انتقامی کمنٹس کرتے ہیں۔ ان کے کمنٹس میں اکثر کسی مخصوص طبقے، صنف، یا نظریے کے خلاف شدت پائی جاتی ہے، اور یہ رویہ آگے چل کر معاشرتی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

2. حکومت کی ممکنہ پالیسی

ایک ایسی پالیسی جسے "سائبر نفرت کی روک تھام و ذہنی صحت بحالی پروگرام" کا نام دیا جا سکتا ہے، درج ذیل اقدامات پر مشتمل ہو سکتی ہے:


سائبر ویجی لینس سیل (Cyber Vigilance Cell): FIA اور PTA کے تحت ایک خصوصی یونٹ قائم کیا جائے جو سوشل میڈیا پر نفرت انگیز، ذہنی بیماری پر مبنی اور تخریب کار تبصروں کی مسلسل نگرانی کرے۔


تین درجوں کی وارننگ پالیسی:


پہلی بار: ڈیجیٹل وارننگ، سائیکو ایجوکیشن ویڈیو کے ساتھ۔


دوسری بار: سائبر تھراپی پروگرام میں رجسٹریشن کی شرط۔


تیسری بار: قانون کے مطابق گرفتاری، سائبر کرائم ایکٹ، PECA 2016 کی شق 11 اور 20 کے تحت۔


نفسیاتی بحالی سینٹرز: ان افراد کو عدالت کی ہدایت پر نفسیاتی و معاشرتی تربیت کے لیے اسپیشل تھراپی سینٹرز بھیجا جائے جہاں ماہرینِ نفسیات اور سوشیالوجسٹ ان کی رویہ جاتی بحالی کا عمل شروع کریں۔


3. سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری:

حکومت پاکستان فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز سے باقاعدہ MOU سائن کرے کہ وہ مقامی قوانین کے مطابق نفرت انگیز اور بیمار ذہنیت کی حامل پوسٹس کو خودکار طور پر رپورٹ اور بلاک کریں۔


4. میڈیا اور ڈرامہ انڈسٹری کی تطہیر:

 90 کی دہائی کے بعد بھارتی ثقافتی یلغار نے ہماری اخلاقیات کو دیمک کی طرح چاٹ لیا۔ اس کا حل یہ ہے کہ:


پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) تمام نجی چینلز پر کم از کم 30% مواد اصلاحی، تعمیری اور خاندانی اقدار پر مشتمل ہونے کی شرط رکھے۔


ایسے ڈراموں پر پابندی لگائی جائے جو سازشی، غیر حقیقی اور رشتوں کی تذلیل پر مبنی ہوں۔


5. سائنسی بنیادوں پر انسل (incel) کلچر اور ذہنی بیماروں کا تدارک:

یورپ اور امریکہ میں انسل اور misanthropic کلچر کے سدباب کے لیے Cognitive Behavioral Therapy (CBT)، Social Reintegration Programs، اور Digital Detox Retreats استعمال کیے گئے ہیں۔ ان ماڈلز کو پاکستان میں نفسیاتی تناظر میں مقامی طور پر ڈھالا جا سکتا ہے۔


6. معاشرتی سطح پر حل:


تعلیمی نصاب میں میڈیا لٹریسی، اخلاقی نفسیات اور آن لائن رویوں کی تربیت شامل کی جائے۔


مدارس، مساجد، اور تعلیمی اداروں میں “رحمۃ للعالمین” پروگرام کو اس کے اصل پیغام کے ساتھ، یعنی نرم خوئی، صبر، اور برداشت کی تربیت کے ساتھ مربوط کیا جائے۔


7. حکومت پاکستان کے لیے گزارشات:


وزارتِ مذہبی امور، صحت اور تعلیم کو مشترکہ طور پر نفسیاتی و اخلاقی صحت کا ایک قومی پروگرام ترتیب دینا چاہیے۔


نفسیاتی ہیلپ لائنز قائم کی جائیں جو بلا معاوضہ سوشل میڈیا پر نفرت کا شکار یا پھیلانے والے افراد کو مدد فراہم کر سکیں۔


ایسے افراد کے لیے ریکارڈڈ ری ہیبیلیٹیشن کورسز بنائے جائیں جو عدالتی وارننگ کے بعد ان کو مکمل کرنا لازمی ہوں۔


آخر میں، ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سماجی توازن کا دشمن محض سیاسی انتہا پسندی نہیں بلکہ ذہنی و اخلاقی انحراف بھی ہے۔ آپ کی یہ سوچ کہ “جس کے ہاتھ میں فون ہے وہ اپنے آپ کو راجیش کھنہ یا ہما مالنی سمجھتا ہے” ایک علامتی جملہ ہے جو موجودہ ثقافتی و ذہنی انحطاط کو چیر کر دکھا دیتا ہے۔

جاری


#صاحبـــــــــزادہ_محمدزابرسعیدبدر

Comments

Popular posts from this blog

ایک امریکی نے اپنی شادی کو محفوظ کیسے بنایا, زابر سعید بدر

ڈیورنڈ لائن, تاریخی حقائق اور پاک-افغان تعلقات / صاحب زادہ محمد زابر سعید بدر

ذہنی بیماروں کو پکڑنے کا. وقت آن پہنچا